ابنا: رپورٹ کےمطابق یہ شام ميں بدامنی شروع ہونےکےبعد سے بشاراسد کی حمایت میں ہونےوالاسب سےبڑا مظاہرہ ہے۔واضح رہےکہ شام میں اغیارکےاشاروں پرشروع ہونےوالی بدامنی کےبعد سےشام کےعوام اب تک کئی بار اپنےملک کی خوودمختاری کےحق اور اغیارکی مخالفت میں مظاہرےکرچکےہيں ۔ شام کےصدرکےحق میں عوام کاعظیم الشان مظاہرہ ایک طرح سےبشاراسد کےحق میں ریفرینڈم کی حیثیت رکھتاہے جس نےپہلےسےکہیں زیادہ بشار اسد کی پوزيشن مضبوط کردی ہے۔ شام میں مارچ کےمہینےسےبدامنی کاسلسلہ شروع ہواہے جس میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکےہيں جس میں اکثرمرنےوالوں کاتعلق فوج سےہے ایسےعالم میں کہ جب مخالفین فوج کوعوام کےقتل میں ملوث قراردےرہےہيں شامی حکومت مضبوط شواہد وثبوتوں کی بنیاد پرعوام کےقتل میں دہشتگرد گروہوں ، بلوائيوں، تخریبی عناصراور غیرملکی ایجنٹوں کوملوث قراردےرہی ہے۔یہ ایسےعالم میں ہےکہ شام کےعوام نےگذشتہ مہینوں پرامن مظاہرہ کرکےسیاسی اورمعاشی اصلاحات کامطالبہ کیاہے۔ شامی حکام کی جانب سےبتدریج سیاسی ومعاشی اصلاحات پرعمل درآمد کےباوجود بعض مخالف گروہ بیرونی عناصرکےورغلانے اورگمراہ کرنےکی وجہ سےمظاہرین کی صفوں میں شامل ہوکرشام کےبعض شہروں کوپرتشدد مظاہروں کےمیدان میں تبدیل کردیاہے۔ مشرق وسطی کےحالات پرامریکہ کی مداخلت پسندانہ نظر اورعرب ممالک میں رونماہونےوالی تبدیلیوں کےسلسلےمیں واشنگٹن کےدہرےمعیارات نےاس امکان کومضبوط کیاہےکہ شام میں ہونےوالی بدامی کابڑا حصہ امریکی سازشوں کانتیجہ ہےجواس نےصیہونی حکومت کی مدد کرنےاور تل ابیب واشنگٹن سازش کےمشترکہ محورکومضبوط بنانےکےلئےکی ہے۔بہرحال شام کےعوام اس نکتےسےبخوبی واقف ہیں کہ ان کےملک کوغیرمستحکم کرنےکےلئے غیرملکی سازشیں ہورہی ہيں۔ان حالات میں شام کےعوام نےثابت کردیاہےکہ ان کےملک کےخلاف سازشیں کامیاب نہيں ہوں گی اور وہ ملک میں سیاسی ومعاشی اصلاحات کاپروگرام رکھنےوالےحکام کےساتھ ہيں اورمیدان میں عوام کی موجودگی شام کےنظام اورعوام کےدرمیان تعاون کےتعمیری ہونےکی عکاس ہےاور اس میں بھی کوئي شک نہيں کہ اس عمل کاتحفظ شام کودشمنوں کےشرسےمحفوظ رکھےگا۔............. /169
12 اکتوبر 2011 - 20:30
News ID: 271633
شام کےدارالحکومت دمشق میں بدہ کےروزمختلف طبقات سےتعلقات رکھنےوالےافراد نےصدربشاراسد کی حمایت میں مظاہرےکئے، مظاہرین نےشام ميں امریکہ اورمغربی ممالک کی سازشوں کی مذمت کی۔