17 نومبر 2011 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ آئی اے ای اے نے ایرانی ایٹمی سائنس دانوں کی جان کی سلامتی کے سلسلے میں اپنے فرائض پر عمل نہیں کیا ہے۔

ابنا: ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی ، آئی اے ای اے ، میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے آئی اے ای اے کے سربراہ یوکیا آمانو کے نام اپنے خط میں کہا ہے کہ آئی اے ای اے نے ایران کے ایٹمی سائنس دانوں کی جان کی سلامتی کے سلسلے میں اپنے فرائض پر عمل نہیں کیا ہے۔علی اصغر سلطانیہ نے اس خط میں یوکیا آمانو کی رپورٹ کے ضمیمہ کی طرف ، جو ایرانی ماہرین اور مقامات کے ناموں پر مشتمل ہے ، اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی اے ای اے نے ایرانی ماہرین اور سائنس دانوں کے نام جاری کرکے ان کو امریکہ اور صیہونی حکومت کی خفیہ ایجنسیوں اور دہشت گرد گروہوں کے حملوں کا نشانہ بنادیا ہے۔مذکورہ خط میں آیا ہے کہ آئی اے ای اے کے سو سے زیادہ رکن ممالک نے یوکیا آمانو سے کہا تھا کہ وہ رپورٹ کا ضمیمہ جاری نہ کریں اور اس کے نتائج کے بارے میں خبرداربھی کردیا تھا لیکن انہوں نے اسے جاری کردیا بنابریں ایران کے ایٹمی سائنس دانوں اور ان کے اہل خانہ کی جان کو لاحق خطرات کے لئے یوکیا آمانو ذمہ دارہیں۔
...........

/169