24 اکتوبر 2011 - 20:30

لندن. .. .. . . . برطانیہ کی پارلیمنٹ نے یورپی یونین چھوڑنے کے معاملے پر ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔

ابنا: تاہم خود حکومتی جماعت کی جانب سے اٹھنے والے اس معاملے نے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی حکومت کی کمزوریوں کو اجاگر کیا ہے ۔وزیرا عظم ڈیوڈ کیمرون کی جماعت کے 80 ارکان اسمبلی کی بغاوت سے ان کی 17 ماہ کی حکومت کو ایک بڑی بغاوت کا سامنا تھا۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت ان لوگوں کے نظریات کا احترام کرتی ہے جو یورپی یونین سے تعلق توڑنا چاہتیہیں مگر برطانیہ وہ کرے گا جو اس کے بہترین قومی مفاد میں ہو۔ یورپی یونین میں برطانیہ کے مفادات کو بہترین تحفظ حاصل ہے۔ ریفرنڈم کی مخالفت میں 483 ووٹ آئے جبکہ اس کی حمایت میں پڑنے والے ووٹوں کی تعداد 111 تھی۔ یورپی یونین سے وابستگی برقرار رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی 40 فیصد تجارت یورپی یونین سے ہوتی ہے اس لیے اس سے علیحدگی معیشت کیلیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔ جبکہ مخالفین نے اس تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ نے یورپی یونین کو بہت زیادہ اختیارات دے دیئے ہیں جو اقتصادی ترقی کیلئے رکاوٹ اور غیرجمہوری ہیں۔ ..........

/169