24 نومبر 2011 - 20:30

انھوں نے کہا کہ مجالس و جلوس عزاء کو چاردیواری میں محدود کرنے کی باتیں احمقانہ ہیں۔ سنگینوں کے سائے کرفیو اور محاصرے کے عالم میں عزاداری سید الشہداء ع قبول نہیں۔

ابنا: علامہ سید ساجد علی نقوی مرکزی محرم الحرام کمیٹی کے اراکین سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہا: کہ نواسہ رسول امام عالی مقام ع کسی ایک مکتب یا مسلک کے نہیں بلکہ پوری امت کے پیشوا اور امام ہیں اور کربلا ایک تحریک اور نظام کا نام ہے جو ہمارے لئے مشعل راہ اور رہنمائی کا باعث ہے، لہذا آمدہ محرم الحرام میں بھی پوری دنیا سمیت اسلامیان پاکستان بھی بلاتفریق مذہب و مسلک انتہائی عقیدت و احترام سے نواسہ رسول اکرم ص کا غم اپنے اپنے انداز سے منا کر محسن انسانیت کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے کہ واقعہ کربلا کے پس منظر میں اسلام کے آفاقی اصول اور پختہ نظریات کارفرما تھے اور سیدالشہداء کے قیام کا ہدف و مقصد فقط اور فقط امت مسلمہ کی اصلاح تھی، لہذا کربلا کے پیغام کو مشعل راہ بنا کر اپنی دنیوی و اخروی نجات کا سامان فراہم کیا جاسکتا ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ عزاداری سیدالشہداء ع آئینی اور قانونی حق اور شہری آزادیوں کا مسئلہ ہے، مجالس و جلوس عزاء کو چاردیواری میں محدود کرنے کی باتیں احمقانہ ہیں۔ اسی طرح سنگینوں کے سائے، کرفیو اور مصنوعی خوف وہراس اور محاصرے کے عالم میں عزاداری سید الشہداء ع قبول نہیں۔

انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ عزاداری سید الشہداء ع کسی مکتب اور مسلک کے خلاف نہیں، اس لئے وحدت اور اخوت کو مدنظر رکھا جائے اور نفرت انگیز اور توہین آمیز گفتگو اور اقدام سے گریز کیا جائے اسی طرح خطباء، ذاکرین اور عزاداران مظلوم کربلا کو چاہیے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے الفت و محبت کا پیغام عام کریں۔........

/169