ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر احمدی نژاد نے تہران میں فلسطینی انتفاضہ کی حمایت میں ہونے والی پانچویں کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے حامی مسئلہ فلسطین کو حل کرنا چاہییں تو اس مسئلہ کا سادہ اور آسان حل موجود ہے جسے رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں بیان کیا ہے کہ آوارہ وطن فلسطینی اپنے اصلی وطن میں آباد ہوجائیں اور فلسطین پر قبضہ کرنے والے غاصب لوگ اپنےاپنے اصلی وطن میں واپس چلے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینوں پر مظالم کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس کے بہت سے دردناک پہلو کھل کر سامنے آجاتے ہیں صدر احمدی نژاد نے کہا کہ آج دنیا میں جو بھی مسائل اختلاف کا شکار ہیں ان کے پیچھے امریکہ اور برطانیہ کا ہاتھ نمایاں طور پر موجود ہے انھوں نے کہا کہ یورپ میں اللہ تعالی پر انگلی اٹھائی جاسکتی ہے لیکن غاصب صہیونیوں کی تشکیل کے بارے میں بات نہیں کی جاسکتی انھوں نے کہا کہ حالیہ 100 برسوں میں کوئی ایسا ڈکٹیٹر نہیں گزرا ہے جس کی امریکہ نے حمایت نہ کی ہو امریکہ اسرائيل کی حمایت کرکے مشرق وسطی پر اپنے تسلط کوجاری رکھنے کی کوشش کررہا ہے اور امریکہ کی اس گھناؤنی پالیسی کا تاوان فلسطینی ادا کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کا وجود پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کی برکت سے مسئلہ فلسطین دوبارہ زندہ ہوگيا اور مظلومیت کی فہرست سے خارج ہوگيا ہے لیکن فلسطینی عوام کی مظلومیت کا سلسلہ آج بھی جاری ہے آج علاقہ میں اسلامی بیداری کی لہر پھوٹ پڑی ہے جو فلسطینی عوام کے حق میں ہے اور علاقائی اقوام ملکر فلسطینیوں کو ان کے گھروں میں آباد کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور اس راہ میں اللہ تعالی ان کی نصرت و مدد کرےگا ۔............ /169