12 نومبر 2011 - 20:30

براعظم يورپ کے مختلف ملکوں ميں سرمايہ دارانہ نظام کے خلاف تحريک جاري ہے اور جرمني اور ہوائي ميں ہزاروں لوگوں نے مظاہرے کئے ہيں-

ابنا: موصولہ خبروں کے مطابق ہزاروں کي تعداد ميں جرمن شہري برلن اور فرينکفرٹ کي سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے سرمايہ دارانہ نظام کے خلاف سخت احتجاج کيا-مظاہرين حکومت سےمطالبہ کر رہے تھے کہ وہ فوري طور بڑے بڑے بينکوں کو ختم کردے- سرمايہ دارانہ نظام مخالف سيکڑوں افراد نےجزيرہ ہوائي کے دارالحکومت ہنولولو ميں بھي مظاہرے کئے-

ہوائي ميں ايشيا اور بحرالکاہل اقتصادي تعاون تنظيم کے سربراہي اجلاس کے موقع پر ہونے والے اس مظاہرے ميں شريک لوگ نعرے لگا رہے تھے کہ " اجلاس ميں شرکت کرنے والوں کو دنيا کے عوام کي کوئي فکر نہيں ہے-" اطلاعات کے مطابق پوليس نے مظاہرين کو اس ہوٹل کے سامنے جانے کي اجازت نہيں دي جہاں اس اجلاس ميں شرکت کرنے والے ملکوں کے سربراہ ٹھرے ہوئے ہيں- امريکہ کے صدر باراک اوباما اس اجلاس کي ميزباني کر رہے ہيں-

اکيس ملکوں نے پين پيسفک کے نام سے مشہور امريکہ اور بحرالکاہل کے ملکوں کے درميان تجارت کے نئے معاہدے کي اصولي منظوري دے دي ہے-.............

/169