ابنا: انھوں نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو غضب کررکھا ہے۔بھارتی فوج مقبوضہ وادی میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ بھارت نے اپنی سیکورٹی فورسزکو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی کھلی اجازت دے رکھی ہے ۔
انھوں نے عالمی برداری سے اپیل کی کہ وہ آگے آئے اور کشمیریوں کے قتل عام کو روکے اور بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ کشمیریوں کو مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا موقع دے۔
بھارتی مظالم کی وجہ سے خاص طورپر 2008 ء اور 2010ء میں نوجوانوں اوربچوں کے قتل عام کے بعد اب کشمیری بچوں او ر نوجوانوں کے اندر نفسیاتی خوف پایاجاتاہے۔
انھوں نے مطالبہ کیاکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکاجائے، کشمیری رہنماؤں پرپابندیاں ختم کی جائیں، بھارتی فوجیں وادی سے واپس بلائی جائیں اور کالے قوانین کو فوری طورپر ختم کیاجائے۔
مقبوضہ کشمیرمیں بے گناہ لوگ مارے جارہے ہیں اور حالیہ سالوں کے دوران بے نام قبروں کی دریافت اس بات کا واضح ثبوت ہے لیکن عالمی برادری اس سنگین صورتحال پرخاموش تماشائی ہے۔ چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے کہاکہ بغیرنام کے قبروں کی دریافت پوری عالمی برداری کیلئے ایک کھلاچیلنج ہے ۔
خاص طورپر اقوام متحدہ جیسے ادارے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان قبروں کے بارے میں تحقیقات کے لیے ماہرین کی ٹیم مقبوضہ کشمیرروانہ کرے اور ان قبروں میں دفن کشمیریوں کے قتل میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچایاجائے۔
مقبوضہ کشمیرکی صورتحال خصوصی توجہ کی طالب ہے اور عالمی برادری کو اس مسئلے کو کبھی بھی نظراندازنہیں کرناچاہیے۔ اگرعالمی برادری مشرقی تیمور، کوسوو او رجنوبی سوڈان جیسے مسائل حل کرسکتی ہے تو اس طرح کے اقدامات مسئلہ کشمیرکے حوالے سے کیوں نہیں اٹھائے جاتے؟عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیرکے منصفانہ حل کے لیے ایک موثر کردار اداکرے تاکہ خطے میں امن و استحکا م آسکے۔ ........
/169