ابنا: اکتوبر 2008 کو پاکستان کے وزير خارجہ وقت شاہ مجمود قریشی نے توانائی کے موضوع پر چین کے ساتھ سمجھوتے کو ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ میں چین کی شمولیت کا پیش خیمہ قرار دیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن پروجیکٹ میں چین کی شرکت سے علاقے کے اقتصادی مسائل پر گہرے اثرات مرتب ہونگے۔ اس زمانے میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے چین کے موقع پر توانائی سمیت درجنوں سمجھوتوں نے پاکستان کو اس حوالے سے امید کردیا تھا کہ چین ایران سے پاکستان اور پھر چین تک گیس منتقل کرنے کے اس منصوبے میں ضرور شرکت کرےگا ۔ چین اور پاکستان کے درمیان ایٹمی شعبے میں تعاون روز افزوں اضافے کے پیش نظر پاکستان کی کوشش تھی کہ توانائی کے قدرتی ذخائر کے شعبے میں بھی چین کے ساتھ باہمی تعاون کو بھی فروغ دینا چاہیے۔چنانچہ اب یہ خبر کہ ایران پاکستان کے راستے چین کو گیس فراہم کرےگا پاکستانی عوام کے لئے کسی خوشخبری سے کم نہیں ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی وزارت تیل کے اعلیٰ حکام نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد نے چین کے لئے ایرانی گیس فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ایرانی وزارت تیل کے منیجنگ ڈائریکٹر حسین بیدار مغز کے مطابق ایران کو دنیا کی دو بڑی گیس کی کھپت کی مارکیٹوں چین اور یورپ کے مابین اپنےحریف ممالک قطر اور روس پر محل وقوع کی وجہ سے فوقیت حاصل ہے۔انہوں نے چین میں گیس اور ایل این جی کی ضرورت میں ا ضافے پر کہا کہ چین کی کھپت 2030 تک یورپ کے مساوی ہو جائے گی۔یاد رہے ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن معاہدے پر جون 2010ء میں دستخط کیے گئے تھے۔ایرانی حکام کے مطابق اس معاہدے کا مقصد پاکستان کو سالانہ 21 ملین کیوبک میٹرگیس فراہم کرنا ہے۔گيس پائپ لائن بچھانے کا کام 2014 تک مکمل ہوجائے گا۔پاکستان میں ایران کے سفیر ماشاءاللہ شاکری کے بقول ایران گیس پائپ لائن عنقریب پاکستان تک پہنچ جائےگي۔پاکستان کے ایک پڑوسی اور دوست ملک ہونے ناطے ایران اس وقت پاکستان کو ایک ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کررہا ہے اور اسے دوگنا کرنے کیلئے تیارہے۔بعض پاکستانی حکام کا خیال ہے کہ پاکستان میں گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ایرانی گيس سے حل ہوسکتاہے اور ایران کی گيس پائپ لائن کی سکیورٹی کی ضمانت دینا پاکستان کے فائدہ میں ہے۔اب جبکہ چین بھی اس سلسلے میں دلچسپی دکھا رہا تو، اسلام آباد بیجنگ کے درمیان گہرے تعلقات کے پیش نظر ایران گیس پائپ لائن پروجیکٹ پاکستان کی انرجی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ آمدنی میں اضافے کا ایک موثر اور بڑا ذریعہ بن جائےگا۔ایران اور پاکستان کے درمیان دوستی سے موسوم اس پرو جیکٹ کو امریکہ اچھی نظروں سے نہیں دیکھتا اس لئے امریکی حکام بارہا پاکستانی قیادت کو اس عظیم اور پرمنفعت پروجیکٹ سے منصرف کرنے کوشش کرتے رہے ہیں تاہم اپنی ضروریات اور مشکلات کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے اس معاملے میں امریکہ کو ہمیشہ ٹکاسا جواب دیا ہے۔ ..........
/169