2 دسمبر 2011 - 20:30

يمن کے عوام نے عام شہريوں کے قتل عام کي مذمت کرتے ہوئے عبداللہ صالح حکومت کو سخت متنبہ کيا ہے۔

ابنا:  تعز شہر کے عوام نے يمني فوج کے حملے ميں پينتاليس عام شہريوں کي ہلاکت کے واقعے کے خلاف مظاہرے کئے اور عام شہريوں کے خلاف يمني فوج کے حملوں کي شديد مذمت کي- کہا جارہا ہے کہ يمني فوج کے حملوں ميں ہلاک اور زخمي ہونے والا کوئي بھي شخص مسلح نہيں تھا- اس رپورٹ کے مطابق ايسا محسوس ہوتا ہے کہ سعودي عرب ميں يمن کے ڈکٹيٹر عبداللہ صالح اور مخالفين کے درميان ہونے والا معاہدہ بھي ملک ميں خون خرابے کو روکنے ميں ناکام ہوگيا ہے- واضح رہے کہ خليج فارس تعاون کونسل کے تيارہ کردہ معاہدے کے تحت يمن کے ڈکٹيٹر عبداللہ صالح نے ملکي صدارت کا عہدہ چھوڑ کر اقتدار اپنے نائب کے حوالے کرديا ہے-

يمن کي انقلابي قوتوں نے خليج فارس تعاون کونسل کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے يہ بات زور ديکر کہي ہے کہ عبداللہ صالح کو حاصل عدالتي استثنا منسوخ کيا جائے اور اس پر جنگي جرائم کے ارتکاب کے جرم ميں مقدمہ چلايا جائے۔
........

/169