21 نومبر 2011 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی عدلیہ میں انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ جواد لاریجانی نے ایران میں انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے رپورٹروں اور نمائندوں کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان رپورٹوں میں ایران کے حقائق کو مسخ کرکے پیش کیا جاتا ہے۔

ابنا: جواد لاریجانی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات میں کہا کہ ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں باریک بینی سے کام کرنے اور ایرانی حکام سے معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک نے اقوام متحدہ کو کھلونا بنا رکھا ہے اور یہ بات زیب نہیں دیتی ہے کہ ایران کے خلاف بے بنیاد رپورٹیں سیکرٹری جنرل کے دستخط سے منظر عام پرآئيں۔اس سے قبل انہوں نے انسانی حقوق کونسل میں ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی قرارداد کے تعلق سے بان کی مون کی کمزور کارکردگي پر تنقید کی اور کہا کہ اقوام متحدہ کو قوموں کا پرامن مرکز ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کونسل میں ایران کے خلاف منظور کی گئي قرارداد میں اسلامی اصولوں پرحملہ کیا گيا ہے کیونکہ اسلام ایرانی حکومت کی اساس ہے اور ایران جمہوریت کی بنا پر علاقے کا ایک ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے۔ ایران کے خلاف انسانی حقوق کونسل میں پیر کے دن قرارداد پاس ہوئي۔ اس اجلاس میں جواد لاریجانی نے کہا تھا کہ امریکہ اور کینیڈا میں دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق پامال ہوتے ہیں لیکن اس کونسل نے کبھی بھی ان ملکوں کے خلاف قرارداد منظور نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا امریکہ اور کینیڈا سیاسی وجوہات کی بنا پر ایران سے دشمنی کر رہے ہیں اور یہ نواں برس ہے کہ ان ملکوں نے انسانی حقوق کونسل میں ایران کے خلاف قرارداد پیش کی ہے۔............ /169