29 ستمبر 2011 - 20:30

برطانوی روزنامہ انڈیپنڈنٹ نے لکھا ہے کہ آل خلیفہ خاندان کے اندر اقتدار کی رسہ کشی نئی صورت حال اختیار کرگئی ہے جس سے حکمران خاندان کو اندرونی محاذ آرائی اور شدید انتشار کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، گو کہ آل خلیفہ حکمران طاقت اور دھونس دھمکی اور اپنے مخالفین اور شیعہ اکثریت کو کمزور اور حقیر سمجھ کر حالات پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں اور دنیا والوں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ "بحرین کی صورت حال بہترین اور حالات پرسکون ہیں اور ملک استحکام کی راہ پر گامزن ہے"، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دو محاذوں پر گمسان کی جنگ ہورہی ہے: ایک طرف سے آل خلیفہ خاندان کے اندر جنگ جاری ہے اور دوسری طرف سے حکومت عوام کو مطالبات سے منصرف و منحرف کرنے کے لئے جان لیوا کوششوں میں مصروف ہے تا کہ وہ احتجاجی تحریک سے پیچـھے ہٹ جائیں۔برطانوی روزنامہ انڈیپنڈنٹ نے لکھا ہے کہ آل خلیفہ خاندان کے اندر اقتدار کی رسہ کشی نئی صورت حال اختیار کرگئی ہے جس سے حکمران خاندان کو اندرونی محاذ آرائی اور شدید انتشار کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکمران خاندان کا ایک دھڑا عوام کی خوشنودی کو اپنے اقتدار کی ضمانت سمجھتا ہے اور دوسرے دھڑے کا خیال ہے کہ عوام کو قرون وسطی کی روشوں سے دبا کر رکھا جانا چاہئے اور انہیں سوچنے اور بولنے کی جرات نہیں دی جانی چاہئے جبکہ بحرین کے عوام اب حکومت سے اجازت لئے بغیر سوچ چکی ہے اور فیصلہ بھی کرچکے ہیں اور بول بھی رہے ہیں چنانچہ آل خلیفہ کے معتدل دھڑا کہتا ہے کہ یہ صورت حال تشویشناک ہے اور اب اس پر قابو پانا مشکل ہے چنانچہ جلد از جلد معتدل پالیسیاں اپنائی جانی چاہئیں کہیں ایسا نہ ہو کہ مزید دیر ہوجائے!! اور یہ کہ یہ سب انتہاپسند قرون وسطائی دھڑے کے کرتوتوں کا نتیجہ ہے جبکہ انتہا پسند دھڑا سمجھتا ہے کہ معتدل دھڑے کا اعتدال ہی عوام کی جرات کا سبب بن گیا ہے ورنہ اس خاندان نے دو صدیوں سے اس ملک کے عوام پر حکومت کی ہے اور انہیں دبایا رکھا ہے اور اگر خلیفی حکمرانی بچانی ہے تو جبر و دباؤ کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے، عوام کو مارنا چاہئے، ڈرانا دھمکانا چاہئے، کام اور روزگار سے محروم کرنا چاہئے، بھوکا رکھنا چاہئے اور ان سے کسی قسم کی نرمی نہیں برتنی چاہئے؛ یہ جـھگڑا اس خاندان میں اس خاندان کی حکمرانی بچانے کے لئے ہے ورنہ دونوں دھڑے عوام کے دشمن ہیں ایک اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ سواری بھی لینی ہو تو کچھ کھلانا پڑتا ہے اور دوسرا سمجھتا ہے کہ سواری لو اور بھوکوں ماردو اختلاف یہی ہے۔ آل سعود کے حمایت یافتہ تا حیات وزیر اعظم خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ (جو نہایت خونخوار ہیں اور الزائمر کے مریض بھی ہیں) انتہا پسند دھڑے کے سربراہ ہیں جو بادشاہ کے چچا اور بادشاہ سے کہیں زیادہ اختیارات کے مالک ہيں اور بحرین میں آل سعود کی جارحیت کے بعد ان کے اختیارات میں مزید اضافہ ہوگیا اور دوسرے دھڑے کی سربراہی ولیعہد سلمان بن حمد آل خلیفہ کے پاس ہے جو وزیر اعظم اور ان کے سعودی حامیوں کے تشدد کی وجہ سے اپنا مستقبل تاریک دیکھ رہے ہیں اور وزیر اعظم کے سامنے نہایت بے بس ہیں۔ بیرونی نفری سے تشکیل یافتہ خلیفی فوج کا اختیار بھی وزیر اعظم کے پاس ہے۔ ان دو دھڑوں کے اختلافات 14 فروری کو شروع ہونے والے انقلاب کے پہلے ایام ہی سے واضح ہے لیکن انڈیپنڈنٹ کا خیال ہمارے خیال سے مختلف ہے۔برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ نے آل خلیفہ خاندان کے اندر اقتدار کی کشمکش کی اپنی سی داستان رقم کی ہے اور لکھتا ہے کہ کچھ پولیس افسروں کو عوام پر تشدد اور سیاسی اصلاحات کے لئے ہونے والے احتجاجی جلوسوں کو قلع قمع کرنے کے جرم میں برطرف کئے گئے تھے جس پر اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق 90 نان کمیشنڈ اردنی افسروں نے عوام کو کچلنے کے لئے شدید ترین حربے استعمال کئے تھے جس کی بنا پر انہیں برخاست کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ فوری طور پر بحرین سے چلے جائیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے آل خلیفہ حکومت کا مقصد کیا ہے یہ کسی کو نہیں معلوم؛ کیا آل خلیفہ حکومت ان افسروں اور سرکاری اہلکاروں کے ساتھ حقیقتاً سخت رویہ اپنانا چاہتی ہے جو سرخ لکیروں سے گذر گئی ہے اور عوام کے خلاف ناقابل قبول اقدامات کے مرتکب ہوئے ہیں یا پھر خلیفی حکومت چاہتی ہے کہ مارچ میں عوام کی بڑی تعداد کے قتل عام اور ظالمانہ کریک ڈاؤن کے عینی گواہوں کو بحرین سے دور کرنا چاہتی ہے تا کہ اگر کبھی عالمی سطح پر تحقیقات کا فیصلہ ہوا تو کوئی بھی ان اقدامات کی شہادت نہ دے سکے۔دوسرے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان افراد کی برطرفی شاہی خاندان کے اندرونی گہرے دراڑ کا پتہ دیتی ہے اور وہ یوں کہ آل خلیفہ کے بعض اراکین حمد بن عیسی کی اعلان شدہ اصلاحات کا عمل جاری اور اکثریتی آبادی کو پر سکون بنا کر ان کی احتجاجی تحریک کے خطرات کو کم کرنا چاہتے ہیں تا کہ اس طرح اپنے اور خاندان کے ان افراد کے درمیان ایک لکیر کھینچ لیں جو عوامی مطالبات کو نظر انداز کرتے رہے ہیں اور ان کی سرکوبی میں ملوث ہیں۔اسی حوالے سے پر امن مظاہروں کے ذریعے جمہوری تبدیلیوں کے لئے ہونے والے مظاہروں میں شریک 2500 سرکاری اہلکاروں کو کام پر واپسی کے احکامات ملے ہیں جنہیں مظاہروں میں شرکت کے الزام میں برطرف کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ انڈیپنڈنٹ کی یہ بات پوری طرح درست نہیں ہے اور ان افراد کو اگرچہ کام پر واپسی کی اجازت ملی ہے لیکن انہيں ابھی تک عملی طور پر کام دوبارہ شروع کرنے کی اجازت نہیں ملی ہے۔ لیکن مخالفین اور سیاسی مبصرین اگرچہ اس سرکاری اقدام کو مثبت قرار دیتے ہیں لیکن اس سرکاری اقدام میں تضادات پائے جاتے ہیں کیونکہ جن لوگوں کو کام پر واپس جانے کی اجازت ملی ہے ان میں وہ افسران اور نان کمیشنڈ افسران بھی شامل ہیں جنہوں نے جبر و تشدد کی انتہا کی ہے اور ان میں آل خلیفہ خاندان کی بڑی تعداد بھی شامل ہے جنہیں ترقیاں دے کر کام پر واپس بھیج دیا گیا ہے [اور صرف یہی لوگ کام پر واپس جاسکے ہیں]، مثلا مظاہرین کو ٹارچر کرنے کے حوالے سے بدنام زمانہ "رفاعہ سیکورٹی مرکز" میں آل خلیفہ خاندان کا ایک افسر ابھی تک اسی سینٹر میں تعینات ہے اور اس کو کسی قسم کے سرکاری اقدام کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔انڈیپنڈنٹ کے بقول بادشاہی خاندان کے انتہاپسند دھڑے کی قیادت خلیفہ بن احمد اور خالد بن احمد کررہے ہيں جو 40 سال سے بحرین کی وزارت عظمی کے عہدے پر قابض ہیں۔ یہ لوگ مظاہرین کی قطعی سرکوبی کے لئے آل سعود کی جارحیت کی حمایت کرتے ہیں اور ان ہی لوگوں نے خلیجی ریاستوں کی مشترکہ فورسز کی بحرین پر چڑھائی کے لئے راستے ہموار کردیئے تھے تا کہ خلیج فارس کی ریاستوں کی فورسز بحرین کے پرامن مظاہروں کے خلاف مشترکہ اقدام کریں۔ ان افراد اور سعودی و خلیجی فورسز کی مداخلت سے ولیعہد سلمان بن حمد کی کوششیں ناکام ہوگئیں جبکہ وہ مارچ میں بیرونی مداخلت اور کریک ڈاؤن سے قبل بحرین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت "جمعیۃ الوفاق" کے ساتھ سمجھوتے کے قریب پہنچ گئے تھے جس کے تحت احتجاج کا خاتمہ اور امن و امان کی بحالی ممکن ہوسکتی تھی۔ انڈیپنڈنٹ لکھتا ہے کہ یہ بات اور بھی ان اختلافات کو طشت ازبام کرتی ہے کہ اتنی سخت احکام کے بعد معطل پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹیوں پر واپس چلے گئے ہیں۔انڈیپنڈنٹ کی اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ انتہاپسند دھڑے کو خاندانی جھگڑے میں برتری حاصل ہے اور وہ جو چاہتا ہے ہوتا وہی ہے جیسا کہ کسی وقت خلیفی وزیراعظم نے کہا تھا کہ:"معیار وہی ہے جو میں کہتا ہوں، میری حمایت بھی معیار ہے اور میری مخالفت بھی معیار ہے اور جو میرا ساتھ دے گا ملکی وسائل کی تقسیم میں اسی کو ترجیح دی جائے گی؛ جو میری اور آل خلیفہ کی حکمرانی کی حمایت کرے گا ملک کے وسائل میں اسی کو حصہ ملے گا"۔[آل خلیفہ وزیر اعظم کی قرون وسطائی دھمکیاں: ہم قوم کو بھوکا رکھ کر کچل دیں گے تفصیل کے لئے یہاں رجوع کریں]۔

انڈیپنڈنٹ نے لکھا ہے کہ آل خلیفہ خاندان کے اندرونی اختلافات کی شدت کا ایک ثبوت یہ ہے کہ بادشاہ حمد بن عیسی کے اعلانات اور خلیفہ بن سلمان کے اقدامات میں خلیج بہت وسیع ہے؛ بادشاہ ابھی تک پرامن انداز میں مسائل حل کرنے کے خواہاں ہیں جبکہ خلیفہ بن سلمان اور ان کے حامی اس بات کے سخت خلاف ہیں۔ بادشاہ نے 2500 برخاست شدگان کو کام پر واپس لوٹانے کا اعلان کیا لیکن وزیر اعظم کے دھڑے نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ اور دوسری طرف سے آل سعود کے حمایت یافتہ انتہاپسندوں نے حتی ولیعہد سلمان بن حمد کو دیوار سے لگانے کا پروگرام بنایا ہے اور انہیں ولیعہدی سے ہٹانے کے درپے ہیں کیونکہ وہ موجودہ صورت حال کے پر امن حل کے خواہاں ہیں۔ انڈیپنڈنٹ نے یہ بھی لکھا ہے کہ وزیر اعظم کے زیر سرپرستی انتہاپسند دھڑے کے لوگ اپنے تشدد آمیز رویوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ احتجاج کرنے والے عوام کو ایران نے ایسا کرنے پر اکسایا ہے اور یہ کہ ایران بحرینیوں کو مسلح جدوجہد کی دعوت دے رہا ہے لیکن آج تک وہ اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے ہیں۔ بہرصورت آل خلیفہ خاندان کے اندرونی اختلافات بہت شدید ہیں اور ایک بار تو دو خلیفی دھڑوں کے درمیان مسلح جھڑپوں کی خبر بھی ذرائع ابلاغ کی زینت بنی۔

- آل خلیفہ خاندان میں شدید اختلافات / جھڑپوں میں کئی ہلاک اور زخمی

خاندانی جھگڑوں پر مبنی دیگر رپورٹیں:

- بحرین میں آل خلیفہ کے خلاف فوجی انقلاب / اپڈیٹ: اقتدار وقتی طور پر وزیر اعظم اور فوج نے سنبھال لیا ہے

- آل خلیفی تضادات: ایران کے ساتھ بہترین تعلقات/ ایران کے خطرے کے باعث سعودی فوجی تعینات رہیں گے

-  جمعہ 12 اگست 2011 انقلاب بحرین کا 180 واں دن / اپڈیٹ مفصل رپورٹ

جاری ہے۔