ابنا: علی اکبر صالحی نے شام کے بحران کے موضوع کے جائزے کے لۓ جدہ میں بلاۓ جانے والے اس ہنگامی اجلاس میں کہا کہ ایران ہر اس اقدام کا مخالف ہے جس سے شام میں غیر ملکی مداخلت کا راستہ ہموار ہوتا ہو۔ اور ایران صرف مفید اور بامقصد مذاکرات کو اس ملک کے بحران کا حل سمجھتا ہے۔ اس اجلاس کے بعد جو اختتامی بیان جاری کیا گیا اس میں بھی شام میں ہر طرح کی فوجی مداخلت کی مخالفت کی گئی اور مخالفین کے ساتھ شام کی حکومت کے مذاکرات پر تاکید کی گئی۔ واضح رہے کہ شام میں گزشتہ مارچ کے مہینے سے بدامنی کے واقعات کا آغاز ہوا۔ اور اس ملک کے عوام شام کے مختلف سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں اصلاحات کے خواہاں ہیں۔ لیکن بعض عرب اور یورپی ممالک خاص کر امریکہ اس کوشش میں ہیں کہ شام کے داخلی حالات کا تعلق خطے کے ممالک کے ساتھ جوڑ کر بشار اسد کی حکومت کی سرنگونی پر مبنی اپنا مقصد حاصل کریں۔ بشار اسد کی حکومت کے مخالفین نے اس ملک میں اعتراضات کا سلسلہ شروع کرنے کے ساتھ ہی مسلح افراد کو شام میں روانہ کیا تاکہ وہ مظاہرین کی صفوں میں شامل ہو کر عوام کا قتل عام کریں۔ جس سے ان کا مقصد اس ملک میں اپنے سناریو کو عملی جامہ پہنانےکا راستہ ہموار کرنا تھا۔ عرب لیگ کے اجلاسوں میں شام کی رکنیت کا معطل کیا جانا ، عرب لیگ کی جانب سے شام کے خلاف پابندیوں کا لگایا جانا اور شام کی حکومت کو سرنگون کرنے کے مقصد سے ترکی سمیت خطے کے بعض ممالک کا امریکہ اور صیہونی حکومت کا ساتھ دینا بشار اسد کی حکومت کے مخالفین کی ان کوششوں کا ایک حصہ ہے ۔ جن کے ذریعے وہ شام میں اپنے سناریو پر عملی جامہ پہنانے کے درپے تھے۔ شام کے خلاف دباؤ میں ایسے عالم میں شدت پیدا کی جارہی ہے کہ جب بشار اسد کی حکومت کے مخالف ممالک نے بحرین سمیت دوسرے ممالک کے بارے میں اس سے متضاد پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ آل خلیفہ اور آل سعود کے کارندے امریکہ کے گرین سگنل کے پیش نظر بحرین کے عوام کے پرامن مظاہرین کو سختی کے ساتھ کچل رہے ہیں۔ تاکہ اس ملک کی حکومت کو کوئي نقصان نہ پہنچے۔ شام کے حکام اور عوام یورپی ممالک کی متضاد پالیسی سے بخوبی آگاہ ہیں اور انہوں نے بارہا تاکید کی ہےکہ وہ دشمنوں کی سازشوں کا کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اور اصلاحات ، مفید مذاکرات اور اتحاد کے ساتھ شام میں پیدا کۓ جانے والے بحران کا مرحلہ کامیابی سے سر کر لیں گے۔ جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر نے جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزراۓ خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں کہا ہے کہ شام کی حکومت اور عوام مفید مذاکرات کے ذریعے استقامت کی تقویت، فلسطینی عوام کی حمایت ، شام کے عوام کی ترقی و پیشرفت اور آسائش اور خطے میں قیام امن کے لۓ سلسلے میں اپنا کردار بدستور ادا کرسکتے ہیں۔....... /169
1 دسمبر 2011 - 20:30
News ID: 281660
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزراۓ خارجہ کے ایک روزہ ہنگامی اجلاس مین ایک بار پھر تاکید کی کہ تہران شام کے امور میں ہر طرح کی غیر ملکی مداخلت کا مخالف ہے۔