ابنا: افغانستان میں امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے لیون پنیٹا کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان سے ملحقہ اپنے علاقوں اور سرحدوں کو محفوظ بنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء کا مطلب یہ نہیں کہ اتحادی فوج افغانستان سے چلی جائے گی ہم نے یہاں پر اپنا بہت خون بہایا ہے۔ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ طالبان دوبارہ سر نہ اٹھا سکیں اور محفوظ پناہ گاہیں نہ بنائیں جہاں القاعدہ دوبارہ پیدا نہ ہو۔ دریں اثناء امریکی نائب وزیر دفاع ڈگلس ولسن نے کہا ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں جیتنے کے لئے پاکستان کو ”جیتنا“ ہو گا۔
امید ہے کہ پاکستان کے راستے نیٹو کی سپلائی جلد بحال ہو جائے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب امریکی وزیر دفاع نے جنرل جان ایلن کے جنرل اشفاق کیانی سے ٹیلیفونک رابطہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات مشکل موڑ پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پاکستان کی جانب سے نیٹو کنٹینرز پر نئے ٹیکسز کے نفاذ کی اطلاعات کا علم نہیں۔ ادھر افغانستان میں ایساف کمانڈر جنرل جان ایلن نے کہا ہے کہ نیٹو کا افغانستان میں براہ راست جنگی کردار کم ہو سکتا ہے۔
پنیٹا نے مزید کہاکہ حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے ختم کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ حقانی جنگجو افغانستان آکر حملے کرکے اور واپس پاکستان چلے جاتے ہیں۔ پاکستان سے تعلقات قائم رکھنا مشترکہ دشمن کیخلاف جنگ کیلئے اہم ہے۔
............
/169