ابنا: مہر خبررساں ایجنسی نے امریکی اخـار وال اسٹریٹ جنرل کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کیخلاف علاقائی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں اسلحے کے انبار لگانے کے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے ۔امریکی اخبار کے مطابق اوبامہ انتظامیہ نے خاموشی سے ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت خلیجی اتحادی ملک متحدہ عرب امارات کو ہزاروں جدید بنکر بسٹر بم اور دیگر اسلحہ فروخت کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں مجوزہ پیکیج آنے والے دنوں میں امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا جو 4900 بنکر بسٹر بم اور دیگر ہتھیاروں پر مشتمل ہوگا۔ اوبامہ انتظامیہ ایران کے مقابلے پر چھ خلیجی ممالک بحرین ، اومان ، قطر ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور کویت کو یکجا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ نے خلیج تعاون تنظیم کے رکن ملکوں سے باقاعدگی سے اسٹریٹجک مذاکرات کئے ہیں اور پینٹا گون ان چھ ملکوں کے درمیان انٹیلی جینس کے تبادلے اور فوجی ہم آہنگی بڑھانے کے لئے کوششیں کررہا ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران امریکہ نے ان ممالک کو ہتھیار فروخت کرنے کے جو منصوبے بنائے ہیں ان میں سعودی عرب کے لئے 60 ارب ڈالرز مالیت کے جدید ایف پندرہ لڑاکا طیارے ، اومان کے لئے اسٹنگر میزائل اور فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائلوں کی فروخت کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ اخبار کے مطابق امریکہ خلیجی ممالک میں اپنے میزائل سسٹم کو مضبوط بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ امریکہ عراق سے انخلاء کے بعد اپنے فوجیوں کو خلیجی ممالک میں تعینات کررہا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکہ علاقہ میں عدم استحکام پیدا کرنے کی تلاش وکوشش کررہا ہے اور اس سلسلے میں خلیجی ممالک کے عرب حکمرانوں کو اپنی مٹھی میں لئے ہوئے ہے۔ ............
/169