26 نومبر 2011 - 20:30

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مذہبی رہنماوں کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کو ہی سارے فیصلے کرنے ہیں تو ہمارے حکمران کس مرض کی دوا ہیں، جو امریکہ کی طرف سے ہرزہ سرائی پر زبان بند رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

ابنا: امریکی سفیر کے اس بیان پر کہ ایران سے گیس لینے کا فیصلہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے، کے حوالے سے ملک کی مذہبی جماعتوں کے مرکزی قائدین نے اس امریکی ڈکٹیشن پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری پر کھلا وار قرار دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر منور حسن، جماعتہ الدعوة کے حافظ عبدالرحمن مکی، تنظیم اسلامی پاکستان کے امیر عاکف سعید اور جمعیت علمائے پاکستان کے قاری زوار بہادر نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو سارے فیصلے کرنے ہیں تو ہمارے حکمران کس مرض کی دوا ہیں، جو امریکہ کی طرف سے ہرزہ سرائی پر زبان بند رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ہماری قسمت اور پالیسیوں کے فیصلے انہوں نے ہی کرنے ہیں تو حکمران براہ راست سارے اختیارات بھی عملی طور پر انہیں دیدیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان قابل مذمت ہے۔ امریکہ کو اب مزید شہ مل گئی ہے۔ وہ ہمارے مفاد اور باقی دنیا کے ساتھ ہمارے معاملات پر بھی اب ہمیں ڈکٹیٹ کرنے لگا ہے اور ہمارے حکمران معلوم نہیں کس خوف سے خاموش ہیں۔
........

/169