ابنا: ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس غلام شبیر شیخ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ خیبر میل کے ذریعے اندرون پنجاب اور وزیرستان سے امیر کے حکم پر کراچی پہنچنے والے 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا جو محرم الحرام میں دہشت گردی کا منصوبہ بنانے آ رہے تھے۔گرفتار ملزمان میں سید کامران عرف وقار عرف بلال، سلار محمد عرف خالد عرف دانش، امجد خان عرف کارگل عرف شاہ جی، فرحان خان عرف حسین اور محمد منیر عرف عظیم کو گرفتار کیا ہے۔ملزمان سے سینٹرل جیل کے نقشے اور ایک ہٹ لسٹ بھی ملی ہے۔ ملزمان نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر سٹی کورٹ میں پولیس پر حملہ کرکے پولیس کانسٹیبل لونگ خان کو قتل کرکے اپنے گرفتار ساتھیوں شکیب فاروقی، مرتضیٰ عنایت، وزیر محمد، مراد شاہ کو جو 2009 عاشورہ بم دھماکے میں جیل میں بند تھے، چھڑوا لیا تھا، جبکہ مراد شاہ اس مقابلے میں مارا گیا تھا۔اُن ہی ملزمان نے جناح اسپتال میں 2010 چہلم والے روز، موٹرسائیکل اور کمپیوٹر میں بم نصب کیا تھا، جس کے پھٹنے سے 16 افراد جان بحق اور 60 زخمی ہوئے تھے۔ان ہی ملزمان نے آغا خان اسپتال کی کیش لے جانے والی وین پر فائرنگ کرکے 80 لاکھ روپے لوٹے تھے، ملزمان کور کمانڈر کراچی پر حملے سمیت گلستان جوہر تھانے پر حملہ، اور بینک ڈکیتیوں میں بھی ملوث تھے۔گرفتار دہشت گردوں نے انکشاف کیا ہے کہ فصیح الرحمان نے ہی سیمنٹ بلاک نما بم بنانے کا طریقہ بھی ایجاد کیا، جس کو انھوں نے8،9،10 محرم الحرام 2009 میں استعمال کیا۔اس وقت اس دہشت گرد تنظیم سے وابستہ دہشت گرد جو کہ ڈرون حملوں میں ہلاک ہوچکے ہیں، ان میں حمزہ جوفی عرف حاجی ممتازِ القاعدہ، غلام مصطفی عرف انصار بھائی، عارف عرف حیدر شجاع، عرف رضا بھائی، امیر کراچی، ابوبکر عرف ارسلان، اسرافیل عرف جاوید، عجب خان عرف ذاکر شامل ہیں۔جنداللہ نامی دہشت گرد تنظیم کے تاحال عدم گرفتار دہشت گردوں کے نام بھی بتائے گئے ہیں، جن میں فصیح الرحمان عرف حماد عرف عدنان۔امیر کراچی، محمود عرف طلحہ عرف عمر، نائب امیر، ثاقب عرف شہاب، رشید خان پٹھان، کوڈ نام ،شکیب فاروقی، عرف فیضان، مرتضیٰ عنایت عرف شکیل، دلاور، بابا، وزیر محمد عرف شاکر، اور سحاق گل شامل ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
28 نومبر 2011 - 20:30
News ID: 281226
کراچی میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نے کارروائی کرتے ہوئے محرم الحرام میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے والے جنداللہ نامی دہشت گرد تنظیم کے 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔