20 اکتوبر 2011 - 20:30

کراچی…… سی آئی اے پاکستان کے ساتھ ایک خاموش معاہدے کے تحت شمالی وزیرستان اور دیگر پاکستانی قبائلی علاقوں میں حقانی نیٹ ورک اوردیگر افغان عسکریت پسندوں کے خلاف ڈرون حملے کر رہی ہے.

ابنا:پاکستان نے کوئٹہ اور دیگر حصوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کو وسیع کرنے کی امریکی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔امریکیوں کی ہلاکت میں ملوث انتہا پسندوں کے خلاف امریکا یک طرفہ کارروائی کرے گا۔ امریکی اخبار’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی فوج اپنے قبائلی علاقے میں مقامی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے ان کے پاس افغان عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کے لئے وسائل نہیں ہیں ، ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا کہ کلنٹن اپنے دورہ میں پاکستان کوپیغام دیں گی ۔اب یہ طے کرنے کی ضرورت ہے ،پاکستان عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے ورنہ امریکا کرے گا ۔اخبار کے مطابق پاکستان کے ساتھ ایک خاموش معاہدے کے تحت سی آئی اے شمالی وزیرستان اور دیگر پاکستانی قبائلی علاقے میں حقانی اوردیگر افغان عسکریت پسندوں کے خلاف ڈرون حملے کر رہی ہے۔ اس معاہدے کے تحت رواں ماہ کے اوائل میں حقانی نیٹ ورک کے اہم عہدے دار کو ہلاک کیا گیا۔ پاکستان نے کوئٹہ اور دیگر حصوں میں عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں کے خلاف آپریشن کو وسیع کرنے کی امریکی درخواستوں کو مسترد کر دیا ۔ماضی میں امریکا نے کوئٹہ میں حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف کارروائی کے لئے پاکستان پر دباوٴ ڈالنے کی کوشش کی لیکن زیادہ کامیابی نہیں ملی۔ امریکی اخبار’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق ایک غیر معمولی طاقتور امریکی وفد پاکستان کو انتہائی سخت دھمکی دینے پہنچا ہے۔ ایک سینئر امریکی اہلکار کے مطابق کہ امریکیوں کو ہلاک کرنے کیلئے پاکستان کی سرزمین کو ایک پناہ گاہ کے طور پراستعمال کرنے والے انتہا پسندوں پر حملہ کرنا ضروری ہوا تو امریکا یک طرفہ کارروائی کرے گا۔ہلیری،پٹریاس اور جنرل مارٹن نے پاکستانی ہم منصبوں پر دباوٴ ڈالنے کی منصوبہ بندی کر کے آئے ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں سے لڑ ائی یا ان کی حمایت کے درمیان میں سے کسی ایک حتمی انتخاب کریں۔ امریکی اور پاکستانی حکام کے درمیان چار گھنٹے کی ملاقات ہوئی ۔ ایک پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ پیٹریاس نے جنرل پاشا کے ساتھ علیحدہ ملاقات بھی کی ۔ ایک اور سینئر پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ کابل میں کلنٹن کے ریمارکس ماحول کے مطابق نہیں تھے۔ پاکستانی وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات سے قبل ایک سینئر امریکی انتظامی عہدیدار نے کہا کہ امریکی وفد پاکستان پر واضح کرے گا کہ اگر پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہیں کرتا تو امریکا یہ کارروائی کرے گا۔ .امریکی حکام نے کہا کہ انتہا پسندوں سے تعلق توڑنے کے لئے پاکستان پر امریکی دباوٴ کی گزشتہ کوششیں ناکام ہو گئیں۔اب سخت موقف اپنانے کی ضرورت ہے پیار سے اب کام نہیں چلے گا۔ حالیہ ہفتوں میں پاکستانی حکام کی طرف سخت اشارے ملے۔پاکستان کے وزیر اعظم کشیدگی کے باوجود گرم جوشی سے ملے،حنا ربانی کھر نے بھی اجلاسوں اور ڈنر میں شرکت کی لیکن افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور امریکی انخلاء کے متعلق جنرل کیانی اور جنرل پاشاامریکیوں سے مختلف خیالات رکھتے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے’بی بی سی‘ کے مطابق میڈیا پر نشر فوٹیج سے دونوں اطراف سے تناوٴ واضح نظر آ رہا تھا۔ ہیلری کلنٹن کا پاکستان کا دورہ پہلے سے طے شدہ نہیں تھا جب وہ پاکستان آئیں تو کسی وزیر نے اْن کا استقبال نہیں کیا بلکہ دفتر خارجہ کے ایک پروٹوکول افسر چکلالہ ائربیس پر موجود تھے۔ حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سنیٹر صغری امام نے حکومت کی نمائندگی کی۔  ..........

/169