27 نومبر 2011 - 20:30

پاکستان ميں نيٹو کے حملے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاري ہے جبکہ پاکستاني فوج کے ترجمان اس حملے پر امريکا کي جانب سے معذرت خواہي مسترد کردي ہے-

ابنا: نيٹو کے حملوں کے خلاف وکلاء کي تنظيم پاکستان بارکونسل نے آج ايک روزہ ہڑتال کي اپيل کي تھي جسکے تحت پاکستان بھر ميں وکلا نے يوم سياہ منايا اور بارکونسلوں ميں احتجاجي جلسے منعقد کئے- نيٹو کے حملوں کے خلاف دارالحکومت اسلام آباد ميں ہائي کورٹ بار ايسوسي ايشن ميں مکمل ہڑتال رہي جبکہ راوالپنڈي ڈسٹرکٹ کورٹ اور ہائي کورٹ بار کے وکلاء نے بھي ہڑتال ميں حصہ ليا اور عدالتوں ميں پيش نہيں ہوئے- وکلاء نے بارکونسلوں پر سياہ پرچم لہرآئے اور اپنے ملک کے خلاف نيٹو کے خود سرانہ حملوں کي شديد مذمت کي-

ادھر پاکستاني فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ ميجر جنرل اطہرعباس نے امريکہ اور نيٹو کے ہيلي کاپٹر حملوں کي بابت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بھيانک نتائج برآمد ہوں گے- فارس نيوز ايجنسي کے مطابق ميجر جنرل اطہرعباس نے اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ فوج نيٹو کے عذرخواہي کو قبول نہيں کرتي اور اس اقدام کےبھيانک نتا‏ئج برآمد ہونگے- انہوں نے کہا کہ نيٹو کي عذر خواہي سے اس حملے ميں مرنے والوں کے اہل خانہ کے مصائب و آلام ميں کوئي کمي نہيں آئے گي- پاکستاني فوج کے ترجمان نے کہا کہ نيٹو اب تک متعدد بار شمال مغربي پاکستان کے قبائلي علاقوں پر حملے کرچکي ہے جس ميں سيکڑوں لوگ مارے گئے ہيں اور نيٹو نے صرف افسوس اظہار اور عذر خواہي پر ہي اکتفا کيا ہے-

نيٹو کے حملے کے بعد امريکي وزير دفاع ليون پنيٹا اور وزير خارجہ ہيلري کلنٹن نے اپنے مشترکہ بيان ميں اس حملے ميں ہونے والے جاني تقصان پر افسوس کا اظہار کرتےہوئے عذرخواہي کي ہے - پاکستاني فوج کے ترجمان ميجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ گزشتہ تين برس کے دوران ہونے والے حملوں ميں بہتر پاکستاني فوجي ہلاک اور دوسو پچاس زخمي ہوئے ہيں-

ادھر اطلاعات ہيں کہ امريکي وزارت دفاع نے پاکستان ميں ہونے والے نيٹو کے حملے کي عليحدہ تحقيقات کرانے کا اعلان کيا ہے- واشنگٹن ميں امريکي وزارت جنگ کے ايک عہدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کي شرط پر ايسوسي ايٹد پريس کو بتايا ہے کہ امريکي فوج کي سينٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جميز مائٹس پير تک ايک تحقيقاتي افسر کو نامزد کر نے والے ہيں- مذکورہ عہديدار نے بتايا کہ معاہدہ شمالي اقيانوس نيٹو نے اس واقعے کي تحقيقات کے عليحدہ انکوائري ٹيم بٹھا دي ہے- امريکي وزرات جنگ کے اس عہديدار کا کہنا تھا کہ امريکہ کے لئے يہ بات اہم کہ ہے کس نے اس کاروائي کا حکم ديا ہے اور اسکي وجہ کيا تھي اور ہم اپني تحقيقات ميں اسي بات کي جائزہ ليں گے-

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحد پر واقع پاکستاني علاقے ميں امريکہ اور نيٹو کے ہيل کاپٹروں کے حملے ميں اٹھائس پاکستاني فوجي ہلاک اور متعدد زخمي ہوگئے تھے- پاکستان نے اس واقعے پر شديد احتجاج کرتے ہوئے نيٹو کي سپلائي بندکردي اور شمسي ائير بيس خالي کرنے کا حکم ديا ہے جسے امريکہ ڈرون حملے کے لئے استمعال کرتاہے-

........

/169