4 اکتوبر 2011 - 20:30

آیت الله مصباح یزدی نے دشمن کے ثقافتی و اخلاقی حملہ کو خطرناک جانا ہے اور کہا : علماء و روحانیوں کو چاہیئے کہ اس خطرہ کی گہرائی کو احساس کریں ، جان لیں کہ ایک فتوی اس مشکل کو حل نہی کر سکتا اور اس سے مقابلہ کرنے کے لئے کچھ خاص سرگرمیوں کی ضرورت ہے ۔

ابنا: آیت الله مصباح یزدی رھبری کونسل کے ممبر نے مدرسہ معصومیہ میں طلاب کرام و علماء عظام کے درمیان اس اشارہ کے ساتھ کہ علماء دین انبیائے خدا کے وارث ہیں اور اسی طرح ان کو چاہیئے کہ عوام تک حقیقت پہوچائیں، بیان کیا : پیغمبر کے نائب و جانشین کے لئے ضروری ہے کہ اس کام کو انجام دین جو کہ اگر پیغمبر (ص) موجود ہوتے تو انجام دیتے ۔انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ ان ذمہ داریوں پر عمل کرنے کے لئے علم کی ضرورت ہے وضاحت کی : درسوں کو تخصصی صورت میں پڑھنا اور اس زمانہ کے مطابق مختلف خصوصی شعبوں کا قائم کرنا بہت ضروری ہے ۔حوزہ علمیہ قم کے مشہور استاد نے نهج البلاغہ میں حضرت علی (ع) کی فرمائش کے مطابق کہ ظالموں کے ظلم سے مقابلہ علماء کی ذمہ داریوں میں سے ہے اظہار کیا : انقلاب اسلامی ایران سے پہلے اس ملک میں کتاب کا لکھنا اور تقریر و تبلیغ صرف علماء کی ذمہ داری تھی مگر امام خمینی (ره) نے بہت ساری مشکلات و پریشانیوں کو تحمل کر کے اس فکر کو بدل دیا ۔قرآن کریم کے اس مفسر نے ڈیش و اینٹرنیٹ کے ذریعہ دشمنوں کی ثقافتی حملہ عوام و خانوادہ کے درمیان پھیل چکا ہے اس کو اس وقت علماء کے لئے خاص ذمہ داری جانی ہے اور وضاحت کی : علماء و روحانیوں کو چاہیئے کہ اس خطرہ کی گہرائی کو احساس کریں ، جان لیں کہ ایک فتوی اس مشکل کو حل نہی کر سکتا اور اس سے مقابلہ کرنے کے لئے کچھ خاص سرگرمیوں کی ضرورت ہے ۔.........../169