ابنا: ايران کے وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے پير کو روسي شہر سن پٹرزبرگ ميں شانگھائي تعاون تنظيم کےسرابراہي اجلاس ميں اپني تقريرکے دوران اس تنظيم کے دائرہ ميں کار ميں توانائي سے متعلق ايک کلب کے قيام کو مثبت قدم سے تعبير کيا اور کہاکہ ايران اس کلب کے قيام ميں اپنا ہر طرح کا تعاون دينے کوتيار ہے -علي اکبر صالحي نے شانگھائي تعاون تنظيم کے دس برس ہونے کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اسلامي جمہوريہ ايران مختلف شعبوں ميں خاص طور پر توانائي اور ٹرانزيٹ کو وسعت دينے کے ميدان ميں اس تنظيم کے ساتھ تعاون کو فروغ دينے کي آمادگي رکھتا ہے -
علاقے کي جغرافيائي اور اسٹريٹيجک پوزيشن کے پيش نظر اور توانائي کے شعبے ميں ايران کے تجربات کے مدنظر تہران شانگھائي تعاون تنظيم کا ايک شريک ہے اسلامي جمہوريہ ايران اس وقت شانگھائي تعاون تنظيم کا مبصر ہے اور اس تنظيم کے ساتھ اپنے تعاون کو فروغ دينا چاہتا ہے اور دوسري طرف مذکورہ تنظيم کو بھي ايران کے تعاون کي ضرورت ہے وزير خارجہ نے اس اجلاس ميں اپني تقريرکے دوران علاقے ميں سيکورٹي کے معاملات پر بھي روشني ڈالتے ہوئے کہاکہ افغانستان ميں اغيار کي فوجي موجودگي سے نہ صرف اس ملک کي تعمير نو ميں کوئي مدد نہيں ملي ہے بلکہ افغانستان ميں بدامني اور منشيات کي کاشت ميں اضافہ ہوا ہے
انہوں نے کہا کہ غيرملکي فوجوں کو افغانستان سے نکل جانا چاہئے اور اس ملک ميں امن و امان کي برقراري کي ذمہ داري افغان حکومت اور عوام کے سپر د کردي جاني چاہئے وزير خارجہ نے اسي طرح روسي وزير اعظم ولاديمير پوتين سے بھي ملاقات کي اس ملاقات ميں دونوں ملکوں نے باہمي تعاون کو مزيد فروغ دينے کي ضرورت پر زورديا.............
/169