8 نومبر 2011 - 20:30

پنجاب کی حکومت نے سیکورٹی اداروں کے سربراہوں اور جنرل کیانی کے ساتھ بات چیت کرکے ملک اسحق کو رہا کروایا تا کہ اس کو مستقبل میں بظاہر سیاسی جماعت بنانے کا موقع دیا جائے؛ ملک پاکستان کو خطرہ۔

ابنا: شیعہ کلنگ کے ذرائع کے مطابق ملک اسحاق کی رہائی کے لیے سکیورٹی اداروں کے ساتھ بات چیت مہینوں جاری رہی جس میں پنجاب حکومت نے بنیادی کردار ادا کیا۔ اس بات کی تصدیق کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے سابق دہشتگرد ملک اسحاق کے دیرینہ ساتھی دہشتگرد محمد احمد لدھیانوی نے بی بی سی کے ایک رپورٹر کے ساتھ انٹرویو میں کیا تھا کی تھی۔انتہائی اہم ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ محمد احمد لدھیانوی نے پنجاب انتظامیہ کے بعض ذمہ داروں سے کہا کہ عدالتوں نے ملک اسحاق کو رہا کر دیا ہے آپ بھی مہربانی کریں اور اسے جیل سے چھوڑ دیں جس پر پنجاب انتظامیہ کے ذمہ داروں نے گارنٹی مانگی اور محمد احمد لدھیانوی نے کہا کہ "میری ملاقات کروا دو"۔ چنانچہ پنجاب حکومت نے ملاقات کروادی جو تین گھنٹے جاری رہی۔ذرائع نے بتایا کے ملک اسحاق اور بعض دیگر شدت پسند گروہوں کے ساتھ مذاکراتی عمل کے دوران پنجاب کے وزیراعلٰی شہباز شریف کی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سمیت بعض دیگر سینیئر فوجی اور انٹیلی جنس افسران سے ملاقاتیں ہوئیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لشکر جھنگوی کے بانی ملک اسحاق جلد ہی باضابطہ اپنی تنظیم کی تحلیل اور مسلح جدوجہد ترک کرنے کا جھوٹا اعلان کرے گا اور اس کے بعد عملی سیاست میں حصہ لے گا۔ جو انتہائی خطرناک عمل ہے،عجب بات یہ ہے کہ جو تنظیم پاکستانی قوانین کے مطابق کالعدم ڈکلیئر ہوئی اور اس کا کوئی خارجی وجود ہی نہیں ہے اب اس کی تحلیل کا اعلان اسی کالعدم ٹولے کا سرغنہ کرے گا!! کیا اس سے ان دہشت گرد ٹولوں کے سامنے حکومت پاکستان اور اس کی "مقتدر ایجنسیوں" کی بے بسی ظاہر ہوتی ہے یا پھر یہ سب کچھ حکومت اور ان ایجنسیوں کا ہی ایجنڈا ہے؟ کیا اب حکومت دہشت گرد تنظیموں کے حوالے کی جائے گی اور پاکستان کے مفادات اور اس کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کا کام دہشت گردوں کے سپرد کیا جائے گا؟ کیا پاکستان دشمنوں کو پاکستان کی باگ ڈور سونپی جائے گی؟یہ سوالات اس وقت اور بھی سنجیدہ ہوجاتے ہیں جب معتبر ذرائع وضاحت کرتے ہیں کہ  "پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی خواہش ہے کہ ملک اسحاق کے ساتھ معاہدے کو بعض دیگر شدت پسند گروپوں کے ساتھ بھی دہرایا جائے اور اس سلسلے میں مسعود اظہر کی جیش محمد اور فضل الرحمٰن خلیل کی حرکت المجاہدین کے ساتھ بھی رابطے قائم کئے جا رہے ہیں"۔درج بالا معلومات کے سلسلے میں شیعہ کلنگ نے مختلف صحافی حضرات، کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں سے رابطے کئے جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ "یہ معلومات سو فیصد درست ہیں"۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بات اب شیعیان اہل بیت (ع) کی نہیں ہے بلکہ اب بات مملکت پاکستان کی ہے۔ موجودہ حالات دیکھ کر ایسا لگتا ہے کے پاکستان کے وجود کو شدید خطرات لاحق ہے، وہ تمام تنظیمیں جن کا ماضی شیعہ دُشمنی کے ساتھ ساتھ ملک دشمنی سے عبارت ہے، اب ایک جھنڈے تلے جمع ہورہی ہے، اور وہ جھنڈا کئی سال تک آل سعود کی میزبانی سے لطف اندوز ہونے والے شریف خاندان بالخصوص پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کے ہاتھ میں ہے۔ چنانچہ یہ سوال کرنے کی شاید ضرورت ہی نہ ہو کہ یہ جھنڈا انھوں نے کس کے کہنے پر اُٹھا رکھا ہے!۔

بشکریہ از شیعہ کلنگ ڈاٹ کام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110