ابنا: پشاور میں 20 نومبر 2011ء اندرون کوچی بازار پشاور میں واقع امام بارگاہ دیرعباس سے متصلہ سبیل پرمحرم الحرام کی آمدپر کام کاج کی غرض تالا کھولنے کے بعد دہشت گرد عناصر سپاہ صحابہ کے چند افراد کی جانب سے بدزبانی ،لڑائی اورفائرنگ کی گئی، دہشت گردوں کے جواب میں جوانوں نے اپنے دفاع میں جوابی کاروائی کی. اس کارائی میں حملہ آوروں میں سے غلام فاروق موقع پرہلاک جبکہ اس کابیٹا حسنین رضا شدیدزخمی ہوگیا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہو گیا۔
بعدازاں سپاہ صحابہ والوں نے ایک جلوس کی شکل میں آ کر پولیس کی موجودگی میں امام بارگاہ دربار امام حسین ع پر قبصہ کر کے مقدس ناموں کی بے حرمتی کی، جس میں حضور پاک کی ایک مشہور حدیث حسین منی وانا من الحسین یعنی حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں بھی شامل تھی، اس کو بھی سپاہ یزید نے اپنے پاوں تلے روند ڈالا اور امام بارگا ہ کے اندر موجود علم عباس علمدار کو نذر آتش کیا۔
امام بارگاہ پر آتشیں اسلحہ سے فائرنگ کی گئی، جس سے امام بارگاہ کا مین گیٹ گولیوں کی بوچھاڑ سے چھلنی کر دیا گیا۔
اب امام بارگاہ کو حکومت نے پولیس کے کنٹرول میں دے دیا ہے اور امام بارگاہ کو سیل کر کے ہر قسم کی عزاداری، مجالس اور جلوس کی برآمدگی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔........
/169 - 110