21 اکتوبر 2011 - 16:01

عبوری کونسل کے اہلکاروں نے کہا کہ قذافی اور ان کے بیٹے معتصم کی لاشیں نامعلوم مقام پر سپرد خاک کیاگیا/لیبیا کی مکمل آزادی کے اعلان میں تاخی/موجودہ مرحلے سے گذرنے کے لئے لیبیا کا روڈ میپ / امید ہے کہ لیبیائی تہذیب بدل جائے / خبردار مغرب نواز عناصر برسر اقتدار نہ آئیں / قذافی کی ہلاکت کے بعد لیبیا میں مفرب کی موجودگی کا جواز ختم

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لیبیا کی عبوری کونسل کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ قذافی اور ان کے بیٹے معتصم کی لاشیں نامعلوم مقام پر سپرد خاک کیا گیاہے لیکن انھوں نے سابق لیبیائی ڈکٹیٹر معمر القذافی اور ان کے بیٹے کو خفیہ مقام پر دفنانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔
لیبیا کی مکمل آزادی کے اعلان میں تاخیر
ادھر عبوری کونسل نے اعلان کیا ہے کہ لیبیا کی مکمل آزادی کا اعلان کل ہفتے کے روز تک ملتوی کیا گیا ہے۔
عبوری کونسل نے یہ اعلان اس وقت کیا جب نیٹو نے اعلان کیا کہ لیبیا میں نیٹو کی کاروائیوں کے اختتام کا اعلان عبوری کونسل کی رائے پر منحصر ہے۔
موجودہ مرحلے سے گذرنے کے لئے لیبیا کا روڈ میپ
لیبیا کی بن غازی یونیورسٹی کے استاد نے کہا ہے کہ لیبیا کے عوام نے ملک کے مستقبل میں غیروں کی مداخلت کا سد باب کرنے کے لئے روڈ میپ تیار کرلیا ہے تا کہ کوئی بھی قوت مدد کے بہانے لیبیا کے معاملات اور نظام حکومت کی تشکیل میں مداخلت نہ کرسکے۔
ڈاکٹر محمد محمود الشرکسی نے العالم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا کے عوام نے موجودہ حساس اور خطرناک مرحلے سے گذرنے کے لئے ایک روڈ میپ تدوین کیا ہے جو تمام مسائل کو واضح کردیتا ہے اور اس روڈ میپ کا ایک حصہ آئین کے اعلامئے کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے جبکہ آئین کا اعلامیہ ملک کے مستقبل کے راستے کا تعین کرتا ہے۔
انھوں نے کہا: لیبیائی عوام بیرونی دنیا کی طرف سے کوئی حکم، کوئی ہدایت اور کوئی اشارہ قبول نہیں کرتے تاہم انھوں نے کہا کہ لیبیا کو اس وقت بے شمار اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے۔
انھوں نے کہا: لیبیا کے عوام کو چالیس سال تک ملکی انتظام سے دور رکھا گیا تھا اور تمام چیزیں ان پر ٹھونس دی جاتی تھیں اور نئے مرحلے میں لیبیا کی حکومت کی تشکیل کے لئے عقل، فہم اور ادراک نیز عوام کے تمام طبقوں کی تہذیب و ثقافت کو مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا: لیبیائی عوام سیاست سے نابلد ہيں اور سیاسی دھڑوں اور جماعتوں نے بھی کبھی سیاسی کام نہیں کیا ہے چنانچہ دوسرے ممالک کی مانند سیاسی جماعتوں کی تشکیل ـ جو ملکی باگ ڈور سنبھال سکیں ـ بہت مشکل ہے۔
امید ہے کہ لیبیائی تہذیب بدل جائے
انھوں نے کہا: ہمیں امید ہے کہ لیبیائی عوام کی تہذیب و ثقافت بدل جائے اور وہ مزید توقع نہ رکھیں کہ ملکی انتظام قومی اور قبائلی انداز سے چلايا جائے گا اور قبائل کو وزارتخانے دیئے جائیں گے۔
الشرکسی نے کہا: عبوری مرحلہ ملک کے لئے حساس تری مرحلہ ہے چنانچہ ایک مقتدر حکومت کی ضرورت ہے جو ذمہ دار ہو اور شہداء، مجروحین اور مجاہدین کے مسائل حل کرنے کا اہتمام کرے۔
انھوں نے کہا کہ اب ملک کو بنانے کا مرحلہ ہے اور کہا جاسکتا ہے کہ ہم نے ملک کی تعمیر کا مرحلہ شروع کردیا ہے۔
خبردار مغرب نواز عناصر برسر اقتدار نہ آئیں
لیبیائی سیاستدان نے قوم کو مغرب نواز عناصر کو اقتدار تک پہنچانے کے لئے مغرب کی دباؤ سے خبردار کرتے ہوئے کہا: جرائم پیشہ اور ستمگر عناصر اور بیت المال کے چوروں کو کسی صورت میں برسراقتدار نہ آنے دیا چائے اور سابقہ آمریت میں کردار ادا کرنے والے افراد کو اقتدار میں نہیں آنے دینا چاہئے۔
"فتحی الحفیظ" نے العالم سے بات چیت کرتے ہوئے پیشین گوئی کی ہے کہ مغرب لیبیا پر تسلط جما کر اپنے طویل المدت مفادات حاصل کرنے کے درپے ہے اور اپنے اہداف تک پہنچنے کے لئے مصروف عمل ہیں اور اپنے ایجنٹوں کو اقتدار میں لانا چاہتی ہیں اور کروڑوں ڈالر خرچ کرکے آنے والے انتخابات میں اپنے ایجنٹوں کو جتانا چاہتی ہیں تاکہ لیبیا پر ایک بار مسلط ہوجائیں اور انقلاب کو منحرف کردیں اور قومی دولت کو دوبارہ لوٹنا شروع کریں۔
قذافی کی ہلاکت کے بعد لیبیا میں مفرب کی موجودگی کا جواز ختم
طرابلس کے انقلابیوں کے نمائندے نے کہا کہ آمر کرنل قذافی ہلاک ہوگئے ہیں اور مغربی قوتوں کے پاس لیبیا میں موجودگی کا کوئی بہانہ باقی نہیں رہا چنانچہ انہیں فوری طور پر لیبیا سے نکل جانا چاہئے۔
"اشرف القره بوللي" نے کل جمعرات کو قذافی کی ہلاکت کی خبر شا‏ئع ہونے کے بعد اعلان کیا: مغربی قوتوں کی لیبیا میں موجودگی کی مہلت ختم ہوگئی ہے کیونکہ انھوں نے خود کہا تھا کہ قذافی جب تک زندہ ہونگے وہ لیبیا میں موجود رہیں گی اور اب قذافی دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں تو انہیں فوری طور پر نکلنا چاہئے۔
انھوں نے کہا: ہم عبوری کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انقلابیوں کے ہاتھوں لیبیا کی آزادی کا اعلان کردے تا کہ ملک میں جمہوریت کے قیام کے لئے راستہ ہموار ہوجائے۔
انھوں نے کہا: 20 اکتوبر 2011 ہمارے لئے عظیم دن ہے کیونکہ اس دن لیبیا کا ڈکٹیٹر قذافی مارا گیا اور سرت شہر آزاد ہوگیا اور لیبیا کے عوام نے قذافی کی 42 سالہ آمریت کا زوال اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
انھوں نے کہا: یہ عظیم کامیابی لیبیائی عوام اور انقلابیوں کی ہمت اور کوشش کا ثمرہ ہے جبکہ مغربی ممالک اپنے مفادات کے حصول کے لئے لیبیا آئے ہوئے ہیں اور اب انہیں جانا پڑے گا اور اس مغربی منصوبے کا اب خاتمہ ہونا چاہئے کیونکہ ہم بیرونی مداخلت کے خواہاں نہیں ہیں۔

---- 

آج (22 اکتوبر 2011) کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق قذافی کی لاش ابھی تک دفنائی نہیں جاسکی ہے اور ان کی میت ذرائع کے بقول سیاح جذب کرنے کے (Tourist Attraction) کے لئے رکھی گئی ہے جبکہ ہزاروں لیبیائیوں نے بھی قطاریں باندھ کر قذافی کی میت کا منفرد انداز سے آخری دیدار کررہے ہیں۔
 

قذافی کا ٹھکانہ

قذافی کا ٹھکانہ

قذافی کی لاش

قذافی مختلف زاویئے سے

نوجوان جس کے ہاتھ میں قذافی کا ذاتی پستول ہے

کہا جاتا ہے اسی نوجوان نے اسی ہتھیار سے قذافی کو نشانہ بنایا

قذافی آمروں کے لئے نشانہ عبرت

'

ہلاکت کے فورا بعد لی گئی تصویر

علی علیہ السلام نے فرمایا: دنیا میں اس طرح سے رہو کہ لوگ تمہارے جانے سے مغموم ہوکر روئیں

جبکہ قذافی کی موت پر لیبیا نے جشن منایا

عوام کا قتل عام کرانے والا خود بھی موت سے بچتا نہیں ہے

اللہ مہلت دیتا ہے لیکن بھول نہیں جاتا ظالموں کو

عوام کی لاشوں پر حکمرانی کا انجام

سورہ مرسلات آیات 16 تا 19۔ قرآن کریم

کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟
پھر اُنہی کے پیچھے ہم بعد والوں کو چلتا کریں گے۔
مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔
تباہی ہے اُس دن جھُٹلانے والوں کے لیے۔

.....................

/110