26 ستمبر 2011 - 20:30

پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے امریکہ میں اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ ہم امریکہ سے مدد لیتے ہیں لیکن ہماری معیشت اور فوج کا انحصار امریکہ پر نہیں ہے۔

ابنا: تحریر ثاقب اکبر،پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے امریکہ میں اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ ہم امریکہ سے مدد لیتے ہیں لیکن ہماری معیشت اور فوج کا انحصار امریکہ پر نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو امریکہ اپنے ایک اہم پارٹنر کو کھو دے گا۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی قیادت نے رفتہ رفتہ متبادل ذرائع پر انحصار میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ ماضی کی طرح اگر امریکہ نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں تو ان کا مقابلہ کیا جاسکے۔ پاکستان میں بہت سے لوگوں کی رائے ہے کہ امریکہ سے زیادہ تلخ اور کم شیریں روابط کے بجائے بہتر ہے کہ پاکستان امریکہ کے بغیر جینے کا فیصلہ کرے۔ دنیا میں جن ممالک نے بھی آزاد خارجہ پالیسی کے تحت عزت و آبرو سے جینے کا فیصلہ کیا ہے کامیابیوں نے ان کے قدم چومے ہیں۔ اس سلسلے میں مثال تلاش کرنے کے لیے ہمیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے برادر ہمسایہ ملک ایران نے امریکہ کی تمام تر سازشوں اور عالمی پابندیوں کے باوجود ہر شعبے میں جس طرح سے ترقی کی ہے وہ ہمارے لیے ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ امریکہ کی دوستی پر تو غالب کا یہ مصرعہ صادق آتا ہے: ہو ئے تم دوست جس کے دشمن اُس کا آسماں کیوں ہوشاید یہ سوال بعض لوگوں کو اچنبھے میں ڈال دے کہ کیا امریکی دھمکیوں اور ممکنہ جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کے پاس بھی کچھ آپشنز اور ایسے وسائل ہیں جن کی مدد سے وہ امریکہ کو جواب دے سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک اس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ اس کی ایک نہایت اہم دلیل پاک فوج کی طویل ترین کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد سامنے آنے والا ردّعمل ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق کور کمانڈرز کی ہنگامی کانفرنس نے امریکا کی طرف سے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ رابطے اور امریکی تنصیبات پر حملے میں تعاون کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور امریکہ کے ڈومور کے مطالبے کو تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاک فوج کے کمانڈروں نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ افغانستان سے پاکستان پر حملوں اور دراندازی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسی کارروائیوں کا سختی سے جواب دیا جائے گا۔ دوسری طرف ملک کی سیاسی قیادت کا جو مجموعی ردعمل سامنے آیا ہے وہ بھی خاصا حوصلہ افزا ہے حکومت اور اپوزیشن میں شامل تمام جماعتوں نے ممکنہ امریکی جارحیت کے مقابلے میں یکساں قومی موقف کا اظہار کیا ہے۔ عسکری اور سیاسی قیادت کے مابین ہم آہنگی کا یہ اظہار یقینی طور پر امریکہ کے لیے ایک زوردار جوابی پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اٹھارہ کروڑ عوام اس قومی موقف کی پشت پر کھڑے ہیں۔ ایسے میں ایٹمی اسلحے سے لیس پاک فوج ممکنہ جارحیت کے جواب میں جو بھی اقدام کرے گی وہ خطے میں نئی تاریخ رقم کرے گا۔ پاکستان کی سیاسی قیادت نے پہلے ہی امریکی موڈ کو بھانپ کر متبادل آپشنز پر کام شروع کر رکھا ہے۔ فوجی امداد کے ساتھ کڑی شرائط عائد کرکے امریکہ کی طرف سے اُسے روک دینے سے پہلے ہی کیری لوگر بل کے بارے میں پاکستان اور امریکہ کے مابین اختلافات منظر عام پر آ گئے تھے۔ اقتصادی تعلقات کے حوالے سے پاکستان نے چین، روس، ایران اور ترکی وغیرہ سے اپنے تعلقات کو بڑھانے کا فیصلہ اسی پس منظر میں کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایران کے ساتھ تجارت کو 1.2 بلین ڈالر سے 10بلین ڈالر سالانہ تک لے جانے کا فیصلہ خاص طور پر قابل ذکر ہے کیونکہ امریکہ کسی بھی ملک سے تعلقات کو قبول یا برداشت کر سکتا ہے لیکن ایران کے ساتھ پاکستان کے حقیقی اور ٹھوس بنیادوں میں روابط میں پیش رفت کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہیں کر سکتا کیونکہ ایران کو امریکہ دنیا میں اپنا دشمن نمبر 1 سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں توانائی کے شدید بحران کو جاننے کے باوجود امریکہ کو پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ قبول نہیں۔ دوسری طرف ایران مشکل حالات میں پاکستان کو مدد کی جیسی پیش کشیں کر رہا ہے انھیں مسترد کرنے کی پاکستان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ بہت سے مبصرین کے نزدیک پاک سرزمین سے نیٹو فورسز کی سپلائی لائن کاٹ دینے کا آپشن پاکستان کے ہاتھ میں سب سے بڑا عسکری ہتھیار ہے۔ اس لیے افغانستان میں موجود نیٹو فورسز کو70 سے 80 فیصد سپلائی اسی روٹ سے ہوتی ہے۔ یہ سپلائی لائن نیٹو فورسز کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ پاک فوج نے افغانستان کے اُس پار سے پاک فوج پر ہونے والے ایک حملے کے بعد جب یہ سپلائی بند کر دی تو امریکہ کو باقاعدہ پاکستان سے معذرت کرنا پڑی۔ یہ آپشن نہایت اہم ہے لیکن یہ بات پیش نظر رہنا چاہیے کہ امریکہ نے کسی بڑے فوجی اقدام کا فیصلہ کیا تو وہ بھی اپنے لیے متبادل کو سامنے رکھے گا۔ امریکہ کے علم میں ہے کہ ایبٹ آباد والے واقعے کے بعد پاکستان نے امریکہ پر دباﺅ ڈالنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔ بہرصورت اگر پاکستان یہ سپلائی روکنے کا سنجیدہ فیصلہ کر لے تو یقینی طور پر یہ ایک بہت بڑا فیصلہ ہو گا اور امریکہ پر دباﺅ میں جزوی طور پر کردار ادا کرے گا۔ امریکہ کے لیے سپلائی کے متبادل راستے مہنگے اور نسبتاً طویل تر ہیں۔ امریکہ پاکستان کی ریاست کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام لے کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی جا سکتا ہے تاکہ پاکستان کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے لیے عالمی برادری کو اپنے ساتھ شریک کر سکے۔ اگلے مرحلے میں کسی فوجی کارروائی کے لیے بھی امریکہ سلامتی کونسل کو استعمال کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کی امیدوں کا مرکز چین ہے۔ چین کے نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ مینگ جیان ژو نے پاکستان کے حالیہ دورے کے موقع پر کہا ہے کہ وہ پاکستان کو چین کی طرف سے حمایت کا یقین دلانے کے لیے آئے ہیں، چین اور پاکستان آزمودہ دوست ہیں اور دونوں ملکوں کی دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے سے اگرچہ چین سلامتی کونسل میں امریکہ کے ساتھ گوسلو(go slow) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے لیکن تزویراتی طور پر پاکستان سے دوستی کی چین کے لیے بہت اہمیت ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں بھی کہ چین جانتا ہے کہ خطے میں امریکی پالیسی کا ایک بنیادی مقصد ابھرتی ہوئی چینی قوت کو لگام دینا بھی ہے۔ امریکہ کی طرف سے بھارت کی سرپرستی اور نازبرداری کے پیچھے بھی ایک یہ مقصد کارفرما ہے۔ اگر امریکہ کا افغانستان میں اس وقت سب سے بڑا مقصد طالبان کو شکست دینا ہے تو اس میں شک نہیں کہ اس سلسلے میں امریکہ ابھی تک نہ فقط کامیاب نہیں ہو سکا بلکہ آج کابل میں اس کا اپنا ہیڈ کوارٹر بھی طالبان کے حملوں سے محفوظ نہیں۔ اسی بنیاد پر امریکہ پاکستان پر سیخ پا بھی ہے اور اپنی ناکامی کا الزام دوسروں پر لگا کر سرخرو ہونے کے درپے ہے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے امریکہ کی بے تابی کی اہم وجہ بھی یہی ہے۔ مذاکرات کی خواہش یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ امریکہ کو احساس ہے کہ وہ میدان جنگ میں طالبان کو شکست نہیں دے سکتا۔ پروفیسر برہان الدین ربانی جو سرکاری طور پر طالبان سے مذاکرات کے لیے مامور تھے کو خودکش حملے میں ہلاک کرکے طالبان نے مذاکرات کے لیے امریکی بےتابی پر اپنے ردعمل ہی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کی یہ رائے رہی ہے کہ مذاکرات میں اُن تمام گروہوں کو شامل کیا جائے جو افغانستان میں موثر ہیں اور جن میں حقانی نیٹ ورک بھی شامل ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ جب طالبان کو اپنی طویل فوجی موجودگی کے باوجود افغانستان میں شکست نہیں دے سکا تو وہ پاکستان کے خلاف نیا محاذ کھولنے پر کیوں آمادہ ہے۔ اگر پاکستان کے واقعی بعض طالبان گروہوں سے موثر رابطے ہیں تو پھر پاکستان کے خلاف امریکی جارحیت کی صورت میں امریکہ مخالف تمام گروہ اور قوتیں اس علاقے میں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں ایسی خبریں خاصی اہم ہیں جن کے مطابق طالبان افغانستان کے قائد ملا عمر پاکستان کے اندر بعض گروہوں کی کارروائیوں کی ہمیشہ مخالفت کرتے رہے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق ملا عمر کو اب یہ بھی احساس ہے کہ ایران کے بارے میں اُن کی حکومت کی پالیسی مناسب نہیں تھی۔ البتہ اس مقصد کے لیے طالبان کو فرقہ پرست اور تکفیری گروہوں سے برات کا اظہار کرنا ہو گا اور علیحدگی اختیار کرنا پڑے گی۔ ایران، پاک بڑھتے ہوئے تعلقات بھی اس حوالے سے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ممکنہ امریکی کارروائی کے پیش نظر پاک فضائیہ کو چوکنا کر دیا گیا ہے۔ جدید لڑاکا طیارے مغربی سرحدوں کے قریب پہنچا دیئے گئے ہیں۔ حفاظتی اقدامات کے تحت پاک فضائیہ کو مستعد رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پاک فضائیہ کے سابق سربراہ کہہ چکے ہیں کہ ہمارے پاس ڈرون طیارے مار گرانے کی صلاحیت موجود ہے۔ اگر پاک فضائیہ نے کسی امریکی طیارے کے خلاف کارروائی کی تو یقینی طور پر خطے میں صورت حال تبدیل ہو جائے گی اور پاک امریکہ جو آج تک اسٹریٹیجک پارٹنر رہے ہیں میدان جنگ میں ایک دوسرے کے سامنے آ جائیں گے۔ ردعمل کے طور پر امریکہ نے کوئی مزید کارروائی کی تو جنگ کا دائرہ پھیل بھی سکتا ہے جو اگر پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے تو امریکہ کے لیے بھی نہایت خطرناک ہو سکتا ہے۔ بعید نہیں کہ آخر کار امریکہ کو 2014ء سے بھی پہلے افغانستان سے اپنی افواج نکالنے کا فیصلہ کرنا پڑے۔ پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے امریکہ میں اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ ہم امریکہ سے مدد لیتے ہیں لیکن ہماری معیشت اور فوج کا انحصار امریکہ پر نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو امریکہ اپنے ایک اہم پارٹنر کو کھو دے گا۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی قیادت نے رفتہ رفتہ متبادل ذرائع پر انحصار میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ ماضی کی طرح اگر امریکہ نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں تو ان کا مقابلہ کیا جاسکے۔ پاکستان میں بہت سے لوگوں کی رائے ہے کہ امریکہ سے زیادہ تلخ اور کم شیریں روابط کے بجائے بہتر ہے کہ پاکستان امریکہ کے بغیر جینے کا فیصلہ کرے۔ دنیا میں جن ممالک نے بھی آزاد خارجہ پالیسی کے تحت عزت و آبرو سے جینے کا فیصلہ کیا ہے کامیابیوں نے ان کے قدم چومے ہیں۔ اس سلسلے میں مثال تلاش کرنے کے لیے ہمیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے برادر ہمسایہ ملک ایران نے امریکہ کی تمام تر سازشوں اور عالمی پابندیوں کے باوجود ہر شعبے میں جس طرح سے ترقی کی ہے وہ ہمارے لیے ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ امریکہ کی دوستی پر تو غالب کا یہ مصرعہ صادق آتا ہے: ہو ئے تم دوست جس کے دشمن اُس کا آسماں کیوں ہو

............

/169