6 دسمبر 2011 - 20:30

ایرلینڈ میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ایک اہلکار نے مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں مغربی ممالک میں عوامی مظاہروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ممالک میں عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری رہےگا اور امریکہ میں مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال ناقابل قبول ہے۔

ابنا: مہر خبررساں ایجنسی  کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں ایئرلینڈ میں انسانی حقوق کے ممتاز استاد پروفیسر ولیم شباس نے ابو غریب جیل اور گوانتناموبہ جیل میں قیدیوں کے ساتھ امریکی فوجیوں کے وحشیانہ اورناروا سلوک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ دنیا میں ایسا ملک ہے جو وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی کرتا ہے اور پھر انسانی حقوق کی دھائی بھی دیتا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ انسانی حقوق کے بارے میں سچا ملک نہیں بلکہ انسانی حقوق کے بارے میں امریکہ کی متضاد اور دوگانہ پالیسی ہے۔

اس نےکہا کہ دیگر ممالک بالخصوص یورپ کے ممالک میں بھی یہ دوگانہ پالیسی دیکھنے میں آتی ہے ولیم شباس کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کونسل بھی بعض رکن ممالک میں انسانی حقوق کے مسئلہ کو نظر انداز کردیتی ہے ولیم نے مستقل فلسطینی ملک کی تشکیل کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی کونسل نےاسرائيل کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر کوئی توجہ نہیں دی ، اس نے برطانیہ کی طرف سے افغانستان میں ہتھیاروں کی فروخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے بعد برطانیہ کے فوجی افغانستان میں سب سے زیادہ ہیں ولیم نے مغربی ممالک میں جاری عوامی احتجاج اور بے چینی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ممالک میں عوامی احتجاج کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا بلکہ پوری شدت کے ساتھ جاری رہےگا.
 ........
/169