اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی روزنامے ڈیلی میل نے لکھا ہے کہ سعودی عرب کے 56 سالہ دولتمند شہزادے ولید بن طلال ـ جس کی مجموعی دولت 12،3 ارب پونڈ سے تجاوز کرگئی ہے ـ کو اسپین کی عدالت کی طرف سے اس ملک کے ساحلی شہر ایبیزا (Ibiza) میں ایک 20 سالہ لڑکی سے زنا بالجبر کے ارتکاب پر مطلوب قرار دیا گیا ہے۔ ولید بن طلال بن عبدالعزیز پر الزام ہے کہ اس نے 2008 میں اسپین کے ساحلی شہر ابییزا میں شراب کے نشے میں دھت ایک 20 سالہ لڑکی پر مجرمانہ حملہ کیا اور اس پر زيادتی کا ارتکاب کیا اور ولید بن طلال قابل ذکر ہے کہ ولید بن طلال سمیت آل سعود کے تمام شہزادے جزیرة العرب کے عوام کے تیل سے مالامال ملک کی دولت کے مالک بنے بیٹھے ہیں اور اگر وہ خود ارب پتی ہیں تو سعودی عرب کے اسی فیصد عوام کرائے کے مکانوں میں رہنے پر مجبور ہیں اور حقیقت یہی ہے کہ ایک شخص یا ایک خاندان صرف اسی وقت دولتمند ہوجاتا ہے جب ایک فرد یا ایک کنبہ یا ایک معاشرہ غربت و افلاس کا شکار ہوجاتا ہے اوراس حقیقت کی ایک زندہ مثال آل سعود سمیت دنیا کے مختلف ممالک پر مسلط مستبد حکمران ہیں جن کو حکومت کا جواز دنیا کے بسیارخوار ممالک کی حمایت سے ملتا ہے اور انہیں عوامی رائے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کہا جاتا ہے کہ ولید بن طلال بن عبدالعزیز نے 2008 میں ایک اسپین کے شہر ابییزا کے ایک نائٹ کلب میں بے تحاشا شراب نوشی کے بعد نشے میں دھت ایک ہسپانوی ماڈل پر مجرمانہ حملہ کرکے اس کے ساتھ زنا بالجبر کا ارتکاب کیا۔ یاد رہے کہ اس شخص نے رابرٹ مردوخ کے میڈیا گروپ اور لندن کے سٹی گروپ میں سرمایہ کاری کی ہے وہ دنیا کے دولتمند ترین افراد میں چھبیسویں نمبر پر ہے۔ وہ سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کا بھتیجا ہے اور اس نے سنہ 2005 میں لندن کا ساووئے ہوٹل (Savoy Hotel London) پچیس کروڑ پونڈ ادا کرکے خریدا تھا۔
.............
/110
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
شیعہ عالم کو اغوا کرنے کی ناکام کوشش / متعدد خبریں اور رپورٹیں