سفیانی کے بارے میں تفصیل کے ساتھ روایات شریفہ وارد ہوئی ہیں اور اس شخص نے امام زمانہ (ع) کے ظہور سے قبل یا آپ (عج) کے ظہور کے وقت ظاہر ہونے والے دیگر اشخاص سے زیادہ توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے اور اس کے بارے میں سمجھنے اور سمجھانے کی غرض سے بہت زیادہ اہتمام ہوا ہے اور شاید اتنے زیادہ اہتمام کا سبب یہ ہو کہ جس زمانے میں یہ شخص بازیگری دکھائے گا وہ زمانہ نہایت اہم اور قابل توجہ ہوگا اور ہم بھی یہاں اس کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کریں گے۔سفیانی ملعون کا خروج حتمی ہےبڑی تعداد میں روایات شریفہ میں تصریح ہوئی کہ سفیانی اور اس کا خروج اور اس کی تحریک امور محتومہ میں سے ہے اور امر محتوم وہ ہے جس کو زائل کرنا یا اس کا سد باب کرنا ممکن نہيں ہے اور وہ حتمی الوقوع ہے۔ اس شخص کے خروج کی حتمیت اس فضیل بن یسار کی روایت سے ثابت ہے؛ جو نقل کرتے ہیں: «عن أبي جعفر عليه السلام قال: «إن من الأمور أمورا موقوفة وأمورا محتومة، وإن السفياني من المحتوم الذي لابد منه» (كتاب الغيبة لمحمد بن إبراهيم النعماني: ص313).بے شک امور میں سے بعض موقوفہ ہیں [یعنی خدا کی مرضی سے تغیر و تبدل پذیر ہیں اور اس کی مرضی پر منحصر ہیں] اور بعض دیگر حتمی ہیں اور سفیانی حتمیات میں سے ہے۔وكذلك رواية حمران بن أعين انه قال للإمام أبي جعفر الباقر صلوات الله وسلامه عليه: «إني لأرجو أن يكون أجل السفياني من الموقوف فقال أبو جعفر عليه السلام: لا والله إنه لمن المحتوم» (راجع كتاب الغيبة لمحمد بن إبراهيم النعماني: ص312 ــ 313).اور حمران کی روایت بھی ایسی ہی ہے جنہوں نے امام باقر علیہ السلام سے عرض کیا: مجھے امید ہے کہ سفیانی امور موقوفہ میں سے ہو تو امام علیہ السلام نے فرمایا: نہیں، خدا کی قسم! یہ شخص محتومات میں سے ہے۔ اور بعض روایات میں ہے کہ سفیانی کے خروج کی پیشین گوئی وعد الہی کے زمرے میں آتا ہے اور اللہ تعالی وعدہ خلافی نہیں کیا کرتا۔ اور بعض دیگر روایات میں تصریح ہوئی ہے کہ قائم (عج) سفیانی کے بغیر نہیں ہونگے۔ جیسا کہ امام علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام سے کی روایت دیکھئے:عن الإمام علي بن الحسين صلوات الله وسلامه عليه قال: «إن أمر القائم حتم من الله، وأمر السفياني حتم من الله، ولا يكون قائم إلا بسفياني» (راجع قرب الإسناد للحميري القمي: ص374. بحار الأنوار للمجلسي: ج52، ص182. مسند الإمام الرضا للشيخ عزيز الله عطاردي: ج1، ص217).قائم علیہ السلام کا امر اللہ کی جانب سے حتمی ہے اور سفیانی کا امر اللہ کی جانب سے حتمی ہے اور قائم علیہ السلام کا حضور سفیانی کے بغیر نہیں ہوگا۔ سفیانی کا نسب، مقام خروج اور خصوصیاتروایات شریفہ میں ہے کہ سفیانی اموی نسل اور معاویہ کے باپ، ہند جگرخوار کے شوہر اور یزید پلید کے داد ابوسفیان کی اولاد سے ہوگا اور بعض روایات میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ ہند جگر خوار اس کی دادی ہے۔ اور شام کی سرزمین میں واقع "وادی الیابس" سے خروج کرے گا۔ جسمانی خصوصیات اور فیزیکی حوالے سے بھی روایات نے بیان کیا ہے کہ وہ نہ بہت طویل القامت ہوگا اور نہ ہی چھوٹے قد کا ہوگا بلکہ متوسط قد کا مالک ہوگا اور اس کا چہرہ شیطانی اور بھوتوں جیسا ہوگا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بدشکل اور قبیح المنظر ہوگا۔ اور ممکن ہے کہ مذکورہ اوصاف کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وحشی پن اور قساوت قلبی اور سنگدلی کے اثرات اس کے چہرے سے واضح ہونگے اور ہر دیکھنے والا ان خصوصیات کو اس کے چہرے سے ہی بھانپ سکے گا اور اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کو دیکھنے والا ہر شخص خوف و وحشت سے دوچار ہوجائے گا۔ اس کے دیگر اوصاف میں سے ایک یہ ہے کہ اس کا چہرہ معمول سے بڑآ ہوگا اور اس کے چہرے پر چیچک کے اثرات ہونگے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے خروج سے قبل ہی چیچک کی بیماری میں مبتلا ہوجائے گا یا شاید یہ اثرات پیدائشی ہوں اور خلقت میں نقص کا نتیجہ ہوں یا ولادت کے وقت یا اس کے بعد عارض ہوئے ہوں۔ سفیانی کی ایک جسمانی خصوصیت کہ ہے کہ اس کی ایک آنکھ میں خلل ہے اور دیکھنے والوں کو کانا لگتا ہے۔ اور امام ابی عبداللہ جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ: «قال أبي صلوات الله وسلامه عليه قال أمير المؤمنين صلوات الله وسلامه عليه: يخرج ابن آكلة الأكباد من الوادي اليابس وهو رجل ربعة، وحش الوجه، ضخم الهامة، بوجهه أثر جدري إذا رأيته حسبته أعور، اسمه عثمان وأبوه عنبسة، وهو من ولد أبي سفيان»۔ وعن عثمان عن عمر بن يزيد قال: قال لي أبو عبد الله الصادق صلوات الله وسلامه عليه: «إنك لو رأيت السفياني لرأيت أخبث الناس»
(راجع كمال الدين وتمام النعمة للشيخ الصدوق: ص651).میرے والد امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ امام امیرالمؤمنین صلوات اللہ و سلامہ علیہ نے فرمایا: ہند جگر خوار کا بیٹا وادی یابس سے خروج کرے گا جو متوسط قد اور بڑے چہرے کا مالی ہے اور اس کے چہرے پر چیچک کا نشان ہے، اسے دیکھوگے تو کانا سمجھوگے اس کا نام عثمان اور اس کے باپ کا نام عنبسہ ہے اور وہ ابو سفیان کی اولاد سے ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ بے شک جب تم سفیانی کو دیکھوگے تو گویا تم نے خبیث ترین شخص کو دیکھا ہے۔ اس کا نام اور اس کی منحوس حکومت کی مدتبعض روایات میں کہا گیا ہے کہ اس کا نام عثمان بن عنبسہ ہے جیسا کہ مندرجہ بالا روایت میں بھی عرض ہوا لیکن ہم کچھ دوسری روایات میں دیکھتے ہیں کہ امام علیہ السلام سے جب اس کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو امام (ع) اس کے نام کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور سائل کو ہدایت کرتے ہيں کہ اس شخص کی دیگر اوصاف کو توجہ دے اور دوسرے معیارات کو مد نظر رکھے جو اس کی شخصیت کو واضح کرتے ہيں اور ممکن ہے کہ امام علیہ السلام کی طرف سے سفیانی کے نام کی عدم اہمیت کی وجہ یہ ہو کہ وہ شاید خروج کے بعد دوسرا نام اختیار کرے اور اس نام کے پس پردہ اپنے اصل تشخص کو چھپانا چاہے چنانچہ اس کے نام پر توجہ مرکوز کرنا بے فائدہ عمل ہے۔پس اہم بات یہ ہے کہ ہم اس کی دیگر خصوصیات کو جان لیں اور سمجھ لیں جن سے اس کی تشخیص ممکن ہوسکے گی۔ ان خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ سفیانی پانچ علاقوں پر حکومت کرے گا اور ان علاقوں کو روایات میں "کور الخمس" کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے؛ اور یہ کہ اس کی حکومت کی مدت آٹھ مہینے ہوگی اور اتنا ہی عرصہ سلطنت میں رہے گا اور حتی آٹھ مہینوں سے ای دن بھی اس کی حکمرانی زیادہ نہ ہوگی۔ عن عبد الله بن أبي منصور البجلي قال: سألت أبا عبد الله صلوات الله وسلامه عليه عن اسم السفياني فقال: «وما تصنع باسمه، إذا ملك كور الشام الخمس دمشق، وحمص، وفلسطين، و الأردن، وقنسرين فتوقعوا عند ذلك الفرج، قلت: يملك تسعة أشهر؟ قال: لا ولكن يملك ثمانية أشهر لا يزيد يوما» (راجع كمال الدين وتمام النعمة للشيخ الصدوق:ص651 -652).عبداللہ بن ابی منصور البجلی سے روایت ہے: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سفیانی کا نام پوچھا تو آپ (ع) نے فرمایا: تم اس کے نام کا کیا کروگے؟ بس جب وہ شام کے پانچ علاقوں "دمشق، حمص، فلسطین، اردن اور فنسرین پر حکومت کرے گا تو اس زمانے میں فَرَج اور فراخی کی توقع کرو۔ میں نے عرض کیا: کیا وہ نو مہینوں تک حکومت کرے گا؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: نہیں! بلکہ آٹھ مہینے حکومت کرے گا اور اس مدت میں ایک دن کا بھی اضافہ نہ ہوگا۔دوسری روایت کچھ تفصیل سے وارد ہوئی اور اس میں سفیانی کی مدت حکومت کچھ زیادہ بتائی گئی ہے:عن عيسى بن أعين عن أبي عبد الله الصادق صلوات الله وسلامه عليه أنه قال: «... ومن أول خروجه إلى آخره خمسة عشر شهرا، ستة أشهر يقاتل فيها، فإذا ملك الكور الخمس ملك تسعة أشهر ولم يزد عليها يوما» (كتاب الغيبة لمحمد بن إبراهيم النعماني: ص310).عیسی بن اعین نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ "آپ" نے فرمایا: ... اور سفیانی کے خروج سے اس کے زوال تک کا عرصہ پندرہ مہینوں پر محیط ہوگا جن میں سے وہ چھ مہینوں تک مسلسل لڑتا رہے گا اور جب پانچ علاقوں پر مسلط ہوکر حکمرانی کرنا شروع کرے گا اس کے ٹھیک نو مہینے بعد اس کی حکومت زوال پذیر ہوگی اور اس پر ایک دن کا اضافہ بھی نہ ہوگا۔اور ہاں ان دو روایات میں تضاد نہیں پایا جاتا بلکہ پہلی روایت اس کی اصل حکومت کی مدت بیان کرتی ہور جبکہ دوسری روایت اس آٹھ مہینوں کی بات کررہی ہے جب وہ حکومت کرے گا اور ایک مہینہ وہ دور ہے جب اس کے زوال کے بعد اسی کے ہاتھوں پھیلے ہوئے فتنے جاری رہیں گے۔ یہ حکومت دوسری حکومتوں کی مانند ہوگی اور اس کے اثرات زوال کے بعد بھی قلیل یا حتی طویل مدت تک باقی رہیں گے۔ امید ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام کی آنے والی حدیث اس مسئلے کو بہتر انداز سے واضح کردے جو ان روایات کو جمع کرکے ان کی وضاحت کرتی ہے۔امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: «... وإنما فتنته حمل امرأة تسعة أشهر ولا يجوزها إن شاء الله»۔ (سابقہ حوالہ ص312). اور بے شک اس کا فتنہ عورت کے حمل کے برابر (9 مہینے) جاری رہے گا اور ان شاء اللہ اس مدت میں کوئی اضافہ نہ ہوگا۔اس ارشاد امامت میں "وإنما فتنته" میں اس بات کی واضح دلالت ہے کہ اس کی حکومت 9 مہینوں کا یہ دور سفیانی حکومت اور اس کے بعد برے اثرات کی مدت کی مجموعی مدت ہے۔ اور پھر امام علیہ السلام نے "لا يجوزها إن شاء الله" فرما کر سفیانی کی حکومت کی مدت کو اللہ کی مشیت کے حوالے فرمایا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ 9 مہینے کی مدت بھی حتمی اور جزمی نہيں ہے چنانچہ ہو سکتا ہے کہ اس کی حکومت کی مدت 9 مہینے کی مدت سے زیادہ طول پکڑے یا پھر یہ مدت بھی کم ہوجائے۔ مدت حکومت میں یہ کمی یا زیادتی سفیانی کی تحریک کے موضوعی اور معروضی حالات پر منحصر ہے اور "لوح محو و اثبات" (اور تقدیر الہی) کے ذریعے اس مدت کا صحیح اور دقیق تعین ہوگا جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: "يَمْحُو اللّهُ مَا يَشَاء وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ" (سورة الرعد، الآية: 39). اﷲ جس (لکھے ہوئے) کو چاہے مٹا دیتا ہے اور (جسے چاہے) ثبت فرما دیتا ہے، اور اسی کے پاس ام الکتاب (اصل کتاب یا لوحِ محفوظ یا لوح محو و اثبات) ہے۔چنانچہ امام علیہ السلام نے خروج سفیانی کو حتمی الوقوع قرار دیا ہے لیکن اس کی حکومت کو کمی یا زیادتی کا قابل قرار دیا ہے اور اس کمی یا زیادتی کو اللہ کی مشیت سے متعلق قرار دیا ہے۔سفیانی کا دینروایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شخص مسلمان نہيں ہے یا پھر مسلمان ہے لیکن اس کے رجحانات صلیبی ہیں جو اسلام کے ساتھ جوڑ نہیں کھاتے اور یہ بات حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اس ارشاد سے واضح ہوتی ہے جہاں آپ (ع) فرماتے ہیں: