16 اکتوبر 2011 - 20:30

آل سعود کا مستقبل پردہ ابہام میں / مکہ کے تقدس سے آل سعود کی لاپرواہی؛ انڈر ورلڈ کی موجودگی / سعودی شہزادی : سعودی شہزادی: آل سعود کی بدعنوانی عرب ملکوں میں بدعنوانی کا تسلسل ہے / سعودی خاندن کا اسرائیل نواز ـ امریکہ نواز اقتدار حاصل کرچکا ہے / آل سعود نے یمنی انقلابیوں کو قتل کرنے کے لئے دور مار بندوقیں روانہ کردیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل سعود کی بادشاہت جو اپنے آپ کو الشرقیہ کے عوام کے انقلاب کے سامنے پاتے ہیں، اس وقت امریکہ اور بعض دوسری قوتوں سے مل کر "بہار عربی" کی تحریکوں کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کرنے میں مصروف ہے اور دوسرے انقلابوں کو ناکام بنانے میں ہی اپنے عوامی انقلاب کی ناکامی کے لئے کام کررہی ہے۔ دوسری طرف سے آل سعود کے اندر بھی اقتدار کی رسہ کشی عروج پر ہے اور آل سعود کے اٹھاسی سالہ بادشاہ آج ہی کمر کے آپریشن کے لئے ریاض کے ایک اسپتال میں داخل کردیئے گئے ہیں۔ اور آپریشن کی کامیابی کی خبر بھی آگئی لیکن خاندان میں ان کے انتقال کے بعد کے لئے جھگڑوں کا سلسلہ جاری ہے اور آپریشن کی کامیابی کے باوجود بعض ذرائع نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ "سعودی سلطنت میں تبدیلی آرہی ہے؟"۔

ــ آل سعود کا مستقبل پردہ ابہام میںسعودی بادشاہ عبدالله بن عبدالعزیز کا تیسرا آپریشن آج انجام پایا تاہم آپریشن سے پہلے ہی آل سعود کی حکمرانی کے بارے میں مختلف قسم کی خبریں گردش کرنے لگی ہیں۔ آپریشن سے پہلے عبداللہ کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ بادشاہ کو کمر میں سخت تکلیف کے بموجب ریاض کے نیشنل گارڈز کے شفاخانے میں داخل کیا گیا ہے اور ان کا نیا آپریشن ہونے والا ہے۔سعودی بادشاہ کو ہونے والی تکلیف سنجیدہ ہے، 83 سالہ ولیعہد سلطان بن عبدالعزیز بھی عرصے سے سرطان کے عارضے میں مبتلا ہیں اور کبھی کبھی ان کے انتقال کی افواہیں بھی آنے لگتی ہیں اور خاندان کے اندر اب تیسری نسل کو بادشاہت کا عہدہ سونپنے کی ضرورت پر بحثیں ہورہی ہیں، عبداللہ کا بیٹا متعب بھی امیدوار ہے، سلطان کا بیٹا بندر کہتا ہے کہ چونکہ ان کے والد ولیعہد ہیں چنانچہ وہ بیمار ہیں تو ان ہی کو اگلا بادشاہ ہونا چاہئے، سابق بادشاہوں خالد اور فہد کے بیٹے بھی میدان میں ہیں اور فیصل کے بیٹے سعود الفیصل بھی امیدوار ہیں لیکن سب سے اہم امیدوار نائف بن عبدالعزیز ہیں اور بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اصل مقابلہ نائف اور متعب ہے درمیان ہے بہر حال بیمار بادشاہ اور بیمار ولیعہد کی وجہ سے مختلف قسم کی افواہوں کا بازار گرم ہے۔ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ بادشاہ کی ریڑھ کی ہڈی میں نقصان ہے۔دریں اثناء آل سعود کو اندرونی تحریکوں اور عرب انقلابات کا بھی سامنا ہے اور اس خاندان نے یمن اور بحرین پر فوجی جارحیت بھی کی ہے اور مجموعی طور پر سعودی حکومت کو درپیش مسائل بہت زیادہ اور تھکا دینے والے ہیں جبکہ علاقے میں شروع ہونے والی تحریکوں کا راستہ روکنا بھی نا ممکن نظر آتا ہے۔

ــ مکہ کے تقدس سے آل سعود کی لاپرواہی / انڈر ورلڈ کی موجودگی!!ایک سعودی ناول نگار نے "رجاء عالم" نے مکہ معظمہ کی پس پردہ مسائل کو فاش کرکے اپنے عرب پرستاروں کو چونکا دیا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ مکہ معظمہ کے بارے میں عمومی خیال کے بر عکس یہ مقدس شہر دنیا کے دوسرے شہروں سے مختلف نہیں رہا ہے۔مڈل ایسٹ آنلائن نے محترمہ رجاء عالم کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ انھوں نے برسلز میں مکہ کے انڈر ورلڈ کے بارے میں انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مکہ اور دنیا کے دوسرے شہروں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔رجاء عالم اپنی کتاب "خاتم" کی رونمائی کے لئے برسلز میں تھیں۔ ان کی کتاب فرانس کے "ایکت سود" پبلشرز نے طبع کی ہے۔ انھوں نے تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شدید سنسر کی بنا پر ان کی کتاب سعودی عرب میں نہ چھپ سکی۔انھوں نے کہا: سعودی عرب میں لوگ دو گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں ایک انتہا پسندوں اور شدت پسندوں کا گروہ اور ایک روشنفکروں کا گروہ۔انھوں نے کہا: انتہاپسند پسند گروہ کتابخوانی اور مطالعہ و تحقیق سے دور ہے اور جب مطالعہ کتب کے شوقین لوگ میری کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں اس کی قدر و قیمت بھی جانتے ہیں کیونکہ میں نے ایسے مقام کے بارے میں لکھا ہے کہ اگر اس کے بارے میں نہ لکھتی تو عین ممکن تھا کہ یہ مقدس مقام تباہی کی راہ پر گامزن ہوجاتا۔انھوں نے اپنی کتاب میں مکہ معظمہ کے پس پردہ حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے  لکھا ہے: مکہ معظمہ میں عیاشی کے لئے مکانات موجود ہیں جہاں مرد حضرات منشیات، موسیقی اور عورتوں کے لئے جایا کرتے ہیں۔ رجاء عالم نے بیسویں صدی کے دوران مکی سماج کا مرحلہ وار تعارف کرایا ہے اور لکھا ہے کہ زیر زمین دنیا مکہ معظمہ سمیت سعودی عرب کے اکثر شہروں میں پائی جاتی ہے۔

ــ سعودی شہزادی: آل سعود کی بدعنوانی عرب ملکوں میں بدعنوانی کا تسلسل ہےسعودی شہزادی نے سعودی عرب میں موجودہ بدعنوانیوں کو عرب ممالک میں جاری بدعنوانی کا حصہ قرار دیا۔سعودی عرب کی شہزادی بَسمه بنت سعود بن عبدالعزيز نے کہا کہ سعودی عرب میں جاری کرپشن عرب ممالک میں موجوہ کرپشن کا ہی حصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ عرب انقلابات کی بہار خطے کی اقوام کے لئے گرم موسم گرما اور فیصلہ کن مرحلے کی نوید دے رہی ہے۔  انھوں نے سعودی حکومت کو مشورہ دیا کہ بحرین اور یمن کے انقلابات کے حوالے سے "عام سیاسی منطق (Logic of General Policy)" کے تحت عمل کرے اور "محدود سیاسی منطق (Logic of Closed Policy)" کو ترک کردے کیونکہ علاقے میں تبدیلی کی ہوائیں اس طرح کی سیاسی منطق قبول نہیں کرتیں۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ بحرین میں سعودی مداخلت مناسب نہیں تھی تا ہم انھوں نے دعوی کیا کہ یمن میں سعودی مداخلت کا سبب یہ تھا کہ ایک بڑی یمنی اقلیت سعودی عرب میں بھی آباد ہے، سعودی عرب اور یمن کی مشترکہ سرحدیں ہیں اور سرحدی علاقوں میں بے تحاشا مشکلات اور دشواریاں پائی جاتی ہیں۔انھوں نے البتہ اس حقیقت کی طرف اشارہ نہیں کیا کہ تین یمنی صوبوں "العسير والجيزان و النجران" پر سعودی قبضے کی میعاد گذر چکی ہے اور یمنی انقلابیوں کا کہنا ہے کہ انقلاب کی کامیابی کے ساتھ ہی سعودی عرب سے اپنے مقبوضہ علاقے واپس لے لیں گے جس کی وجہ سے سعودی سرزمین کا ایک بڑا حصہ الگ ہونے کا خطرہ ہے چنانچہ سعودی عرب کو جہاں انقلاب کی کامیابی سے اپنے ملک میں تحریکوں میں شدت آنے کا خطرہ ہے وہیں اس کا جغرافیہ بھی خطرے میں ہے چنانچہ اس نے یمن میں ایک بار پھر فوجی مداخلت کی ہے۔ سعودی عرب نے2009 میں بھی صعدہ کے شیعیان اہل بیت (ع) کو کچلنے کے لئے یمن پر باقاعدہ فوجی چڑھائی کی تھی جس میں اس کو نہایت شرمناک شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔نیز سعودی شہزادی نے کہا کہ یمن میں سعودی عرب کا ایک کردار ہے لیکن اسلامی کانفرنس تنظیم اور عرب لیگ ابھی تک اس ملک میں سعودی عرب کا متبادل پیش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

بسمه بنت سعود نے زور دے کر کہا: علاقے میں موجودہ مشترکہ دولت، ورثہ اور مشترکہ اسلامی تشخص کی وجہ سے نئی تبدیلیاں نہ صرف تمام مسلمانوں بلکہ عیسائیوں اور تمام ملتوں اور قوموں کو متاثر کریں گی۔ انھوں نے کہا: دنیا میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے مغرب محتاطانہ عمل کرتا ہے، منصوبہ بندی کرتا ہے اور سازشیں تیار کرتا ہے اور اس امت کے اندر رونما ہونے والی ہر تبدیلی سے خائف ہے۔اسلامی بیداری کے مد مقابل کھڑے ہونے والے آل سعود کے خاندان کی اس چشم و چراغ اور عبداللہ بن عبدالعزیز کی بھتیجی نے عرب ممالک کے عوام سے درخواست کی کہ: بیدار ہوجاؤ، اپنے لئے پروگرام وضع کرو، اپنی قوت کا سہارا لے کر اپنے لئے خودمختار اور مستقل حکومتیں قائم کرو، اپنے حکام کو اپنوں میں سے منتخب کرو اور بیہودہ دوڑ دھوپ اور بے بسی کے اظہار سے اجتناب کرو۔ــ سعودی خاندن کا اسرائیل نواز ـ امریکہ نواز اقتدار حاصل کرچکا ہے ایک لبنانی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ اس وقت جبکہ سعودی فرمانروا بیمار ہیں وزیر خارجہ سعود الفیصل کی سرکردگی میں آل سعود کے اندر اسرائیل نواز ـ امریکہ نواز دھڑا اقتدار پر قابض ہوچکا ہے۔ وفیق ابراہیم نے کہا: ایران سعودی عرب کے بالکل قریب واقع ہے لیکن وہ آج تک سعودی عرب کو نقصان پہنچانے کا خواہاں نہيں ہے لیکن جو دھڑا اس وقت سعودی عرب میں برسراقتدار آیا ہے، بلاوجہ ایران کو مورد الزام ٹہرانے لگا ہے۔ انھوں نے کہا: ایران کی آزاد اور مستقل پالیسیوں کی بنا پر امریکی ایران اور علاقے کے دیگر ممالک کے درمیان فتنہ انگیزی کررہے ہيں اور امریکیوں کا ایران پر حالیہ الزام تاریخی پس منظر کا حامل ہے۔ امریکیوں کو عنقریب عراق سے نکلنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے امریکی اور سعودی خوفزدہ ہیں اسی بنا پر یہ دو ملک ایران کے خلاف ایک عرب محاذ قائم کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔وفیق ابراہیم نے کہا: امریکہ ایران کو تیرکی نوک (Arrowhead) سمجھتا ہے جس کو ختم کرنا چاہئے اور وہ غیر حقیقی بحران کھڑا کرکے ایران اور عرب دنیا کے درمیان فاصلے بڑھانا چاہتا ہے اور ان کے روابط میں رکاوٹیں کھڑی کردینا چاہتا ہے۔ انہوں نے ایران پر الزام تراشی کے سلسلے میں خلیج فارس تعاون کونسل کی جلد بازی اور اس کونسل کی جانب سے امریکی دعؤوں کی تائید، کی مذمت کرتے ہوئے کہا: کونسل کا یہ موقف کسی صورت میں بھی علاقے کے مفاد میں نہیں ہے۔

ــ آل سعود نے یمنی انقلابیوں کو قتل کرنے کے لئے دور مار بندوقیں روانہ کردیںیمن کے انقلابی نوجوانوں کے ترجمان "فخر العرب" نے فاش کیا ہے کہ آل سعود نے یمن کے انقلاب کو ناکام بنانے اور انقلابیوں کو قتل کرنے کے لئے دورمار بندوقیں (Sniper Rifles) یمن بھجوادی ہیں۔ فخر العرب نے کہا: آل سعود نے آمر علی عبداللہ صالح کی مدد کے لئے دور مار بندوقیں بھجوادی ہیں تا کہ وہ انقلابی نوجوانوں کو آسانی سے نشانہ بنا سکے۔انھوں نے کہا کہ آل سعود نے بین الاقوامی سطح پر بھی عبداللہ صالح آمریت کے لئے حمایت کی چھتری فراہم کردی ہے تا کہ وہ تسلی سے انقلابیوں کو کچل سکے اور دنیا والے بھی کوئی احتجاج نہ کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110