14 اکتوبر 2011 - 20:30

کوئٹہ۔۔۔۔۔ جمعیت علماء اسلام کے قائدین نے کہا ہے کہ طالبان شوریٰ کے بہانے کوئٹہ پر امریکی جارحیت برداشت نہیں کی جائیگی، حکمران تدبراور حکمت کے بغیر ذاتی مفادات اور نقصانات کو سامنے رکھ کرفیصلے کر رہے ہیں جو کسی سانحے اور المیہ سے کم نہیں، ملک میں امن وامان نام کی کوئی چیز نہیں رہی، سیاسی و معاشی بحرانوں نے شدت اختیار کرلی ہے.

ابنا: علماء کو سیاست کیلئے پلیٹ فارم مہیا کرنا مفتی محمود کا کارنامہ ہے جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام کے امیر و کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن، مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری، جے یو آئی کے صوبائی امیر و اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی، مولانا گل نصیب خان اور دیگر نے جمعہ کو کوئٹہ میں مفتی محمود سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین نے کہا کہ مقتدر قوتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ ہماری سلامتی کیلئے خطرہ بن گیا ہے افغانستان پر اسامہ بن لادن کو بہانہ بنا کر حملہ کرنے والا امریکہ اب حقانی نیٹ ورک کا شوشہ چھوڑ کر پاکستان کو مرعوب کرنا چاہتا ہے اور کل طالبان شوریٰ کا بہانہ بنا کر کوئٹہ میں جارحیت کا جواز بھی تلاش کر سکتا ہے اگر ایسا ہوا تو جمعیت علماء اسلام خاموش نہیں رہے گی۔مقررین کا کہنا تھا ملک میں امن نام کی کوئی چیز نہیں معاشی اور سیاسی بحران عروج پر ہیں ملک میں ہرطرف افراتفری ہے تمام ادارے مفلوج ہو چکے ہیں حالات کا تقاضا ہے کہ مذہبی اور سیاسی قیادت مل بیٹھ کر ملک کو بحرانوں سے نکالیں اور ملک کو بحرانوں سے نکالنے اور عدل اور انصاف کیلئے مفتی محمودکے مشن کو جاری رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے حکمران جے یو آئی کی دلیل کو ما ن لیں تو ملک کو بچایا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب یہ صورتحال ہے کہ بلوچستان سمیت پورے ملک میں امن و امان کی صورتحال تباہ کن ہے اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث افراد کے قدموں کے نشانات بعض وزراء کے گھروں تک جاتے ہیں حکمرانوں کی نااہلی کے باعث روپے کی قدر تیزی سے گررہی ہے جس سے ملک بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے۔ صورتحال یونہی رہی توآئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنا ممکن نہیں رہے گا ایسے میں جمعیت علماء اسلام اپنا کردار ادا کریگی اور لوٹ و کرپشن کا خاتمہ کرے گی عوام ہمارا ساتھ دیں مولانا مفتی محمود کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا مفتی محمود نے مذہبی قوتوں کو سیاست کا پلیٹ فارم فراہم کیا اور ان کا یہ کارنامہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ...........

/110