ابنا: ہمارے اجداد نے اس کی تکمیل میں اپنا سارا مال و اسباب حتیٰ کہ اپنی جانوں تک کے نذرانے پیش کئے ہیں، لہٰذا آج بھی اپنے اجداد کی روایت پر چلتے ہوئے ملت جعفریہ اپنے دینی فریضہ کی تکمیل کی خاطر سرزمین پاکستان کے دفاع کے لئے میدان میں موجود ہے. علامہ مختار احمد امامی پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر نوابشاہ سے تعلق رکھتے ہیں، آپ قم المقدس کی سرزمین سے دینی تعلیم کے حصول کے بعد سندھ کے مختلف شہروں میں تبلیغات کا کام انجام دیتے رہے، آپ کئی کتابوں کے مترجم بھی ہیں، مجلس وحدت مسلمین سندھ کا سیٹ اپ بننے پر آپ کو صوبائی سیکریٹری جنرل کی ذمہ داری سونپی گئی اور آج آپ کی سرپرستی میں سندھ کے کئی اضلاع میں ایم ڈبلیو ایم کے اسٹرکچرز قائم ہو چکے ہیں، اسلام ٹائمز نے قارئین کو آپ کے خیالات سے آگاہ کرنے کے لئے ایک مختصر انٹرویو کیا، پیش خدمت ہے۔
اسلام ٹائمز:سرزمین پاکستان کچھ دنوں سے امریکی دھمکیوں کی زد میں ہے، آپ ان دھمکیوں کو پاک امریکا تعلقات کے تناظر میں کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
علامہ مختار امامی:پاکستان کی عوام بنیادی طور پر مذہبی رجحانات رکھتی ہے، فرقہ چاہے کوئی بھی ہو، عوام امریکہ سے اظہار نفرت کرتی ہے، جہاں تک بات ہے پاک امریکا تعلقات کی تو اس کو ہم پاکستانی عوام سے منسوب نہیں کر سکتے، یہ ہمیشہ سے ہی پاکستان کی حکومت اور امریکی حکومت کے مابین تعلقات شمار کئے جاتے ہیں، پاکستان کی عوام کو نہ کبھی پہلے ان تعلقات سے کوئی راحت میسر تھی اور نہ ہی آج ہے، تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کبھی کسی بھی ملت نے طاغوت کے آگے سر جھکایا ہے وہ ذلت کا شکار ہوئی ہے، آج امریکہ اگر پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے تو اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے، یہ امریکہ کا پرانا طرز عمل ہے کہ جس کو وہ اپنا دوست بناتا ہے بعد میں مفاد کی تکمیل کے بعد اس کے خلاف محاذ قائم کر لیتا ہے، عراق میں صدام حسین کی مثال ہمارے سامنے ہے، افغانستان میں طالبان کی مثال ہمارے سامنے ہے، غرض اس طرح کی کئی مثالوں سے عوام بخوبی واقف ہے، اب پاکستانی عوام پر یہ لازم ہو گیا ہے کہ اس امریکی طرز عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور واضح مؤقف اختیار کریں اور امریکہ کو یہ پیغام دیں کہ اب تک تم نے اپنے مفادات کے حصول کی غرض سے پاکستان کی سرزمین کو ہمارے حکمرانوں کے ذریعے سے بہت استعمال کیا ہے، لیکن اب پاکستان کی عوام اس سرزمین سے امریکی مداخلت کا خاتمہ چاہتی ہے اور اس کام کی تکمیل کے لئے میدان عمل میں ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔اسلام ٹائمز:اس سارے معاملے میں آپ حقانی نیٹ ورک کی حقیقت کو کہاں دیکھتے ہیں کیونکہ اب تو یہ باتیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ سابق افغان صدر استاد ربانی کے قتل میں کوئٹہ کی طالبان شوریٰ اور آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے؟علامہ مختار امامی:دیکھیں یہاں میں ایک سوال کروں گا کہ جن وجوہات کا ذکر امریکہ نے عراق پر حملے سے قبل کیا تھا، کیا وہ کیمیائی ہتھیار عراق سے بر آمد ہوئے، کیا دہشت گردی کے خلاف جنگ جن اہداف کی بناء پر شروع کی گئی تھی وہ پورے ہوئے، ہر گز ایسا نہیں ہوا ہے، بلکہ حقائق اس کے برعکس ہیں، اسامہ بن لادن کے پاکستان میں نام نہاد آپریشن کے پیچھے کون سا مقصد کار فرما تھا، یہ وہ سارے سوالات ہیں کہ جن کے جواب امریکا کو دینے چاہیئے لیکن امریکا اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے پاکستان پر الزام تراشی کر رہا ہے، کبھی حقانی نیٹ ورک کی پشت پناہی کا بہانہ بناتا ہے، کبھی پاکستان کی فوج پر اسامہ بن لادن کو حفاظت میں رکھنے کا الزام لگاتا ہے، میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ یہ سب مفروضہ ہیں کہ جن کی بنیاد پر وہ پاکستان میں دراندازی کرنے کا ماحول تیار کر رہا ہے، جیسا اس نے افغانستان میں کیا، جیسا اس نے عراق میں کیا، لیکن پاکستان کی عوام باشعور ہے اور امریکا کی ان چالوں کو اچھی طرح جانتی ہے۔اسلام ٹائمز:امریکی الزامات کے بعد وزیراعظم گیلانی نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی ہے اور اس میں وہ تمام جماعتوں کو دعوت دے رہے ہیں، آپ حکومت کے اس اقدام کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟علامہ مختار امامی:اس مسئلے پر تمام سیاسی مذہبی جماعتوں کو ایک جگہ جمع کرنا درست اقدام ہے مگر فقط اس طرح کی کانفرنس سے کسی نتیجے کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک حکمرانوں کی نیت صاف نہ ہو، لیکن پھر بھی شاید پہلی مرتبہ ہم نے اس حکومت کو اس طرح سے واضح مؤقف اپناتے ہوئے دیکھا ہے، اندرونِ خانہ وجوہات کیا ہیں اس پر بحث کرنا مناسب نہیں ہے لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ پاکستان کے حکمران پہلی مرتبہ امریکا کے سامنے اس طرح سے آئے ہیں کہ ملک کے تمام ادارے ان دھمکیوں پر ایک واضح مؤقف اختیار کئے ہوئے ہیں، اب یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی خودمختاری اور سالمیت کو برقرار رکھنے اور امریکی دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے فی الفور امریکی سفیر کو پاکستان کی پاک حدود سے نکال باہر کرے اور امریکہ کو یہ پیغام دے کہ ہمارے ملک کی عوام اپنی سرزمین سے امریکی تسلط کا خاتمہ چاہتی ہے۔اسلام ٹائمز:ان امریکی دھمکیوں کے بعد پاکستان کے دفاع کے لئے مجلس وحدت مسلمین کی کیا پالیسی ہے؟علامہ مختار امامی:آپ کی سرزمین آپ کی ماں ہے، دین میں اپنی سرزمین کی حفاظت واجب ہے، پاکستان ملت جعفریہ کی لازوال قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا، ہمارے اجداد نے اس کی تکمیل میں اپنا سارا مال و اسباب حتیٰ کہ اپنی جانوں تک کے نذرانے پیش کئے ہیں، لہٰذا آج بھی اپنے اجداد کی روایت پر چلتے ہوئے ملت جعفریہ اپنے دینی فریضہ کی تکمیل کی خاطر سرزمین پاکستان کے دفاع کے لئے میدان میں موجود ہے، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بھی یہ اعلان کر دیا ہے کہ امریکی حملوں کی صورت میں پاکستان کے ایک ایک انچ کا دفاع کیا جائے گا، لہٰذا مرکزی قیادت کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے ہم امریکہ پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اگر اس نے پاکستان پر حملے کی کوشش کی تو ملت جعفریہ کا بچہ بچہ اس سرزمین مقدس کی حفاظت کے لئے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو گا اور سرزمین پر ملنے والا شکست کا داغ اس کی قبر کی آخری اینٹ شمار ہو گا، انشاءاللہ۔اسلام ٹائمز:ایران اور چین اس ساری صورتحال میں پاکستان کو اپنی حمایت کا یقین بھی دلا چکے ہیں، کیا آپ کو نہیں لگتا اب وقت آ گیا ہے یہ تینوں ممالک اس خطے سے امریکی نفوذ کو ختم کرنے کے لئے ایک اتحاد تشکیل دیں؟علامہ مختار امامی:جہاں تک آپ نے ان تینوں ممالک کے اتحاد کی بات کی تو یہ موجودہ وقت و حالات کے مطابق درست اقدام ہو گا، ہم سب کے سامنے ہے انقلاب اسلامی کے بعد سے لے کر آج تک ایران امریکی عزائم کو سب کے سامنے پیش کرتا رہا ہے، امام خمینی رح نے فرمایا تھا کہ امریکہ شیطان بزرگ ہے اور آج رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای استعمار مخالف تحریکوں کے سالار ہیں، چین بھی گزشتہ کئی عرصے سے امریکہ کی جانب سے کئے گئے بعض اقدامات پر مخالفت میں رائے رکھتا ہے، صرف اور صرف پاکستان کی حکومت کا انتظار ہے کہ اگر ہمارے حکمران مخلص ہوں اور قائد اعظم کے فرمودات اور علامہ اقبال کی فکر کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں کا تعین کریں تو بعید نہیں کہ پاکستان اس خطے میں امریکی تسلط کے خاتمے کے لئے بننے والے اتحاد کا بنیادی رکن ہو، البتہ اس کے لئے ایران جیسی استقامت کی ضرورت ہے، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ استعماری نظام نابود ہو رہا ہے اور مظلومین جہان قیام کر رہے ہیں، مصر، تیونس، لیبیا، بحرین، یمن، سعودی عرب اور دیگر ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے، انشاءاللہ وہ دن دور نہیں کہ جب اس خطے سے بھی امریکی تسلط کے خاتمے کے لئے ایک تحریک جنم لے گی اور وہ تحریک ان امریکی دھمکیوں کے بعد بننا شروع ہو چکی ہے۔اسلام ٹائمز:امریکی دھمکیوں کے بعد پاکستانی حکومت کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیئے؟علامہ مختار امامی:دیکھیں میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ ظالموں کی نابودی کا وقت آن پہنچا ہے، پاکستانی حکومت پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ سب سے پہلے اپنے ملک سے امریکی سفیر کو بے دخل کرے، عالمی استعمار کے خلاف چلنے والی تمام تحریکوں کی اعلانیہ حمایت کرے، مصر کے عوام کو اپنی حمایت کا یقین دلائے، یمن میں لوگوں کا حوصلہ بڑھائے، بحرین میں نیشنل گارڈز میں موجود پاکستانی افراد کو فی الفور واپس بلائے، غزہ کے مظلوموں کی امداد کے لئے اقدامات کرے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سعودی عرب کو پاکستان، بحرین اور دیگر مسلم ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے روکے، اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان کی عوام ان حکمرانوں کے امریکہ مخالف رویہ کو محض ایک ڈرامہ تصور کریں گے، کہیں ایسا نہ ہو کہ مصر جیسی تحریک پاکستان میں بھی چل پڑے اور ان حکمرانوں کو کہیں منہ چھپانے کی بھی جگہ نہ ملے۔اسلام ٹائمز: اس ساری صورتحال میں قوم کے نام کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟علامہ مختار امامی:پیغام صرف یہ ہے کہ پاکستانی قوم کے پاس دو راستے ہیں ایک راستہ ذلت و رسوائی کا جبکہ دوسرا راستہ عزت و کامرانی کا ہے، اگر پاکستانی قوم اپنے دینی، ملی اور قومی فریضہ کی تکمیل کی خاطر اور امریکہ سے نجات حاصل کرنے کی غرض سے میدان عمل میں آتی ہے اور اپنی عظمت رفتہ کو بحال کرکے خودمختاری اور استقامت کے راستے پر قدم رکھتی ہے تو یہ قوم اپنی منزل پر ضرور پہنچے گی اور امریکہ اس ملک سے ذلیل و رسوا ہو کر نکلے گا اور یہ بات قوم کے لئے عزت و کامرانی ہے، لیکن اگر قوم حالات کو جانتے ہوئے معاملات سے بری الذمہ رہے گی اور اس ملک کو استعمار کے شکنجوں میں جکڑے رہنے کے لئے چھوڑ دے گی تو ہر منزل پر ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بنے گی۔ اب پاکستانی قوم کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کس راستے پر قدم رکھنا ہے، ہمیں امید ہے کہ پاکستان کی عوام اپنے 1947ء کے جذبے کو پھر اپنائے گی اور اپنی عظمت رفتہ کو بحال کرے گی۔
............
/169