ابنا: علامہ راجہ ناصر عباس جعفری مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں، آپ نے بہت کم عرصہ میں قیام کر کے پاکستان میں اہل تشیع کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی اور کافی عرصہ سے ملت میں پائی جانیوالی عدم فعالیت اور سکوت کو توڑا، ملت تشیع کو میدان عمل اور سڑکوں پر لے آئے۔ شیعیان پاکستان کی مجلس وحدت مسلمین اور راجہ ناصر صاحب سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ علامہ ناصر عباس جعفری نے مجمع جہانی اہل بیت (ع)کے اجلاس منعقدہ تہران میں شرکت فرمائی۔ اسلام ٹائمز نے قارئین کے بے حد اصرار پر مجمع جہانی اہل بیت (ع) کے تعارف، اغراض و مقاصد اور اہداف کے بارے میں راجہ صاحب سے گفتگو کی ہے، جو قارئین کے استفادے کیلئے پیش خدمت ہے۔علامہ صاحب، مجمع جہانی اہل بیت (ع) کا مختصر تعارف کرائیں، اسکا وجود کیسے عمل میں آیا، اور اسکا مرکزی دفتر یا سیکریٹریٹ کہاں واقع ہے۔؟علامہ ناصر عباس: بسم اللہ الرحمن الرحیم، مجمع جہانی اہل بیت (ع) حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے حکم پر بنایا گیا۔ اور اس میں پوری دنیا میں بسنے والی شیعہ کمیونٹیز کے مختلف طبقات شامل ہیں اس کا مرکزی سیکریٹریٹ تہران میں واقع ہے۔ جبکہ دنیا کے پچاس سے زائد ممالک میں مجمع جہانی اہل بیت (ع) کی برانچیں اور دفاتر موجود ہیں، نیز 100 سے زیادہ ممالک کے نمائندے اس کے ممبر ہیں۔ اور شورائے عالی اور مرکزی شوری دونوں شوریٰ میں ان ممالک کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اور تقریباً 3 دہائیوں سے یہ اپنے اہداف کے حصول کے لئے کام کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز:مجمع جہانی اہل بیت (ع) کی رکنیت کی کیا شرائط ہیں اور کون لوگ اس کے ممبر بن سکتے ہیں۔؟ علامہ ناصر عباس جعفری: تمام طبقات کی موثر شیعہ شخصیات بغیر کسی تفریق کے اسکی ممبر ہیں۔ جن میں علماء، خطباء، شعراء، زعماء، ادباء، ڈاکٹرز، تاجر، پروفیسرز، مخیر حضرات اور سوسائٹی کے تمام بااثر طبقات کے لوگ شامل ہیں۔ جو اپنے ممالک میں موجود مومنین کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز: مجمع کے اغراض و مقاصد اور اہداف کیا ہیں۔؟راجہ ناصر عباس صاحب: اسکی بنیاد اس غرض اور مقصد سے رکھی گئی تھی کہ دنیا بھر میں بسنے والی شیعہ کمیونٹی کو منظم کیا جائے، آپس میں مربوط کیا جائے، انہیں طاقتور بنایا جائے، اور شیعہ کمیونٹی کے اندر پایا جانے والا پوٹینشل اور خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار اور اجاگر کیا جائے۔ انکی درست مدیریت کی جائے، انہیں مثبت اہداف کے لئے استعمال کیا جائے۔ انہیں تمام میدانوں اور شعبوں کے اندر متحرک کرانا اور انہیں موثر اور فعال کرنا ہے۔ جیسے تبلیغی، رفاہی اور کلچرل سرگرمیاں، سیاسی، تعلیم و تربیتی امور اور اس جیسی دوسری مثبت اور معاشرے کے لئے ضروری امور۔ انکے ساتھ ساتھ شیعہ کمیونٹی کو درپیش مشکلات اور مسائل کو برطرف کرنے کے لئے اقدامات کرنا، اسکے اغراض و مقاصد میں شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز: علامہ صاحب یہ بتائیں کہ مجمع جہانی اہل بیت (ع) کے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم اہداف کیا ہیں۔؟ علامہ ناصر عباس:شیعہ کمیونٹی کو طاقتور بنانا، انہیں معاشرے میں ایک عمدہ مقام دلانا، انکے حقوق اور جان و مال کا تحفظ کرنا، انہیں تعلیم اور صحیح تربیت فراہم کرانا، انکے لئے دینی اور دنیوی تعلیم کے انسٹی ٹیوٹس بنانا وغیرہ مجمع کے اہداف میں شامل ہے۔ اسکے علاوہ ٹیلی ویژن چینلز کا قیام جیسے ایک چینل "ثقلین" کے نام سے ابھی شروع ہو گیا ہے، جس سے اس وقت انگلش اور عربی زبانوں میں پروگرامز نشر ہو رہے ہیں۔ اردو میں بھی بہت جلد پروگرام شروع ہونے والے ہیں۔ اسی طرح مجلات، نشر و اشاعت کا کام ہے، مکتب اہل بیت (ع) کی ترویج کے حوالے سے مختلف کتابوں کا انتخاب اور انکے ترجمے کا کام ہے، اسکے علاوہ تالیف و تصنیف کا کام ہے، اسکے علاوہ مختلف مقامات پر بسنے والے شیعوں کی مشکلات مثلاً بعض علاقوں کے شیعہ بہت نادار اور غریب ہیں، انہیں اپنے پاوں پر کھڑا کرنے اور فقر و فاقوں سے بچانے کی خاطر مالی معاونت فراہم کرنا، اسکے علاوہ یہ کہ بینکنگ، تجارت اور انسٹی ٹیوٹس کے حوالے سے کام کیا جائے، مساجد اور مدارس کے قیام کے حوالے سے کام کیا جائے۔ یہی اور اسطرح کے بہت سے دیگر پروگرامات اسکے اہداف میں شامل ہیں۔اسلام ٹائمز:یہ فرمائیں کہ مجمع جہانی اہل بیت (ع) کے حالیہ اجلاس میں کن مسائل پر بحث و گفتگو ہوئی، اور کیا تجاویز سامنے آئیں۔؟علامہ ناصر عباس جعفری:اس دفعہ کانفرنس کا موضوع اور محور بیداری اسلامی رہا، بیداری اسلامی کے حوالے سے شیعیان علی ع کے نقش اور رول پر گفتگو ہوئی۔ اور اسے اتحاد اسلامی کے لئے ایک نیک شگون قرار دیا گیا۔ بحرین کے مظلوم مسلمانوں کے حوالے سے آواز اٹھائی گئی۔ کسی حد تک پاکستان میں تشیع کی حالت زار خصوصاً پاراچنار کے شیعوں کے مسلسل محاصرے اور انکے خلاف سازشوں پر گفتگو ہوئی۔ اسکے علاوہ بھی مختلف ممالک کے نمائندوں نے اپنے ممالک کے مسائل پر گفتگو کی مگر کانفرنس کا محور جو تھا وہ بیداری اسلامی تھا۔ اور یہ تجاویز دی گئیں کہ اس میں شیعوں کا ایک مرکزی رول اور نقش ہونا چاہئے۔ نیز یہ کہ بیداری اسلامی کی تحریکوں کا ساتھ دینا چاہئے اور انکے حق میں آواز بلند کرنا چاہئے۔ اسلام ٹائمز: اس کانفرنس میں کن ممالک کے نمائندے شامل تھے؟ علامہ ناصر عباس: 100 سے زیادہ مسلم اور نان مسلم مملک کی شیعہ کمیونٹی کے مختلف طبقات کے 500 کے قریب نمائندوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔ جس میں یورپ کے مختلف ممالک برطانیہ، ناروے، جرمنی، امریکہ، بھارت، آسٹریلیا، سری لنکا اسی طرح اسلامی ممالک میں پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، لبنان، عراق، کویت، مصر، یمن، مراکش، تیونس، الجزائر، نائجیریا، سوڈان اور وسطی ایشیا کے ممالک اور اسی طرح سے کوئی 100 سے زیادہ مسلم اور نان مسلم ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ نمائندوں کی شرکت کے اعتبار سے اور شخصیات کے اعتبار سے یہ ایک بھرپور اور بے مثال کانفرنس تھی۔ اسلام ٹائمز: علامہ صاحب یہ فرمائیں کہ مجمع جہانی اہل بیت (ع) کا اجلاس کتنے عرصہ بعد ہوتا ہے اور کتنے دن جاری رہتا ہے۔؟علامہ ناصر عباس صاحب: دیگر ممالک میں لوکل سطح پر اسکے اجلاس تو ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن جو مرکزی اجلاس ہے وہ تقریباً ہر چار سال بعد تہران میں منعقد ہوتا ہے اور اس دفعہ یہ چار دن کے لئے تھا۔ جو روزانہ صبح سے نماز ظہرین اور پھر نماز اور کھانے کے وقفے کے بعد سے لیکر نماز مغربین تک مسلسل اجلاس جاری رہتا ہے۔ جس میں مختلف ممالک کے نمائندے لوکل مسائل اور اسی طرح بین الاقوامی اہمیت کے حامل مسائل جیسے مذھبی، کلچرل، تعلیمی، تربیتی، تبلیغی مسائل اور دیگر موضوعات پر گفتگو اور خطابات کرتے ہیں۔ پھر مختلف کمیشن بنتے ہیں۔ اس دفعہ پانچ کمیشنز تھے۔ ہر کمیشن کا اپنا اپنا فریضہ ہوتا ہے اور اجلاس کے اختتام پر باقاعدہ ایک اعلامیہ جاری ہوا۔ اسلام ٹائمز: راجہ صاحب، حالیہ اجلاس کا قابل ذکر پہلو کیا تھا، اور موجودہ اجلاس نے شرکاء پر کیا تاثر چھوڑا؟ علامہ ناصر عباس:اس اجلاس کا قابل دید اور یادگار لمحہ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای سے ملاقات تھی جو واقعی ایک معنوی اور روحانی ملاقات تھی، اسکے بعد جناب عالی کا وہ ولولہ انگیز، شیرین اور روحانی خطاب تھا جو انہوں نے روحانی اور مقدس مقام امام رضا علیہ السلام کے حرم میں فرمایا۔ انکے خطاب کے دوران بہت جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے، لوگ اپنے رہبر کو دیکھ فرط مسرت سے مسلسل رو رہے تھے۔ اور یہ یقیناً ایک معنوی ملاقات تھی اور یقیناً تاریخی لمحات تھے جو ایک روحانی اور مقدس مقام پر اپنے عظیم رہبر اور روحانی شخصیت سے ملاقات کے لئے نصیب ہوئے۔ دنیا کے مختلف ممالک کے نمائندوں کا رہبر معظم کے ساتھ ملنا ایک تاریخی اور زندگی کا ایک یادگار لمحہ تھا۔ جو انشاءاللہ شیعیان علی ع کی پیشرفت میں مفید ثابت ہو گا۔ راجہ صاحب، مجمع جہانی اہل بیت (ع) کے حالیہ اجلاس سے کونسے مثبت نتائج برآمد ہوئے یا مستقبل میں ایسے نتائج برآمد ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔؟ علامہ ناصر عباس جعفری: دیکھیں! ایک دفعہ پوری دنیا کے شیعہ طبقات کے نمائندوں کا آپس میں ملنا، ایک جگہ بیٹھ کر ایک دوسرے کے مسائل سے اطلاع حاصل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ اور یہ کہ پوری دنیا کے شیعوں کے نمائندوں کو ایک دوسرے کو قریب سے مطالعہ کرنے کا موقع فراہم ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔ اسکے علاوہ یہ کہ انکے مختلف مسائل کے مطابق تجاویز اور لائحہ عمل تیار کرنا اور مسائل کے حل کے لئے شعبے تشکیل دینا ایسی چیزیں ہیں۔ جسے ہم کانفرنس کے مثبت نتائج قرار دے سکتے ہیں۔...........
/169