2 نومبر 2011 - 20:30

لاہور میں اسلام ٹائمز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ دین سیاست سے جدا نہیں، ہم ایسی الٰہی سیاست پر یقین رکھتے ہیں، جو معاشرے کو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور عدالت کی طرف لے جائے۔

ابنا: ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ان کی پارٹی آئندہ انتخابات میں حصہ لے گی اور اس حوالے سے ملک بھر میں امیدوار کھڑے کرنے کے لئے غوروخوض شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین نے دو سال کے مختصر عرصے میں اپنا تنظیمی ڈھانچہ مکمل کر لیا ہے، اب ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ انتخابی سیاست کا آغاز کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عملی سیاست میں ہم اتحاد بین المسلمین کا پیغام دنیا کو دیں گے، مجلس وحدت مسلمین ایسی سیاست چاہتی ہے جس میں میرٹ ہو، متقی لوگوں کو عنان حکومت دیا جائے اور لوٹ کھسوٹ کا خاتمہ ہو۔ علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ سیاست صالحین کا حق ہے، شاہی محلات میں رہنے والے اقتدار کی باتیں تو کرتے ہیں، مگر انہیں انقلاب لانے کی توفیق نہیں، دعووں کے باوجود عوام کی زندگی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب لانے کے لئے دنیاوی جاہ و جلال اور عہدوں کی ضرورت نہیں، مجلس وحدت مسلمین کی سیاست کا مرکز و محور دین اسلام ہے، اور اس کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم اور آئمہ اہل بیت علیہم السلام کی حیات طیبہ مشعل راہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی انقلاب اسلامی ایران امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ نے اس صدی میں اسلام کی حقیقی شکل پیش کی ہے، انہوں نے دو کمرے کے کرائے کے گھر میں رہ کر ثابت کر دیا ہے کہ سیاست کے لئے دولت اور بڑے جاہ و جلال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان کو امریکہ اور اس کے حواریوں سے نجات دلانے کی ضرورت ہے، اور اس کے لئے عوامی بیداری کی تحریک شروع کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کی سیاست کا مرکز حب الو طنی، ملکی ترقی اور شفاف جمہوری نظام ہے، جہاں غریب عوام محسوس کرے کہ ان کو حق حکمرانی دیا گیا ہے اور حکومت کی توجہ کا مرکز عوام ہے، نہ کہ حکمرانوں کی اپنی جائیداد، دولت اور کاروبار۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ہماری سیاست ملک کو آئی ایم ایف کے چنگل اور امریکی غلامی سے نجات دلائے گی۔ اب ضرورت ہے کہ 64 سالوں سے پاکستان پر قابض سیاسی اشرافیہ اور مقتدر حلقوں کو نکال باہر کیا جائے۔

............

/169