14 اکتوبر 2011 - 20:30

کراچی ۔۔۔۔۔ اگرچہ امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پہلے کے مقابلے میں زیادہ کشیدہ ہیں لیکن یہ طے کرنا اب بھی بہت مشکل ہے کہ تعلقات کے خاتمے کیلئے دونوں میں سے پہل کون کرے گا۔ برطانوی جریدے ”اکنامسٹ“ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ عسکری حکام، سفارت کار، مبصرین اور سیاست دانوں کا اندازہ ہے کہ موجودہ صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ کشیدہ ہے۔

ابنا: 6/ دہائیوں کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ تعلق رکھنے والی دونوں ملکوں کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مابین تعلقات امریکا کی جانب سے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو آپریشن کے ذریعے ہلاک کیے جانے کے بعد سے بگڑ چکے ہیں۔ القاعدہ رہنما کی اس طرح ہلاکت سے پاکستان کو زبردست ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال سے اکثر پاکستانی خوش نظر آتے ہیں کیونکہ 80/ فیصد سے زائد عوام امریکا کے مخالف ہیں، ٹی وی ٹاک شوز میں تمام برائیوں کی جڑ امریکا کو قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی صدر بارک اوباما نے اشارتاً یہ کہہ دیا کہ بین الاقوامی برادری کو ”پاکستان کے رویے“ کا جائزہ لینا چاہئے۔ بظاہر مصالحت پر مبنی کوششوں کے طور پر اسلام آباد میں سی آئی اے کے اسٹیشن چیف کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ رواں سال میں یہ تیسری مرتبہ ہے کہ اسٹیشن چیف کو تبدیل کیا گیا ہے۔ امریکی پالیسی متنازع ہے۔ ایک طرف عسکری عہدیدار جہادیوں سے لڑنے کے خواہاں ہیں اور پاکستان کی جنوبی او رمشرقی افغانستان میں مداخلت پر ناراض ہیں؛ تو دوسری طرف امریکی سفارت کار پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے پریشان نظر آتے ہیں یا پھر مغرب میں پاکستان کے تعاون کے بغیر دہشت گردوں کے حملے روکنے کے معاملے پر پریشان ہیں۔ کئی لوگ تو پاکستان کے بطور ناکام ریاست تاثر پھیلنے سے پریشان ہیں۔ فی الوقت دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات برقرار ہیں لیکن کمزور پڑ چکے ہیں۔ امریکا نے فوجی امداد (جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ کئی ملین ڈالرز مالیت کی ہے) معطل کردی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کیلئے پاک فوج کو طے شدہ رقم کی ادائیگی بھی نہیں کی گئی جبکہ پاکستان سے امریکی تربیت کار بھی واپس نہیں گئے۔ امریکا ایسے معاملات کی حمایت بھی کرتا نظر آرہا ہے جس سے پاکستان ناراض ہوتا ہے؛ مثلاً بھارت کے افغانستان سے بڑھتے تعلقات، حامد کرزئی؛ جو گزشتہ ہفتے بھارت کی جانب سے ملنے والی امداد پر شکریہ ادا کرنے نئی دہلی پہنچ گئے تھے۔ پاک فوج نے بھی ایسی صورتحال کا محدود پیمانے پر جواب دیا ہے۔ یہ شمالی وزیرستان میں کارروائی کے مطالبے پر عمل نہیں کر رہی لیکن اس نے حقانی نیٹ ورک کے لوگوں کو افغانستان بھگا دیا ہے۔ اس دوران پاکستان یہ شکایت بھی کر رہا ہے کہ امریکا جہادیوں کے خلاف ناممکن مطالبات کر رہا ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ افغانستان ایک ایسا ایشو ہے جو امریکا اور پاکستان کے درمیان ایک معمہ بنا رہے گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صورتحال آئندہ چند ماہ کے دوران تبدیل ہوسکتی ہے کیونکہ آئندہ دو ماہ کے دوران افغانستان ایشو پر مختلف ملکوں میں اجلاس ہونے والے ہیں؛ پہلا استنبول میں جبکہ دوسرا بون میں ہوگا۔ پاکستان کیلئے صورتحال اس وقت بدتر ہوسکتی ہے جب امریکی صدارتی انتخاب کے دوران پاکستان کی کارکردگی بحث کا موضوع بن جائے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جوہری پھیلاؤ کے حوالے سے پاکستان ایک جانا پہچانا ملک ہے اور دیگر ممالک کے مقابلے میں یہی ملک امریکا کی ان کوششوں کو متاثر کر رہا ہے جن کے تحت جوہری اسلحہ کی تخفیف کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ امریکا بھارت کے ایک بہت بڑے حریف ملک پاکستان کے ساتھ عسکری اور اقتصادی تعلقات بڑھا رہا ہے لیکن پاکستان کی حکمرانی امریکی سفارت کاروں کیلئے مسائل پیدا کر سکتی ہے کیونکہ یہاں ضمیر فروش حکمران ہیں جبکہ فوج ایک نئی بغاوت کی خواہشمند ہے جبکہ مسائل پیدا کرنے والے صحافیوں کو بھی قتل کیا جا رہا ہے؛ اسلام پسند ایسے افراد کو ہلا ک کر رہے ہیں جنہیں لبرل کہا جاتا ہے۔ اگر پاکستان جیسے دوست ہوں تو امریکا کو دشمنوں کی کیا ضرورت؟ 
...........

/110