ابنا: صدر مملکت محمود احمدي نژاد نے دوشنبہ کي رات نيويارک ، موريتانيا اور سوڈان سے تہران واپسي پر صحافيوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہ اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي اہم عالمي مسائل پر فيصلے کي اہم جگہ ہے لہذا ايراني قوم کو سرگرم اور موثر طريقے سے اس ادارے ميں حاضر اور اپنے موقف کو واضح اور شفاف طور پر بيان کرنا چاہئے -صدر مملکت نے اسي طرح امريکہ ميں اپني مختلف ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام ملاقاتوں ميں ايک مشترکہ بات ، موجودہ حالات سے عدم اطمينان تھا اور کوئي بھي امريکي حکام ، عالمي اداروں اور ان کے فيصلوں اور کارکردگي سے خوش نہيں ہے-
صدر مملکت نے اس بات کا زور ديتے ہوئے کہ آج ايراني قوم کا موقف ماضي سے کہيں زيادہ واضح اور ٹھوس شکل ميں عالمي سطح پر ابھر کر سامنے آرہا ہے اور اس کي حمايت ميں بھي وسعت آئي ہے کہا کہ آج ايراني قوم کے مقاصد پوري دنيا ميں پھيلتے چلے جارہے ہيں -
صدر مملکت نے اسي طرح کہا کہ آج قوميں بيدار ہو گئ ہيں اور يہ بيداري صرف عرب و اسلامي ملکوں تک ہي محدود نہيں ہے بلکہ پوري دنيا کے عوام ، موجودہ حالات سے ناخوش ہيں اور دنيا ميں انساني اقدار پر مشتمل عالمي نظام کي تشکيل کے خواہاں ہيں -...........
/169