29 نومبر 2011 - 20:30

مقننہ اور عدلیہ نے طلبہ کے اقدام کو سراہا؛ علی لاریجانی: طلبہ کا اقدام شرمناک نہ تھا بلکہ 50 برسوں سے برطانوی معاندانہ رویہ شرمناک ہے / صادق لاریجانی: جو بھی ملک ہمارے عزیز اور مقتدر مملکت کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپنائے گا اس کا جواب یہی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ  کی رپورٹ کے مطابق برطانوی سفارتخانے اور باغ قلہک پر تہران کی جامعات کے طلبہ کے مختصر قبضے اور برطانوی پرچم اتارے جانے پر اسلامی جمہوریہ ایران کی  مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے طلبہ کے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمان کے سربراہ نے کہا کہ ایرانی طلبہ کا کل کا اقدام ملت ایران کی عمومی سوچ کی علامت ہے۔انھوں نے برطانیہ کی طرف سے ایران کے خلاف نصف صدی سے جاری اقدامات اور بعض برطانوی حکام کے حالیہ موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: طلبہ کا اقدام شرمناک نہ تھا بلکہ شرمناک تو ایران کے خلاف پانچ عشروں پر محیط معاندانہ اقدامات ہیں۔ انھوں نے کہا: یہ ایام شہید آیت اللہ سید حسن مدرس سے تعلق رکھتے ہیں اور ہم سلام و درود بھیجتے ہیں ان کی روح پاک پر، جنہوں نے برطانیہ کے خلاف طویل جدوجہد کرکے ہماری ملک میں جمہوریت کی روح کو زندہ کیا اور ایرانی پارلیمان کی زندہ جاوید علامت بن گئے اور آج اسی بنا پر ایران میں یوم پارلیمان ہے اور ہم اس موقع پر اراکین پارلیمان کو تبریک و تہنیت پیش کرتے ہیں۔انھوں نے کہا: طلبہ نے جو اقدام کیا یہ درحقیقت ہمارے کی رائے عامہ کے عمومی ماحول کی ایک نشانی ہے؛ ہمارے عوام عشروں سے برطانوی اقدامات کی وجہ سے دکھ اور صدمات برداشت کرتے آئے ہیں اور اگر اس سلسلے میں برطانیہ کو کوئی شک ہے تو ہم ایک سروے بھی کراسکتے ہیں جس سے ثابت ہوگا کہ ماضی میں برطانیہ کے رویے کے سلسلے میں ایرانی عوامی کی اصل رائے کیا ہے؟ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ جس حکومت نے طویل عرصے سے اپنے معاندانہ رویے کی بنا پر ایران کے تمام امور میں مداخلت کی ہے، اور انقلاب اسلامی کے بعد جب ایرانی عوام نے ان سے وابستہ آمر کو ملک سے نکال باہر کیا، آج ہمارے عوام کو پھر بھی اس حکومت کے شرارت آمیز اقدامات کا سامنا کرنا پڑے۔ مجلس شورائے اسلامی کے سربراہ کہا: اکثر اقدامات میں ہمیں برطانوی حکومت کی جانب سے موذیانہ اور شریرانہ طرز عمل کا سامنا ہے؛ برطانوی حکومت اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بہتر طرز عمل اپنا سکتی تھی اور ملت ایران کے انتخاب کو محترم قرار دے سکتی تھی، کیونکہ ملت ایران نے ایک جمہوری حکومت کی بنیاد رکھی تھی لیکن برطانویوں نے معقول رویہ اپنانے کی بجائے اپنی عداوت آمیز رویہ جاری رکھا۔ انھوں نے کہا: سفارتکاری ایک حقیقت پر استوار ہونی چاہئے اور سفارتی رویہ ایک معاندانہ روش پر مبنی نہیں ہوسکتی۔ تاہم برطانوی حکومت بظاہر تصور کرتی ہے کہ گویا وہ اپنی دشمنی اور معاندانہ طرز سلوک کو سفارتکاری کے بھیس میں چھپا سکتا ہے؛ چنانچہ ایرانی طلبہ کا کل کا اقدام اس بھاری بھرکم رد عمل کا چھوٹا سا مظاہرہ تھا جو رائے عامہ میں پایا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا: اس میں شک نہيں ہے کہ تمام اقدامات کو قانون کے مطابق ہونا چاہئے اور ہماری خواہش ہے کہ سب قانون کے مطابق عمل کریں۔انھوں نے کہا: ہم نے قانون منظور کرکے برطانیہ کے ساتھ تعلقات کو محدود کرنے کے لئے اقدام کیا ہے اور یہ درحقیقت برطانوی حکومت کے رویے میں موجودہ ناہنجاریوں کا جواب تھا۔ انھوں نے ایک ترک نامہ نگار کے سوال کا جواب ایک ترک نامہ نگار نے پوچھا: آپ نے برطانیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے کا قانون منظور ہونے کے بعد کہا تھا کہ "یہ اس راستے کی ابتداء ہے"، آپ کا اگلا اقدام کیا ہوگا؟ اور یورپی یونین کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی؟علی لاریجانی نے کہا: اگلے اقدامات کا تعین عصری تقاضوں کے مطابق ہوگا اور ہم برطانیہ کو نصیحت نہیں کرتے کہ وہ اپنا سابقہ طرز عمل جاری رکھے۔انھوں نے کہا: ظاہر ہے کہ اگر حکومتیں آپس میں تعمیری تعلقات کے قیام کی خواہاں ہیں تو انہیں مہم جویانہ اقدامات سے اجتناب کرنا پڑے گا، البتہ اس قسم کے اقدامات کا عمل جاری رکھنے کے لئے متعدد راہیں موجود ہیں اور اگر برطانوی حکومت اپنے پرانے راستے پر گامزن رہے تو ظاہر سی بات ہے کہ ملت ایران بھی مناسب جوابی اقدامت عمل میں لاتی رہے گی۔ انھوں نے یورپی یونین کے ساتھ ایران کے تعلقات کے بارے میں کہا: ایران اور یورپی یونین کے تعلقات کی نوعیت مختلف ہے؛ یورپی یونین میں ایسے یورپی ممالک موجود ہیں جو ایران کے ساتھ معقول تجارتی تعلقات رکھتے ہیں تا ہم نے بعض ان ممالک کے ساتھ تعلقات محدود کرلئے ہیں جن کا رویہ نامناسب رہا ہے؛ چنانچہ ہم ان مسائل میں یورپی یونین کے کا مخالف فریق نہیں ہیں بلکہ ایسے ملکوں کے سامنے کھڑے ہیں جو پرامن رویے بھی اپنا سکتے ہیں گوکہ اختلاف رائے ہونا ایک فطری امر ہے۔ انھوں نے کہا: انگریزوں کا رویہ شایان شان ہونا چاہئے اور ان اعمال کی مانند نہیں ہونا چاہئے جو وہ انجام دیتے ہیں؛ میں نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران برطانوی صاحب رائے افراد کا دیکھا وہ نہایت نامناسب الفاظ استعمال کررہے ہیں اور یہ ان کی استکباری اور استعماری عادات و اطوار کی علامت ہے۔ ڈاکٹر لاریجانی نے کہا: ان کا کہنا ہے کہ ایرانی طلبہ کا اقدام شرمناک تھا جبکہ شرمناک تو برطانوی حکومت کا رویہ ہے جس نے کذشتہ پچاس برسوں سے ملت ایران کے ساتھ جبر و ستم پر مبنی برتاؤ روا رکھا ہے اور یہ سب ان کے ذہنی سرمائے کی علامت ہے جس کے نتیجے میں یہ الفاظ ان کی زبان پر جاری ہوتے ہیں۔ لاریجانی نے برطانوی حکومت کو نصیحت کی کہ وہ اقوام کی شان کے مطابق رویہ اپنائے اور ادب کی حدود نہ پھلانگے۔انھوں نے کہا: برطانوی حکومت کی تاریخ فاسد اور نہایت بھونڈی تاریخ ہے ان کے لئے ایسے الفاظ زبان پر لاتے ہوئے احتیاط سے کام لینا چاہئے اور غیرسنجیدہ باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے، گو کہ اس کے رویوں کو زیادہ اہمیت بھی نہیں ملنی چاہئے کیونکہ ہر حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ دوسری حکومتوں کے بدلتے ہوئے رویے دیکھ کر اپنا رویہ بدل دے اور اپنی نئی سمت کا تعین کرے لیکن اگر وہ اس بات کا بہانہ یا طلبہ کے احتجاج کو دستاویز بنا کر اپنے رویوں پر پردہ ڈالنا چاہیں، تو یہ بذات خود ایک بدسلوکی ہے۔  انھوں نے کہا: برطانویوں کی کوشش یہ ہے طلبہ کے احتجاج کو دستاویز بنا کر برطانیہ کے ساتھ تعلقات محدود کرنے کے سلسلے میں ہماری پارلیمان میں منظور ہونے والے حالیہ قانون کی اہمیت کم کرکے دکھائیں۔انھوں نے کہا کہ انگریزوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ملت ایران کے ساتھ بدسلوکی کریں۔

عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ صادق آملی لاریجانی نے کہا: طلبہ کا احتجاج ایران کے ساتھ توہین آمیز سلوک کا نتیجہ ہےعدلیہ کے سربراہ نے کہا برطانیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کی سطح کم کرنے کے سلسلے میں پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے قانون کی حمایت کرتے ہوئے کہا: پارلیمان کا یہ اقدام بروقت اور مناسب بھی ہے اور ملت ایران کا مطالبہ بھی ہے اور جو بھی ملک ہمارے عزیز اور مقتدر ملت کے ساتھ توہین آمیز رویہ روا رکھنے کی کوشش کرے گا اس کا جواب قطعی طور پر یہی ہے۔ آیت اللہ آملی لاریجانی نے عدلیہ کے اعلی حکام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محرم الحرام اور ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کی سوگواری کے ایام کی آمد پر تعزیت و تسلیت کا اظہار کیا اور یورپی یونین کے حالیہ اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حالیہ ایام میں یورپی یونین اور خاص طور پر برطانیہ نے ایران کے خلاف بعض اقدامات سرانجام دیئے ہیں جن میں کسی بین الاقوامی اتفاق رائے کے بغیر ایران پر یکطرفہ اقتصادی پابندیاں اور ایران کے بینکوں پر پابندیاں شامل ہیں۔انھوں نے کہا ملت ایران نے تین عشروں سے ثابت کردیا ہے کہ وہ جس راستے کا انتخاب کرتی ہے اس پر استوار رہتی ہے اور کبھی بھی مغربی طاقتوں کے ظلم و جبر کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکتی۔ انھوں نے کہا کہ مغرب کے دباؤ کی بنیاد مغربی ممالک کے اپنے مفادات ہیں اور اس میں انسانی حقوق وغیرہ کو اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے اور دنیا جانتی ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں مغرب کے نعروں اور ان کے اپنے عمل میں کتنا تضاد ہے۔کاظم جلالی: برطانیہ کے ساتھ تعلقات میں کمی ایک قومی مطالبہ ہےاسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان کاظم جلالی نے برطانیہ کے ساتھ تعلقات کی سطح کم کۓ جانے کو ملت ایران کا مطالبہ قرار دیا ہے۔ کاظم جلالی نے برطانیہ کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلاب کے خلاف کۓ جانے والے اقدامات اور سازشوں کے بارے میں ملت ایران کی نفرت کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ ممالک کے باہمی دو طرفہ تعلقات اس وقت مفید اور موثر ہوتے ہیں جب یہ سازش پر منتج نہ ہوں اور باہمی احترام کی بنیاد پر استوار ہوں۔ کاظم جلالی نے مزید کہا کہ ایران کے اسلامی نظام کے مخالف اور علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت، عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران صدام کی فوجی امداد اور اسے خفیہ اطلاعات کی فراہمی ، تہران مخالف پابندیوں کی حمایت اور پر امن ایٹمی توانائی کے استعمال پر مبنی ملت ایران کے حق کو نظر انداز کرنا برطانیہ کی ایران مخالف سازشوں کا ایک حصہ ہے۔آیت اللہ سیداحمد خاتمی: برطانیہ ہمیشہ ایران کے خلاف سازشیں تیار کرتا رہا ہےاسلامی جمہوریہ ایران کی خبرگان کونسل کے رکن آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا ہے کہ برطانیہ ہمیشہ ایران کے خلاف سازشیں تیار کرتا رہا ہے۔ سید احمد خاتمی نے اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں برطانیہ کے ساتھ ایران کے تعلقات کی سطح کم کئے جانے سے متعلق بل کی منظوری پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی اداروں میں برطانیہ کی جانب سے کئے جانے والے ایران مخالف اقدامات کا نتیجہ ہے۔ سید احمد خاتمی نے شام کے حالات کے بارے میں کہا کہ یہ ملک خطے میں استقامت کی فرنٹ لائن ہے اور امریکہ اور یورپی ممالک اس فرنٹ لائن کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور شام میں جاری بدامنی اور اس ملک کے بارے میں اپنائے جانے والے دوسرے ممالک کا موقف امریکی ڈکٹیشن کا نتیجہ ہے۔علی لاریجانی: برطانوی حکومت کے مخاصمانہ رویئے کا کوئي جواز نہیںاسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ملت ایران کے خلاف برطانوی حکومت کے مخاصمت آمیز رویئے کا کوئي جواز نہیں ہے۔ علی لاریجانی نے گزشتہ شب ایران کے چینل نمبر دو کو انٹر ویو دیتے ہوۓ کہا کہ لندن نے حالیہ برسوں کے دوران عالمی اداروں میں ایران مخالف موقف اختیار کیا جس کی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ نے برطانیہ کے ساتھ تعلقات کی سطح کم کرنے کا بل منظور کیا ہے۔ علی لاریجان نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایران کے خلاف مخاصمانہ رویہ اختیار کرنے والے ہر ملک کے ساتھ اپنے تعلقات کی سطح کو کم کر دے۔ اور ہر ملک کو قانونی طور پر ایسا حق حاصل ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی نے شام سمیت خطے کی صورتحال کے بارے میں کہا کہ یہ بہت ہی مضحکہ خیز ہے کہ ایک مکمل شاہی حکومت کی ساری توجہ شام کی جانب ہو۔ اس لئے شام کے سلسلے میں بع