اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی- ابنا - کی رپورٹ کے مطابق آل سعود نے اتوار کی شام کے وقت ایک نوجوان حسین آل طرموخ کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا۔حسین آل طرموخ کو شہر القطیف میں داخل ہوتے ہی آل سعود کے گماشتوں نے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا اور سعودی اہلکار عوام کے اس مطالبے کی طرف توجہ نہیں دے رہے ہیں کہ انہیں کس مقام پر رکھا گیا ہے اور ان کی صحت و سلامتی کے بارے میں بھی کچھ بتانے سے گریز کررہے ہیں۔ آل طرموخ کے علاوہ دو دیگر فعال افراد علی الدبیسی اور فاضل المناسف بھی آل سعود کی سیکورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں اور ان کے بارے میں بھی کسی کو کوئی خیر خبر نہیں ہے گوکہ بعض ذرائع نے بتایا ہے کہ الدبیسی کو عدالت میں پیش کئے بغیر الدمام کی جیل میں منتقل کیا گیا ہے لیکن المناسف کے اہل خانہ نے بتایا ہے کہ وہ اپنے فرزند کے انجام سے بے خبر ہیں۔ادھر زکریا آل صفوان نیز نذیر الماجد نامی ایک مؤلف بھی مقدمہ چلائے بغیر آل سعود کے اذیتکدوں میں اسیر ہیں۔ آل سعود کی فورسز نے 3 اکتوبر 2011 کی شام کو نام یوسف ناصر آل ربح کو گرفتار کیا اور یہ وہ دن تھا جب آل سعود کے درندوں نے دو عمر رسیدہ بزرگوں کو العوامیہ میں گرفتار کیا تھا تا کہ ان کے بیٹے آکر گرفتاری دے دیں۔عمر رسیدہ بزرگوں کی گرفتاری پر العوامیہ کے عوام سراپا احتجاج بن گئے اور آل سعود کے درندوں نے فائرنگ کرکے دو خواتین سمیت کئی افراد کو زخمی کیا۔ انسانی حقوق کے شعبے میں سرگرم کارکنوں نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آل سعود کی جیلوں میں سیاسی قیدیوں کو روحانی اور جسمانی طور پر ٹارچر کیا جاتا ہے اور کئی کئی مہینوں تک قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے اور آل سعود کے سیکورٹی اہلکار کئی کئی گھنٹوں تک انہيں زد و کوب کرتے ہیں اور انہیں کئی کئی دن تک سونے نہیں دیا جاتا۔ عقیل الشاخوری نامی ایک نوجوان تین مہینوں سے سعودی سیکورٹی فورسز کے کسی اذیتکدے میں محبوس ہیں اور ان کے خاندان کو ان کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے گریز کیا جارہا ہے۔
...........
/110
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
شیعہ عالم کو اغوا کرنے کی ناکام کوشش / متعدد خبریں اور رپورٹیں