26 اکتوبر 2011 - 20:30

بحرين کے مختلف علاقوں ميں سعودي اور بيروني افواج کے تشدد کے باوجود عوام کے انقلابي مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے -

ابنا:بحرين کے عوام نے ملک کي شاہي حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاري رکھتے ہوئے ہمہ گير سياسي اصلاحات کا مطالبہ کيا ہے-اطلاعات کے مطابق دارالحکومت منامہ اور ملک کے ديگر شہروں ميں اپنے جمہوري مطالبات کے حق ميں پرامن مظاہرہ کرنے والوں کو شاہي حکومت کے فوجيوں نے تشدد کا نشانہ بنايا ہے اور سعودي فوجيوں کے تعاون سے کئے جانے والے حملوں ميں متعدد مظاہرين زخمي ہوئے ہيں-شاہي حکومت کے سپاہيوں نے درجنوں بے گناہ شہريوں کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل بھي کرديا ہے-

بحرين ميں رواں سال فروري کے مہينے سے شاہي حکومت کے خلاف عوامي تحريک جاري ہے اور اب تک سرکاري فورس کے بے جا تشدد اور طاقت کے استعمال کے نتيجے ميں سيکڑوں افراد شہيد اور زخمي ہوئے ہيں-

انقلابي تحريک کے دوران سيکڑوں لوگوں کو گرفتاربھي کيا گيا ہے جنہيں جيلوں ميں تشدد کا نشانہ بنايا جارہا ہے-

بحرين کي آل خليفہ حکومت اب تک سعودي عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات کے فوجيوں کي مدد سے عوامي تحريک اور پرامن مظاہروں کو طاقت کے بل پر کچلنے کي کوشش کرتي رہي ہے تاہم اسے خاطر خواہ کاميابي حاصل نہيں ہوسکي ہے- بحرين کي سياسي اور مذہبي قوتوں کا کہنا ہے کہ وہ ملک ميں جمہوريت کے قيام اور مطلق العنان شاہي حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاري رکھيں گے- مظاہرين نے اس عزم کا اظہار کيا ہے کہ غير ملکي فوجيوں کے ذريعے عوامي مظاہروں کي سرکوبي کے باوجود ان کے عزم ميں کوئي خلل واقع نہيں ہوگا اور اپنے مطالبات کے حق ميں پرامن تحريک چلاتے رہيں گے- ادھر انساني حقوق کي متعدد عالمي تنظيموں نے مظاہرين کے خلاف ممنوعہ ہتھياروں کے استعمال کي بابت بحرين کي شاہي حکومت پر کڑي نکتہ چيني کي ہے- انساني حقوق کي عالمي تنظيموں نے حکومت بحرين سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ عوام کے خلاف طاقت کے استعمال کا سلسلہ فوري طور پر بند کردے-بحرين کے معروف صحافي اور تجزيہ نگار جواد عبدالوہاب نے اپنے ايک انٹرويو ميں کہا ہے کہ آل خليفہ اور آل سعود حکومتوں کي سازشوں کا مقابلہ کرنے اور انقلاب کي کاميابي کے لئے بحريني عوام اور ملک کي سياسي قوتوں کو نئي حکومت کے قيام تک پرامن طريقوں سے جدوجہد کاسلسلہ جاري رکھنا ہوگا-ايک اور اطلاع يہ ہے کہ لبنان کے سابق صدر اميل لحود نے بحريني انقلابيوں کے ايک وفد سے بيروت ميں ملاقات کي ہے اور بحرين ميں جاري عوامي تحريک کي حمايت کا اعلان کيا ہے- انہوں نے کہا ہے کہ بحريني عوام کي تحريک ايک حقيقي عوامي تحريک ہے اور عوام شاہي خاندان سے اپنے جائز حقوق ديئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہيں-بحريني پارليمان کے سابق رکن حسن سلطان نے بھي اميل لحود کے ساتھ ملاقات ميں يہ بات زور ديکر کہي ہے کہ بحريني عوام کو اپني جدوجہد کي کاميابي کا پختہ يقين ہے، اور آخر کار وہ اپنے جائز اور منصفانہ حقوق حاصل کرنے ميں کامياب ہوجائيں گے-بحرين کے عوام ملک ميں سياسي اصلاحات اور شاہي حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہيں اور انکا کہنا ہے کہ حکومت کا کوئي بھي حربہ انہيں اپنے مقاصد کے حصول کي جدوجہد سے نہيں روک سکتا-...........

/169