11 اکتوبر 2011 - 20:30

انھوں نے کہا: آبادی میں کمی اہل بیت (ع) کے پیروکاروں کے لئے نقصان دہ ہے۔ کیونکہ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ان کی آبادی میں اضافہ ہوجائے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق  مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے بے جا توقعات، باطل تفکرات، مغربی ثقافت، تنوع پسندی اور بدگمانی اور بدظنی کو طلاق کی شرح میں اضافے کے اسباب قرار دیا اور کہا: اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ نوجوان شادی سے دوری کیوں کرتے ہیں اور طلاق کی طرف کیوں رجحان رکھتے ہیں۔ انھوں نے علماء، علم اخلاق کے اساتذہ اور جامعات کے ماہرین سے کہا کہ وہ اس معاشرتی مسئلے کے اسباب معلوم کریں۔ حضرت آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے بروز بدھ (12 اکتوبر 2011 کو) قم المقدسہ کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران طلاب اور فضلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا: طلاق کے اعداد و شمار میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ شادی کی شرح کم ہورہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے تباہی کی جانب جارہے ہیں اور خاندان کا نظام انتشار سے دوچار ہورہا ہے۔ لہذا اس مسئلے کے اسباب کا جائزہ لینا چاہئے۔آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا: اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ نوجوان شادی سے دوری کیوں کرتے ہیں اور طلاق کی طرف کیوں رجحان رکھتے ہیں۔ انھوں نے علماء، علم اخلاق کے اساتذہ اور جامعات کے ماہرین سے کہا کہ وہ اس معاشرتی مسئلے کے اسباب معلوم کریں۔انھوں نے کہا: آبادی میں کمی اہل بیت (ع) کے پیروکاروں کے لئے نقصان دہ ہے۔ کیونکہ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ان کی آبادی میں اضافہ ہوجائے۔انھوں نے آسان طلبی اور مغرب کی غلط ثقافت آبادی کو آبادی میں کمی کا اصل سبب قرار دیا اور کہا: بچے دنیا میں بھی کام آتے ہیں اور آخرت میں بھی کام آتے ہیں۔انھوں نے بچوں کے ناموں کے سلسلے میں کہا: اکثر لوگ اپنے بچوں پر مناسب نام رکھتے ہیں لیکن بعض لوگ صرف اجنبیوں کی اندھادھند تقلید کرتے ہیں اور غیر اسلامی نام رکھتے ہيں۔انھوں نے والدین کو ہدایت کی کہ وہ بچوں کے نام ہوی و ہوس کی بنیاد پر نہ رکھیں بلکہ بچوں کے مستقبل کو بھی مد نظر رکھیں۔ حضرت آیت‌اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اخلاقی مباحث بیان کرتے ہوئے مؤمن کے خصائل و خصوصیات کے سلسلے میں حضرت امام صادق علیہ السلام کی ایک حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: کچھ لوگ ہدایت پانے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوئے جبکہ وہ اس وہم میں مبتلا تھے کہ کہ گویا وہ ایمان لائے ہیں لیکن وہ گمراہ اور مشرک تھے۔ یہ لوگ درحقیقت حقیقت کے دروازے سے داخل نہیں ہوئے تھے جو قرآن اور اہل بیت (ع) کا دروازہ ہے۔انھوں نے کہا: بعض اوقات تعصب اور ہوائے نفس انسان کی آنکھوں اور عقل پر مسلط ہوجاتی ہے اور وہ اپنے آپ کو مسلمان اور مؤمن سمجھتا ہے جبکہ وہ گمراہ ہے، وہ سمجھتا ہے کہ کہ گویا وہ درگاہ خدا کے مقرّبین میں سے ہے، جبکہ وہ گمراہوں میں سے ہے۔ انھوں نے کہا: جو شخص نوح کی کشتی پر سوار ہونے سے احتراز کرے اور راہ حق پر گامزن نہ ہو وہ گمراہ ہوجاتا ہے۔حضرت آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے کہا: بے جا تعصب بے گناہ افراد کے قتل کا حکم جاری کرتا ہے اور متعصب افراد کو تلقین کرتا ہے کہ "اگر تو مارا جائے تو جنت سدھارے گا اور پیغمبر اکرم (ص) تجھے اپنی آغوش میں لے لیں گے؛ یہ بے جا تعصبات انسان کو سوچنے اور تفکر کرنے کی اجازت نہيں دیتے کہ بے گناہ انسانوں کا قتل اسلام میں پسندیدہ عمل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110