اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مرحوم ولیعہد سلطان بن عبدالعزیز کے بیٹے اور سعودی نائب وزیر دفاع خالد بن سلطان نے دارالحکومت ریاض کے مغربی نواحی علاقے میں میں واقع القویعیہ میں ایک عجیب فارم بنا رکھا ہے جس پر کروڑوں سعودی ریال کی لاگت آئی ہے؛ اس فارم کی خصوصیات درج ذیل ہیں:- ستر ہزار درختوں نے اس فارم کا احاطہ کیا ہوا ہے۔- اس فارم میں 12526 کھجور کے درخت ہیں جن سے 618 ٹن کھجوریں حاصل ہوتی ہیں۔- اس فارم میں لیمو اور مالٹے کے 31900 درخت لگائے گئے ہیں جن سے سالانہ 700 ٹن مالٹا اور 400 ٹن لیمو اتارا جاتا ہے۔ - اس میں سینکڑوں گرین ہاؤسز ہیں جن سے 650 ٹن ٹماٹر اور 1200 ٹن کھیرا اٹھتا ہے۔- اس فارم میں تمباکو کی سالانہ پیداوار 4000 ٹن ہے۔- اس فارم میں مختلف قسم کے تین لاکھ پھول پائے جاتے ہیں۔ - اس فارم میں مختلف قسم کے لاکھوں پودے پیدا کئے جاتے ہیں۔ - اس فارم میں شہد کے چھتوں کے 70 مجموعے ہیں جن سے سالانہ کئی ٹن شہد ملتا ہے۔ - اس فارم میں ایک چڑیا گھر ہے جس میں سمندری حیوانات کے سوا ہر قسم کے حیوانات رکھے گئے ہیں۔- اس فارم میں مختلف قسم کے ہتھیاروں اور تلواروں کا ایک بڑا میوزیم بھی ہے۔اور تو اور، اس فارم میں کئی محل، کئی بنگلے، ایک طبی مرکز، ایک سپورٹس اور تفریحی کلب اور ایک چھوٹا سا ائیرپورٹ بھی موجود ہے اور ان سب چیزوں کا مالک صرف ایک شہزادہ ہے جبکہ آل سعود کے اعتراف کے مطابق مطلق غربت کی لکیر کے نیچے ہے؛ لیکن گویا ان بیچارے عوام کی دولت لوٹنے والے آل سعود کے شہزادے اپنے ملک میں یہ سب نہيں دیکھ رہے ہیں۔
ابنا کی سابقہ رپورٹ کی جھلکیاں: - جس ملک کے حکمران ارب پتی ہوں یقینی امر ہے کہ وہ عوامی وسائل کے مالک بن بیٹھے ہیں اور ارب پتی حکمرانوں کے ملک میں عوام بھی ارب پتی نہیں ہوسکتے۔ / ایک ناول کا موضوع: مکہ معظمہ میں انڈر ورلڈ؟؟! سعودی عرب میں غربت کتنی ہے؟ کونسے علاقے کتنے زيادہ غریب ہیں؟ جدہ، مکہ معظمہ، مدینہ منورہ اور طائف نیز دارالحکومت ریاض میں کیا عوام کا ایک ہی طبقہ ہے؟ کیا بیرونی مزدوروں کی یہ بات صحیح ہے کہ سعودی عرب میں سب بادشاہ ہیں؟ یا نہں حقائق کچھ اور ہیں۔ سعودی نوجوانوں نے ایک دستاویزی فلم میں ریاض کے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔آپ خود دیکھیں کہ آل سعود کے محلات کے سائے میں موجودہ حقائق کیا ہیں؟۔تین نوجوانوں کو تفتیش کے لئے خفیہ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ (جن کے بارے میں کسی کو کچھ بھی نہیں معلوم]۔اس ویڈیو میں دارالحکومت ریاض کے مرکز سے صرف 5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع "حي الجرادی" میں رہنے والے غرباء کی حالت زار دکھائی گئی ہے۔فراس قیمتی گاڑیوں میں بیٹھے افراد سے پوچھتا ہے: کیا حال ہے؟ اور سب ایک ہی جواب دیتے ہیں کہ "میں خیریت سے ہوں" یا "ہم خیریت سے ہیں" اور پھر جرادی روڈ پر کئی پیدل چلنے والے افراد سے ان کا حال پوچھتا ہے تو وہ کہتے ہیں "میں خیریت سے نہیں ہوں" اور اس کے فورا بعد فراس بقنہ لوگوں کے گھروں میں داخل ہوتا ہے اور ان کے گھروں کا حال فلماتا اور رپورٹ بناتا ہے۔اس ویڈیو میں ایک امام مسجد نے کہا ہے کہ "غربب کی وجہ سے منشیات، جنسی برائیاں اور بے روزگاری جیسے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ ویڈیو کا عنوان ہے "ملعوب علینا" جس کا ہم نے ترجمہ کیا: "ہم بازیچہ ہیں"۔ یا "ہم ارب پتی حکمرانوں کے ہاتھوں میں کھلونے ہيں"۔ایک نوجوان ویڈیو کے آغاز پر کہتا ہے: یہ صومالیہ نہیں ہے بلکہ سعودی حکومت کا دارالحکومت ریاض ہے اور یہ شہر کے مرکز سے صرف پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر جرادی روڈ کے حقائق ہيں۔ــ مکہ کے تقدس سے آل سعود کی لاپرواہی / انڈر ورلڈ کی موجودگی!!ایک سعودی ناول نگار نے "رجاء عالم" نے مکہ معظمہ کی پس پردہ مسائل کو فاش کرکے اپنے عرب پرستاروں کو چونکا دیا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ مکہ معظمہ کے بارے میں عمومی خیال کے بر عکس یہ مقدس شہر دنیا کے دوسرے شہروں سے مختلف نہیں رہا ہے۔محترمہ رجاء عالم نے برسلز میں مکہ کے انڈر ورلڈ کے بارے میں انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مکہ اور دنیا کے دوسرے شہروں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔انھوں نے کہا: سعودی عرب میں لوگ دو گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں ایک انتہا پسندوں اور شدت پسندوں کا گروہ اور ایک روشنفکروں کا گروہ۔ انتہاپسند پسند گروہ کتابخوانی اور مطالعہ و تحقیق سے دور ہے۔ انھوں نے لکھا ہے: مکہ معظمہ میں عیاشی کے لئے مکانات موجود ہیں جہاں مرد حضرات منشیات، موسیقی اور عورتوں کے لئے جایا کرتے ہیں۔ رجاء عالم نے لکھا ہے کہ زیر زمین دنیا مکہ معظمہ سمیت سعودی عرب کے اکثر شہروں میں پائی جاتی ہے۔
............
بمع عربی ویڈیو / سعودی دارالحکومت ریاض میں غربت کی جھلکیاں؛ حقائق فاش کرنے پر تین نوجوان گرفتار






