اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مڈل ایسٹ آنلائن نے نام درج کئے بغیر، ایک سعودی دانشور کا پیغام شائع کیا ہے جس میں انھوں نے خطے کے انقلابی ممالک کو خبر دار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب جیسا استبداد اپنے معاشروں پر مسلط نہ ہونے دیں۔
اس گمنام سعودی دانشور نے وہابیوں کی استبدادی حکمرانی کے سلسلے میں سعودی عوام کے تلخ تجربات اور لاقانونیت کی حکمرانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب قانون نہ ہو تو جج حضرات بے گناہ ملزمان کو بری کرنے کے بجائے انہیں کوڑوں کی سزا سناتے ہیں!!
انھوں نے انقلابی اقوام سے مخاطب ہوکر لکھا ہے: ایسی حکومت میں ہرگز توقع نہ رکھیں کہ جج بروقت عدالت میں اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہوجائے یا اپنے آپ کو کام کے مقررہ اوقات کا پابند سمجھے، آپ کا کیس جتنا بھی ملتوی ہوتا رہے آپ کو صبر و انتظام کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئے کیونکہ اگر ایسے نظام میں صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ اللہ کی نافرمانی کے مرتکب ہوئے ہیں اور ایسی صورت میں آپ جو شاید مدعی تھے مدعا علیہ کی حیثیت اختیار کریں گے اور آپ کا مدعی ہی قاضی بھی ہوگا اور آپ کو خدا کی نافرمانی کی ہر سزا بھگتنے کے لئے تیار رہنا پڑے گا خواہ وہ سزا کتنی ہی سخت کیوں نہ ہو۔
اس سعودی لکھاری نے سعودی عرب میں آزادیوں کی نوعیت، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عنوان سے وہابی پولیس کے کرتوتوں کی طرف ضمنی اشارہ کرتے ہوئے کہا: آپ کے ملکوں میں وہابی مفتیوں کے سہارے قائم آل سعود کے استبدادی نظام جیسا نظام براقتدار آنے کی صورت میں آپ کو ماننا پڑے گا کہ آپ اپنی عورتوں کے معاملات سدھارنے سے عاجز ہیں اور اپنی نجی معاملات اور ناموس کے تحفظ کے حوالے سے آپ کے پاس غیرت کی بھی کافی کمی ہے چنانچہ یہ نظام آپ کی نمائندگی میں غیرت کی ذمہ داری بھی اپنے ذمے لے گا اور آپ کے لئے نہی عن المنکر فورس تشکیل دے گا، خواتین سرکاری اداروں یا حتی روزمرہ خریداری کے لئے بھی محرم کے ہمراہ گھر سے نکل سکیں گی اور حتی خواتین کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو تو اس کو قومی شناختی کارڈ سے محروم رکھا جائے گا اور وہ ووٹ بھی نہیں دے سکے گی کیونکہ یہ سب غیرت کے تقاضے ہیں جسے آپ نہیں سمجھتے۔...............
/169