ابنا: امریکہ شہر نیو یارک میں سینکڑوں افراد نے گذشتہ دو ہفتوں سے شہر کے معاشی سرگرمیوں کے علاقے سٹریٹ جنرل پر وال سٹریٹ پر قبضہ کرو کے نام پر دھرنا دیا ہوا ہے،احتجاج کرنے والوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔اس احتجاج کو مصر اور تیونس سمیت عرب دنیا کے مختلف ممالک میں شروع ہونے والی احتجاجی لہر طرز پر امریکہ کا اپنا اسپرنگ کہا جا رہا ہے۔کارپوریٹ لالچ، بنکوں کی مبینہ لوٹ کھسوٹ،
بے گھری اور بیروزگاریجیسے مسائل کے خلاف بیروزگار اور بے گھر امریکی وال سٹریٹ پر احتجاج کر رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ مظاہرین نے وال سٹریٹ پر ایک احتجاجی شہر آباد کیا ہوا ہے مظاہرین کے مطابق حکومت بڑے صنعت کاروں کے فائدے کے بارے میں سوچتی ہے۔ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ آس پاس موجود کھانے پینے کی دکانوں پر نیویارک کے کئی لوگ اپنے کریڈٹ کارڈ نمبر تک دے کر گئے ہوئے ہیں کہ احتجاج میں شامل نوجوانوں کو کھانا پینا دیا جائے۔سنیچر کی شام سینکڑوں احتجاج کرنے والوں نے وال اسٹریٹ سے لوئر مینہیٹن کی طرف بروکلین برج پر مارچ کرنا شروع کیا تھا۔ پولیس نے ٹریفک میں خلل ڈالنے کے الزام میں سات سو کے قریب مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔یہ گرفتاریاں شام تک جاری رہیں۔ مظاہرین اور پولیس کی بڑی تعداد ایک دوسرے کے سامنے آئی اور پولیس نے مظاہرین کو بیچ روڈ پر چلنے کے بجائے فٹ پاتھ پر چلنے کو کہا۔ سینکڑوں مظاہرین کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے سات سو افراد کو گرفتار کرلیا۔پولیس کا موقف ہے کہ یہ لوگ کھلی سڑک پر آکر ٹریفک میں رخنہ ڈال رہے تھے۔موقع پر موجود امریکی وکلا تنظییم نیشنل لائرز گلڈ کی وکیل بینا احمد کا کہنا تھا کہ مظاہرین کو پولیس نے سڑکوں پرگھسیٹا جس سے کئی زخمی ہوگئے۔ نیویارک پولیس کی ڈپٹی کمشنر نے اسکی تردید کی۔وال اسٹریٹ پر ہزاروں کی تعداد میں پولیس تعینات کردی گئی ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں سے پولیس کے ساتھ مظاہروں اور دھرنوں کے دوران مظاہرین کے ساتھ پکڑ دھکڑ جاری ہے۔نیویارک کے مالیاتی دماغ وال اسٹریٹ پر دھرنے والی اس تحریک کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اسکے پہلے دن نیویارک کے میئر بلومبرگ نے بیان دیا تھا ہمارے نوجوان کالجوں سے گریجوئٹ ہو کر نکل رہے ہیں جن کے لیے روزگار نہیں ہے اور ہم جو اس بہار مصر تیونس اور مشرق وسطی کے ممالک میں جو سماجی غصہ دیکھتے رہے تھے وہ اب ہماری گلیوں میں امڈ آیا ہے۔
...........
/169