ابنا: کوئٹہ...امام جمعہ علامہ سیدہاشم موسوی نے نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قربانی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنی سب سے عزیز شے قربان کرنا. انہوں نے قوم کے درمیان اتحادویگانت کے عمل کوسراہا اور کہا کہ کاش یہ اتحاد تمام ملت مسلمہ کے درمیان قائم ہوجائے . انہوں نے گزشتہ دنوں پوری ہزارہ قوم کا آپس میں مل بیٹھ کر یکجا ہوکراتحاد کا مظاہرہ کرنے کو سراہا اور پوری ہزارہ قوم سے گزارش کی کہ وہ اتحاد واتفاق سے رہے اور اپنے سربراہ کی حوصلہ افزائی کرے انکا مزید کہنا تھا کہ موجودہ وقت میں ہمیں اپنے ہمسایوں سے محبت و بھائی چارے کی فضاء کو قائم رکھنا ہوگا.علامہ سیدہاشم موسوی نےعیدغدیر کےموقع پراجتماعی شادی کے اقدام کوسراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں ہمیں نوجوانوں کی زہنی وروحی صلاحیتوں کو صاف رکھنا ہوگا اور اس مقصد کیلئے ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ اس بہترین کاموں میں حصہ لیں.انہوں نے کہا کہ یزید کاکام شراب نوشی، حرام خوری ،زنا کاری و دیگر فحش کام تھے اسی وجہ سے اُسے کسی یتیم اور بے کس کی فکرنہ تھی اور آج بھی ایسے افراد موجود ہے جوہرجگہ معصوم لوگوں کو اپنا شکار بناکر اپنے گندے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں ان سے ہوشیار ہونا ہوگا کیونکہ جو خود کو سنبھال نہ سکیں وہ دوسروں کو کیا سنبھالیں گے. ہم صرف قرآن و اہل بیت ہی کوراستہ اپنا کرکامیاب و کامران ہوسکتے ہیں.علامہ سید ہاشم موسوی نے ہزارہ قوم کی تحفظ کیلئے چیک پوسٹس کے خاتمے کی مذمت کی اورکہا کہ یہ نحجی چیک پوسٹس ہزارہ مومنین نے اپنے حفاظت کیلئے لگائی ہے اور انہیں کوئی نہیں ہٹا سکتا.کیونکہ انتظامیہ بلکول نااہل ہے اور ہمیں اپنے آپ کو تحفظ دینے کا پورا حق ہے .انہوں نے حکومت کی جانب سے یوم القدس کے شہداء ، زخمیوںاور علماء کیخلاف مقدمہ درج کرنے کو ناانصافی قرار دیا. اور جلدازجلد مقدمے کو ہٹانے کا مطالبہ کیا.آخر میںقوم کی اتحاد واتفاق اور مخصوصاً زخمیوں کی شفایابی اور شہداء کے بلند درجات کیلئے دعائیں کی......
/169