ابنا: مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں پارلیمنٹ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کے رکن محمد کرمی راد نے برطانوی سفارتخانہ پر ایرانی طلباء کے مظاہرے کے بارے میں سکیورٹی کونسل کی مذمت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی طلباء نے کل برطانیہ کی معاندانہ سازشوں کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور سکیورٹی کونسل کے لئے بہتر ہے کہ وہ برطانیہ کی حمایت کرنے کے بجائے قوموں کی ذمہ داریوں سے متعلق اپنی ذمہ داری کو پورا کرے۔ انھوں نے کہا کہ تاریخ میں جس درد آور بات سے ہمیں ہمیشہ سامنا کرنا پڑا ہے وہ اقوام متحدہ کی متضاد اور دوگانہ پالیسی ہے انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے ہمیشہ امریکی اور صہیونی لابی کی حمایت کی ہے۔ کرمی نے کہا کہ 1359 میں لندن میں ایرانی سفارتخانہ پر حملہ ہوا تو اقوام متحدہ نے اس کی مذمت نہیں کی کیونکہ وہ ایرانی سفارتخانہ تھا لیکن آج جب لندن کی سفارتخانہ پر طلباء نے احتجاج کیا تو اقوام متحدہ کی آواز نکل آئی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کی بعض ممالک کے ساتھ رفاقت اور بعض کے ساتھ دشمنی ہے اور ایسا اقوام متحدہ کے بنیادی آئین کے بالکل خلاف ہے۔ اقوام متحدہ کو حکومتوں کے حقوق کے بجائے قوموں کے حقوق کی حفاظت کرنی چاہیے انھوں نے کہا کہ ایرانی عوام برطانوی حکومت کی منافقانہ پالیسیوں سے ناراض اورمتنفر ہیں اور کل انھوں نے برطانوی سفارتخانہ پر اپنی ناراضگی برملا اظہار کیا ہے انھوں نے کہا کہ برطانوی حکومت اقوام عالم کی دشمن حکومت ہے اور تمام قومیں برطانیہ سے متنفر ہیں.
........
/169
29 نومبر 2011 - 20:30
News ID: 281346
پارلیمنٹ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کے رکن محمد کرمی راد نے برطانوی سفارتخانہ پر ایرانی طلباء کے مظاہرے کے بارے میں سکیورٹی کونسل کی مذمت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی طلباء نے برطانیہ کی معاندانہ سازشوں کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور سکیورٹی کونسل کے لئے بہتر ہے کہ وہ برطانیہ کی حمایت کرنے کے بجائے قوموں کی ذمہ داریوں سے متعلق اپنی ذمہ داری کو پورا کرے۔