21 اکتوبر 2011 - 20:30

بیمار تو سعودی عرب کے 88 سالہ بادشاہ بھی ہیں لیکن ان کے بھائی اور ولیعہد 83 سالہ ولیعہد آج صبح داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ سلطان بن عبدالعزیز طویل عرصے سے سرطان کے عارضے میں مبتلا تھے / سات ہزار افراد پر مشتمل سعودی خاندان / فکرمندیاں / اب کیا ہوگا؟ نیا ولیعہد کون ہے؟ / اقتدار کی جنگ سنجیدہ مسئلہ ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور سعودی ذرائع نے سعودی بادشاہ کے 83 یا 81 سالہ بھائی سلطان بن عبدالعزیز آل سعود کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔سلطان کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے اور طویل عرصے سے امریکہ کے اسپتالوں میں زیر علاج تھے اور آج علی الصبح نیویارک کے ایک اسپتال میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔سی این این نے اطلاع دی ہے کہ سعودی ولیعہد 85 برس کی عمر میں انتقال کرگئے ہیں، اور سرطان کے اثرات اس کے پورے بدن پر پھیل گئے تھے جن کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔ آل سعود سے وابستہ العربیہ چینل نے بھی سعودی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عرب میں بھی آج سلطان بن عبدالعزیز کے انتقال کا سرکاری اعلان کیا جائے گا۔

سعودی ولیعہد کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن چونکہ وہ جولائی 1931 میں پیدا ہوئے تھے چنانچہ ان کی عمر 80 سال اور 3 مہینے درست ہے۔

سعودی ولیعہد طویل عرصے سے بیمار تھے کئی بار ان کے انتقال کی خبریں بھی آئیں جن کی بعد میں تردید ہوئی۔ ان کے معدے کو سرطان کا عارضہ لاحق تھا۔ سلطان عرب ذرائع ابلاغ میں "سدا مسکراتے امیر" کے عنوان سے مشہور تھے۔سلطان کئی برسوں سے نیویارک میں زیر علاج رہے اور حال ہی میں وطن واپس آئے تھے لیکن جولائی 2011 میں ان کی صحت خراب ہوگئی اور ایک بار پھر نیویارک چلے گئے اور زير علاج رہے حتی کہ وہیں انتقال کرگئے۔

سلطان بن عبدالعزیز وزیر دفاع، سول ایوی ایشن کے سربراہ اور ملک کے انسپکٹر جنرل کے عہدوں پر فائز تھے۔ وہ 1962 سے وزیر دفاع تھے۔19 سال تک امریکہ میں سعودی عرب کے سفارت کے عہدے پر فائز رہنے والے بندر بن سلطان ان کے بیٹے ہیں جو ایک متنازعہ شخصیت کے مالک ہیں اور علاقے میں عوامی انقلابات کا راستہ روکنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ان پر حزب اللہ کے کمانڈر شہید حاج عماد مغنیہ اور سابق لبنانی وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے منصوبے تیار کرنے کا الزام بھی ہے اور شام میں باغیوں کو مالی اور فوجی امداد بھی دے رہے جبکہ شام میں ان کا کردار بالکل اعلانیہ ہے۔ بحرین میں انقلاب کا راستہ روکنے اور بعض ممالک سے بحرین کے آل خلیفہ خاندان کے اقتدار بچانے کے لئے کرائے کے فوجی بھجوانے میں ان کا کردار ہے۔ ان کو شیڈو پرنس بھی کہا جاتا ہے۔ اور والد کی بیماری کے دوران بادشاہت کا عہدہ سنبھالنے کی دوڑ میں بھی شامل ہوگئے ہیں۔ بندر بن سلطان اس وقت سعودی عرب کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری ہیں۔

ولیعہد سلطان بن عبدالعزیز عبدالعزیز بن سعود کے پندرہویں بیٹے تھے اور ان کے باپ عبدالعزیز بن سعود نے حجاز و نجد، الشرقیہ اور یمن کے تین صوبوں"نجران، اثیر اور جیزان" پر قبضہ کرکے وہابی مفتیوں کی مدد سے آل سعود کی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔طے شدہ پروگرام کے مطابق سلطان بن عبدالعزيز کی میت منگل کے روز نیویارک سے دارالحکومت ریاض منتقل کی جائے گی۔

نائف بن عبدالعزیز (دائیں) اور سلمان بن عبدالعزیز (بائیں) ولایتعہدی کے مضبوط امیدوار ہیں

 سات ہزار افراد پر مشتمل سعودی خاندان1902 میں «عبدالعزیز بن عبدالرحمن بن فیصل» نے ریاض پر قبضہ کیا اور آل سعود کی جدید فرمانروائی کی بنیاد رکھی گئی جو 1953 میں عبدالعزيز کی موت پر اختتام پذیر ہوئی اور اس کے بعد بیٹوں کی فرمانروائی کا آ‏غاز ہوا۔ سعود بن عبدالعزیز 1953 سے 1964 تک، فیصل بن عبدالعزیز از 1964 سے 1975 تک، خالد بن عبدالعزیز از 1975 سے 1982 تک، اور فہد بن عبدالعزیز از 1982 سے 2005 تک بادشاہ رہے اور ان کے بعد عبداللہ بن عبدالعزیز تاحال سعودی بادشاہ ہیں۔ عبداللہ بیمار ہيں اور ان کے جانشین دنیا سے رخصت ہوئے ہیں اور نا‏ئف اگر جانشین بنتے ہيں تو عبدالعزیز کے باقیماندہ بیٹے خود بخود میدان سے باہر ہوجائیں گے جبکہ سلمان بن عبدالعزيز کا نام بھی لیا جارہا ہے۔سعودی بادشاہت کے سلسلے میں تیسری نسل کے شہزادوں کی دلچسپی بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہيں ہے اور ان کی صحیح تعداد بھی نامعلوم ہے۔گوکہ عبدالعزيز کے بیٹوں کی تعداد بھی معلوم نہيں ہوسکی ہے اور بعض لوگ تو کہتے ہيں کہ ان کے جائز اور ناجائز فرزندوں کی تعداد 150 سے لے کر 215 تک ہے۔ (ناجائز کا لفظ اس لئے استعمال ہورہا ہے کہ عبدالعزیز نے دسیوں خواتین کو اپنی حرمسرا کی راہ دکھائی تھی اور ان کی تعداد بہرصورت چار سے زا‏ئد تھی لیکن وہابی مفتیوں نے "شریعت محمدی (ص) میں ترمیم کرکے ان کو ایسا کرنے کی اجازت دی تھی)۔اتنے زیادہ فرزندوں سے ہی 7000 افراد پر مشتمل سعودی خاندان معرض وجود میں آیا ہے۔اس خاندان نے جزیرہ نمائے عرب کا نام "سعودی عرب" رکھا ہے اور اس ملک کو اپنی خاندانی ملکیت میں تبدیل کردیا ہے اور ملکی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی ان شہزادوں کے درمیان تقسیم ہوتی ہے اور عوام بے گھر ہیں تو یہ خاندان سیاہ و سفید کا مالک ہے لیکن لگتا ہے کہ عبدالعزیز کے نامور فرزندوں کے سائے میں تیل کی دولت لوٹنے کا یہ "زرین دور" ختم ہونے کو ہے جب تیسری نسل کے ہزاروں شہزادوں کے درمیان اقتدار اور لوٹ کھسوٹ کی دوڑ نمایاں ہوتے ہی آل سعود کو نہایت تاریک دن دیکھنے پڑیں گے۔

فکرمندیاںسعودی عرب کے بادشاہ کے بعد کسی ایک شخص پر سب کا اتفاق آنا، ممکن نہیں ہے تیسری نسل دوسری نسل کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لئے تیار نظر نہیں آتی جن میں سعود الفیصل، وزیر خارجہ ـ خو صہیونی امریکی لابی کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں اور کافی اثر و رسوخ کے مالک ہیں، بندر بن سلطان اور شاہی گارڈ کے کمانڈر نیز عبداللہ بن عبدالعزيز کے بیٹے متعب وغیرہ سب کے سب بادشاہ بننے کے خواب دیکھنے لگے ہیں ـ تیسری نسل کے خاص افراد میں شمار ہوتے ہیں چنانچہ بیرونی دنیا میں صہیونیت اور امریکہ و برطانیہ کو سعودی مستقبل کے بارے میں تشویش لاحق ہے اور اندرون ملک اور اسلامی دنیا میں تکفیری سلفیت کو بہت تشویش لاحق ہے کیونکہ سعودی بادشاہت میں عدم استحکام کی صورت میں ان کی گاڑی کو ایندھن نہیں ملے گا اور ان کی تکفیر اور قتل و غارت کی گاڑی نہیں چلے سکے گی اور تکفیر کے کارخانے بند ہونے کا خطرہ بڑھے گا۔سعودی عرب کے اندر کے سلفیت کا وجود آل سعود سے وابستہ ہے اور ایک طرف سے آل سعود کی حکومت آئی ہے تو دوسری طرف سے سلفیت کا فتنہ اس کے لازمے کے عنوان سے اس کے ساتھ ساتھ چل کر آئی ہے اور یہ دو یعنی سعودیت اور وہابیت لازم و ملزوم ہیں چنانچہ ان میں ایک غائب ہونے کی صورت میں دوسری کی تمام ہستی خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے۔وہ ابن عبدالعزيز بادشاہوں کے بعد کے مرحلے میں کسی بھی قسم کی انارکی پھیلنے کے امکان کے پیش نظر فکرمند ہیں کیونکہ ایسی کوئی انارکی جزیرہ نمائے عرب اور پھر دنیا کے دوسرے خطوں میں ان کے مکتب کو چیلنجوں سے دوچار کرے گی۔ چنانچہ وہابی مفتی ان دنوں پہلے سے کہیں زیادہ فعال ہیں اور وہ ہر اٹھنے والی صدا کو کفر و شرک سے تشبیہ دیتے ہیں اور کسی بھی احتجاج کو حرام قرار دیتے ہیں اور مختلف سوچ رکھنے والوں کو فوری طور پر کچلنے کے احکامات جاری کرتے ہيں

اسرائیل اور امریکہ کی فکرمندی

اسرائیل کا فلسفۂ وجود ہی متنازعہ ہوچکا ہے اور مصر میں عوامی انقلاب کی کامیابی نے اس کے ارد گرد "عرب محافظ حصار" کا خاتمہ کردیا ہے؛ مصر اور پہلوی حکومت کے زمانے میں امریکی پالیسی کے مشرق وسطی میں دو ہی ستون تھے ایران اور مصر، ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوا اور امریکہ کو ذلیل ہوکر نکلنا پڑا تو امریکہ کو مصر اور آل سعود کا سہارا حاصل تھا اور مصر میں امریکہ نواز آمریت کے خاتمے کے بعد امریکہ کو سعودی عرب کے سوا علاقے میں کوئی بھی قابل اعتماد حکمران نظر نظر نہیں آرہا چنانچہ اس کی نظریں آل سعود پر جمی ہوئی ہیں جس کو خود متعدد چلنجوں کا سامنا ہے اور اندرونی طور پر ھی اس کو عوامی بیداری کی تحریک کا سامنا ہے۔ بہر صورت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو اگر سعودی خاندان کے ستونوں میں تھوڑی سے لرزش و لغزش نظر آئے تو امریکی و اسرائیلی حکام لرزہ براندام ہوجاتے ہیں چنانچہ وہ کسی صورت میں بھی بحرین اور یمن میں عوامی انقلاب کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور ان کی مزاحمت کر  اور  کروارہے ہیں کیونکہ ان دوملکوں میں انقلاب کی کامیابی آل سعود کی عمارت کو ہلاکر رکھ دے گی اور خلیج فارس کی دوسری ریاستوں میں قائم امریکی حمایت یافتہ حکمران خاندانوں کو بھی عوامی انقلابات کا سامنا کرنے کا امکان فراہم ہوجائے گا۔قوموں کا عزم بمقابلہ امریکہ - اسرائیل اور سعودی عرب

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

امریکہ - اسرائیل اور سعودی عرب اور ان کے یورپی حلیف سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں اور کسی صورت میں انقلابوں کی کشتی ساحل مراد سے لگنے نہ دینے کا تہیہ کئے ہوئے ہيں لیکن عزم ملت و امت کے سامنے ان قوتوں کی مزاحمت کا امکان بہت کمزور ہے اور اٹھنے والی قوموں نے اپنے لئے جو مقدر رقم کرلیا ہے اس کے ٹلنے کی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ اللہ نے مدد کا وعدہ فرمایا ہے اور ارشاد فرماتا ہے:إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلاَ مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ۔ (سورہ رعد آیت 11)بے شک اﷲ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی پیدا کر ڈالیں، اور جب اﷲ کسی قوم کے ساتھ (اس کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے) عذاب کا ارادہ فرما لیتا ہے تو اسے کوئی ٹال نہیں سکتا، اور نہ ہی ان کے لئے اﷲ کے مقابلہ میں کوئی مددگار ہوتا ہے۔سو آمروں اور استبدادیوں کی حکمرانی بہت ہوگئي اور اب قوموں نے ارادہ کرلیا ہے تبدیلی کا اور اللہ اپنے وعدے کے مطابق مدد فرمارہا ہے اور اب جب ظالموں اور بد اعمال قوتوں کو سزادینے کا ارادہ ہو ہی گیا ہے تو ٹالنے والا بھی کوئی کیونکر ہوسکتا ہے؟سعودی عرب میں تبدیلی عالم اسلام میں تبدیلی کا باعث ہوگا اور لگتا ہے کہ اس تبدیلی کا آغاز ہوہی گیا ہے اور اگر نائف ولیعہد ہوجائیں تو وہ بھی ایک دو سال میں وہیل چئیر کے ہوجائیں گے اور عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ ان کے بعد ابن عبدالعزوں میں کوئی دوسرا نہیں ہے جو ان کا ولیعہد بن سکے اور جب عبدالعزیز کے پوتوں اور نواسوں کی باری آئے گی تو کسی فرد پر تمام کا اتفاق ممکن نہ ہوگا چنانچہ سعودی حکومتوں کی مدت سالوں سے مہینوں اور ہفتوں تک گھٹ جائے گی۔

اب کیا ہوگا؟ نیا ولیعہد کون ہے؟اہل البیت (ع) نیوز ا