ابنا: چیف جسٹس افتخار چودھری نے کہاہے کہ اس کیس میں ایک وفاقی وزیر نے حکومت کو چارج شیٹ کیا جو بہت کم ہوتا ہے ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نیرینٹل پاور کیس کی سماعت کی تو ایک درخواست گزار وفاقی وزیر فیصل صالح حیات نے دلائل جاری رکھے، وزارت پانی و بجلی نے رینٹل پلانٹس کی دو ماہ کی کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایاکہ ایسے چار پلانٹس بجلی پیدا کررہے ہیں،عدالت نے وزارت کے وکیل خواجہ طارق رحیم کو کہاکہ وہ سابق وزیر پانی و بجلی سے پوچھ کر بتائیں کہ وہ عدالت آنا چاہتے ہیں تو آجائیں کیونکہ کرپشن ثابت ہوگئی تو ایکشن ان کے خلاف بھی ہوگا، فیصل صالح حیات نے دلائل میں کہاکہ آٹھ رینٹل پراجیکٹس کو موبلائزیشن ایڈوانس کی مد میں 25 ارب روپے دئے گئے، تین رینٹل سے عدالت نے 5 ارب واپس دلوا دیئے ہیں، 5 کے 20 ارب بقایا ہیں، انہوں نے کہاکہ رینٹل پر ایشیائی بنک کی آڈٹ رپورٹ کو وفاقی کابینہ نے منظور بھی کیا تھا، فیصل صالح حیات کے بعد خواجہ آصف نے دلائل دینا شروع کردیئے۔ ...........
/169