29 نومبر 2011 - 20:30

پاکستانی وزیر اعظم نے اس یادداشت کے بارے میں تحقیقات کے سلسلے میں صلاح مشوروں کا آغاز کیا ہے جو کہا جارہا ہے کہ پاکستانی سفیر حسین حقانی نے صدر زرداری کی جانب سے امریکی حکومت کو بھیجی تھی اور اس میں مبینہ طور پر امریکہ سے درخواست کی گئی تھی کہ ان کی حکومت کے خلاف پاک فوج کی بغاوت کا سد باب کرے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ  کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر کے حوالے سے رپورٹیں شائع ہوئی ہیں کہ انھوں نے پاکستانی صدر آصف علی زرداری کی جانب سے امریکی حکام کو ایک یادداشت بھیجی ہے جس میں امریکہ سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ پاکستان میں جمہوری حکومت کے خلاف پاک فوج کی نئی بغاوت کا سد باد کریں۔ بعض امریکی فوجی حکام نے بھی ایسی ایک یادداشت کی وصولی کا اعتراف کیا ہے جس میں حکومت امریکہ سے کہا گیا تھا کہ وہ پاکستان کی سول حکومت کو ممکنہ فوجی بغاوت سے بچائیں۔العالم کے نامہ نگار نے اس موضوع پر تحقیق کرکے لکھا ہے کہ امریکی حکومت کو صدر آصف علی زرداری کی جانب سے مبینہ یادداشت ملنے کے بعد کہا گیا کہ پاکستانی سفیر حسین حقانی اس ماجرا میں ملوث ہیں جس کے بعد حکومت پاکستان کو شدید دباؤ کا سامنا ہے اور حسین حقانی نے اپنے منصب سفارت سے استعفا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسامہ بن لادن کے قتل کے لئے امریکی فوجیوں کی پاکستان کی سرزمین میں جارحیت کے بعد حکومت کو فوج کی طرف سے بغاوت کا خطرہ لاحق ہوچکا تھا اور اس امریکی اقدام کے بعد پاک فوج کو شدید تناؤ کا سامنا تھا۔ سابق پاکستانی سفارتکار طیب صدیقی نے کہا ہے کہ اگر یادداشت کی خبر صحیح ہو تو یہ پاکستان کے لئے بہت خطرناک اور تباہ کن ثابت ہوگی کیونکہ یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان کی سول حکومت اپنی ہی فوج سے بچاؤ کے لئے امریکہ سے مدد کی درخواستیں کررہی ہے۔ اس مسئلے کے بعد امریکی ایجنسیوں نے حقانی سے تفتیش کی ہے اور اس کے بعد پاکستان کے سفارتی اور سول اداروں کی جانب سے بھی حقانی کی بازخواست ہوئی ہے اور اس کے بعد انھوں نے اپنے منصب سے استعفا دیا ہے۔ دوسری جانب سے مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اسکینڈل ثابت کرتا ہے کہ نہ صرف پاکستان میں حکومت اور فوج کے درمیانی بدگمانیوں کا ازالہ نہیں ہوسکا ہے بلکہ ان کے درمیان بدگمانیوں اور غلط فہمیوں میں شدید اضافہ بھی ہوا ہے اور یہ اختلافات اعلانیہ بھی ہوچکے ہیں۔ طیب صدیقی کا کہنا تھا: اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قضیئے کی منصوبہ بندی امریکیوں نے کی ہے یا نہیں نیز اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ پاکستان کے اندر حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات سے فائدہ کون اٹھا رہا ہے؟ادھر اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور انھوں نے عدالت میں اس مسئلے کے بارے میں تفتیش کرانے کے لئے پٹیشن دائر کی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اپوزیشن کے اقدامات کے بعد حکومت کو مستقبل قریب میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مسلم لیگ نون کے صدیق الفاروق کہ کہنا تھا کہ اس میں شک نہيں ہے کہ زرداری اور حقانی اس اسکینڈل میں ملوث ہیں اسی بنا پر ہم حقائق واضح کرنے اور آئین کے مطابق اس قضیئے میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرنے اعلی ترین سطح پرتحقیقات کرانے کے خواہاں ہیں۔ اس اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد برسراقتدار پیپلز پارٹی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور یہ جماعت اس وقت اپوزیشن جماعتوں اور فوج کے ساتھ اختلافات کی قینچی کے دودھاروں کے درمیان شدید ترین دباؤ کا سامنا کررہی ہے۔

.................

/110