ابنا: وفد میں میر محمد صادق عمرانی، میر محمد امین عمرانی، میر جان علی چنگیزی، حاجی علی مدد جھٹک، آغا عرفان کریم، طاہر محمود خان، میر محمد یونس ملازئی، محمد اسماعیل گجر، اسفند یار کاکڑ اور جعفر جارج شامل تھے۔ اس موقع پر مس عاصمہ عالم گیر، بیگم شہناز وزیر علی اور مس رخسانہ بنگش بھی موجود تھیں۔ ملاقات کے دوران اراکین بلوچستان اسمبلی نے کوئٹہ میں تسلسل کے ساتھ ہونے والے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر صدر مملکت کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا اور ان کے تدارک کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ صدرآصف زرداری نے ان دلخراش واقعات پر افسوس کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور بتایا کہ اس ضمن میں وزیر داخلہ کو خصوصی احکامات جاری کر دئیے ہیں کہ بلوچستان حکومت کو سختی سے ہدائت کی جائے مذہب اور قومیت کے نام پر ہونے والی قتل و غارت بند کرائیں ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید ناصر علی شاہ نے کوئٹہ میں ہونے والی خونریزی اور قتل و غارت کا سلسلہ نہ رکنے پر بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر رکھاہے اور اپنا مطالبہ تسلیم کرانے کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا جاری ہے، جس کے بعد پیپلز پارٹی کے اراکین بلوچستان اسمبلی کی صدر مملکت سے ملاقات سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے ۔..........
/169