8 نومبر 2011 - 20:30

بین الاقوامی فلاحی اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثر ہونے والے پچاس لاکھ افراد کے لیے کی جانے والی امدادی کوششیں فنڈز نہ ہونے کے سبب خطرے سے دوچار ہیں۔

ابنا: عالمی فلاحی تنظیمیں جن میں آکسفیم، سیو دی چلڈرن، کیئر اینڈ فرینچ ایجنسی، اور ایکٹِڈ نے خبردار کیا ہے کہ لاکھوں افراد کو غذائی قلت اور بیماریوں سے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ان تنظیموں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر انہیں مزید فنڈز نہیں ملے تو انہیں اپنی امدادی سرگرمیاں محدود کرنا پڑیں گی۔اقوامِ متحدہ کی جانب سے پینتیس کروڑ ستّر لاکھ ڈالر کی امدادی رقم جمع کرنے کے ہدف کا تیسرے سے بھی کم حصہ اب تک جمع ہوسکا ہے۔نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں الزام نہیں لگایا گیا ہے تاہم متاثرینِ سیلاب کی جانب پاکستانی حکومت کے ردعمل کو حالیہ مہینوں میں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔فلاحی تنظیموں کے بیان پر نہ ہی پاکستانی حکومت اور نہ ہی عالمی امداد دینے والوں نے تبصرہ کیا ہے تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عام تاثر یہ ہے کہ حکومت متاثرینِ سیلاب کی امداد میں ناکام ہوگئی ہے۔چاروں فلاحی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تیس لاکھ پاکستانیوں کو اب بھی ہنگامی بنیادوں پر خوراک کی امداد کی ضرورت ہے اور آٹھ لاکھ اب بھی بے گھر ہیں۔صوبۂ سندھ میں سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ صوبے کے بائیس میں سے چار اضلاع اب بھی سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ان تنظیموں نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کے امدادی پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے رقم کی اشد ضرورت ہے اور اگر فنڈز نہ ملے تو ان سرگرمیوں کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔رواں برس آنے والا سیلاب خیال کیا جارہا ہے کہ گزشتہ برس کے سیلاب کی نسبت بدتر ہے جس میں ڈھائی سو کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے پندرہ لاکھ مکانات صرف صوبۂ سندھ میں تباہ ہوئے ہیں۔ اہلکار بار بار خبردار کر چکے ہیں کہ متاثرہ علاقوں میں بیماریاں پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔.............

/169