ابنا: مظاہرین جو کہ طالب علموں، اساتذہ، امریکی سوسائٹی کے روزگاروں اور بیروزگاروں اور ٹریڈ یونینز کے نمائندوں پر مشتمل ہیں امیر اور غریب میں دولت کے خطرناک فرق سے محتاط ہوچکے ہیں۔ 13 اکتوبر کی سی این این کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”وال سٹریٹ پر قبضہ کرو“ کے شرکاء خود کو 99 فیصد کہتے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر امریکیوں میں ملک کے سیاسی اور معاشی معاملات میں اثرورسوخ کی کمی ہے لیکن اس سے ایلیٹ لطف اندوز ہوتے ہیں۔ نیویارک کے مظاہروں نے اسی طرح کے مظاہرین کو ملک بھر میں ترغیب دی ہے۔ اگرچہ زیادہ تر مظاہرین پرامن ہیں لیکن ان میں سے کچھ کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں اور سینکڑوں گرفتار بھی ہوئے۔ چینل نے مزید کہا کہ مظاہرین نے مزید توجہ حاصل کرنے کیلئے براہ راست ویڈیو کے ساتھ ساتھ ویب سائٹ اور ٹوٹرفیڈ بھی بنا رکھا ہے۔ نیویارک کے میئر مائیکل بلوم برگ نے کہا ہے کہ حکام مظاہرین کے احتجاج کے حق کا دفاع کریں گے لیکن انہوں نے یہاں رہنے اور کام کرنے والوں کے شدید احتجاج کی تعریف نہ کی۔ چینل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوم برگ نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ ان مظاہروں کا مقصد کس چیز کا حصول ہے۔ بلوم برگ جوکہ خود ارب پتی ہیں اور وال سٹریٹ کے سابق ایگزیکٹو بھی انہوں نے ہڑتالیوں کا ہدف بننے والوں کا دفاع بھی کیا۔ امریکی نیوز چینل نے مزید بتایا کہ میئر کے اپنے بیانات کنٹرولر کے بیانات سے ملتے ہیں جن میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ وال سٹریٹ 2012ء تک 10 ہزار ملازمتیں کھو سکتا ہے۔ اس طرح کھوئی جانے والی ملازمتوں کی تعداد 32 ہزار ہوجائے گی۔ 13 اکتوبر کی سی این این کی رپورٹ میں پولیس ترجمان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بوسٹن سے 11 اکتوبر کو غیرقانونی طورپر جمع ہونے، مبینہ طورپر ٹریفک بلاک کرنے اور منتشر ہونے سے انکار پر 129 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔ دریں اثناء 13 اکتوبر کو ”وال سٹریٹ پر قبضہ کرو“ کی ویب سائٹ پر نیویارک میں رہنے والوں سے کہا گیا کہ وہ کنگز کنٹری سپریم کورٹ کے باہر جمع ہوں تاکہ نیلامی کی بندش پر آگاہی دی جا سکے جو کہ وہاں ہر ہفتے ہوتی ہے۔ ویب سائٹ پر کہا گیا کہ ہم اتحادی گروپ ہیں اور مزاحمتی تحریک کی تکنیکی مدد کیلئے پرعزم ہیں ہم ایک ہتھیار استعمال کرتے ہیں جسے پیپلز اسمبلی کہا جاتا ہے۔ ہم نیویارک سٹی کی جنرل اسمبلی کو بلاتے ہیں اور تمام قوموں کے لوگوں، جنسوں اور تمام عقائد کے لوگوں کو اسمبلی میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ ویب سائٹ پر مزید لکھا ہے کہ نیو یارک سٹی میں ہر ہفتے تمام پانچوں بلدیہ کارپوریشنوں میں گھروں کی نیلامی کی جاتی ہے اور بیچے جاتے ہیں مسٹر باز کم قیمت پر گھر خرید لیتے ہیں بنکس اپنی بکس کو متوازن کرنے کیلئے گھر خرید لیتے ہیں گھر کے مالکوں کو نکال دیتے ہیں اور گھروں کو خالی چھوڑ دیتے ہیں اور وال سٹریٹ کے بنکرز ان کو منافع پر بیچ دیتے ہیں وہ گھروں کے مالکوں کو شکارکرنے والے قرضوں سے ناممکن رہن کے ساتھ ورغلاتے ہیں اور سود کی شرح کا بھی کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ ویب سائٹ پیغام میں یقین دلایا گیا ہے کہ ہم تمہاری طاقت سے نہیں ڈرتے اور ہم بہتر دنیا کیلئے لڑتے رہیں گے ہماری تعداد ہر روز بڑھتی جائے گی ہم دوسروں کو بھی کہیں گے کہ وہ ہمارے ساتھ شامل ہوں تاکہ اپنی آزادی کو لاحق خطرے کو روکا جا سکے۔ ہم بوسٹن میں اپنی بہنوں اور بھائیوں سے کہیں گے کہ وہ بہادرانہ کارروائی کریں پولیس آفیسرز سے کہیں گے کہ وہ اس طرح کے احکامات کی حکم عدولی کریں اور یاد کریں وہ لوگوں کی خدمت اور حفاظت کرتے ہیں تم بھی 99 فیصد میں ہو۔ ہم اتنے زیادہ ہیں کہ ناکام نہیں ہو سکتے۔وال سٹریٹ پر قبضہ کیوں؟ کیونکہ یہ ہم سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ ہم کر سکتے ہیں۔ سی این این کی 5 اکتوبر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آج وال سٹریٹ مظاہرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے تیسرے ہفتے میں لوکل یونینز نے مساوات نہ ہونے منظم اداروں کی لالچ، بدعنوانی اور دوسری سماجی برائیوں کے خلاف مظاہرین کی مدد کرنے کا حلف اٹھایا سی این این نے نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین ایک فیصد امیروں کے اثر و رسوخ کی تنقید پر ڈٹے ہوئے ہیں مظاہرین نے پلے کارڈ ا ٹھا رکھے ہوتے ہیں اور ہم کارپوریٹ کی رسائی پر ملامت کرتے ہیں ہم بیروزگاری سے تنگ ہیں کے نعرے لگاتے یہں جبکہ کچھ مظاہرین نے مساوات نہ ہونے پر بات کرتے ہیں مجمع نعرہ لگاتا ہے تمام دن تمام ہفتہ وال سٹریٹ پر قبضہ امریکہ کے ٹاپ چینل نے مزید کہا کہ میڈیا کی اضافی توجہ حاصل کرنے کیلئے مقبوضہ وال سٹریٹ کے نام سے ایک اخبار بھی شروع کر دیا ہے گرفتاریوں پر ان کا کہنا ہے کہ وہ نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ اور میئر مائیکل بلوم برگ کیخلاف مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے غیر قانونی کوشش کرنے اور ان کو دبانے پر ان کیخلاف قانونی چارہ جوئی کر رہے ہیں گروپ میں اس وقت مزید شدت آ گئی جب 24 ستمبر کومرچ سپرے کیا یکم اکتوبر کو پولیس نے سینکڑوں مظاہرین کو بروک لین برج پر مارچ کرنے اور کئی گھنٹوں تک ٹریفک بلاک کرنے پر سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا امریکہ کے ایک دوسرے میڈیا گروپ اے بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق احتجاج 17 اکتوبر کو شروع ہوئے 30 ستمبر جمعہ کو تقریباً 15 سو مظاہرین نے نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹر تک احتجاج کیا مظاہرین جو کہ منظم اداروں کے لالچ اور سماجی عدم مساوات کیخلاف بول رہے تھے نے بتایا کہ پولیس نے ان پر غیر ضروری تشدد کیا۔ اے بی سی نیوز نے نیویارک کے میئر مائیکل بلوم برگ کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا کہ مظاہرین 40 سے 50 ہزار ڈالر سالانہ کمانے والوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جو اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے کوشش کر رہے ہیں یہ اس کی حقیقت ہے۔
..........
/169