25 ستمبر 2011 - 20:30

مشال سنٹر سے فارغ التحصیل ہونے کی تقریب کے بعد 17 سالہ حبیب الرحمٰن نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب مجھے یقین ہے کہ وہ طالبان نہیں بلکہ دہشت گرد تھے۔ اب مجھے پتہ چلا ہے کہ "صراط مستقیم" کیا ہے۔ اب میں دوسروں کو بتاؤں گا کہ طالبان کس طرح اپنے ذاتی ایجنڈے کو فروغ دینے کے لئے دہشت گردی کا سہارا لے رہے ہیں.

ابنا:

 

ضلع سوات کی تحصیل بری کوٹ میں پاک فوج کے زیر انتظام مشال (مشعل یا شمع) سکول میں چھ ماہ کا ایک کورس مکمل کرنے والے سترہ سالہ حبیب الرحمٰن نے بتایا کہ مذہبی ترغیب کے ہاتھوں وہ طالبان کے پاس چلا گیا جو اسے ایک خودکش بمبار بنانا چاہتے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ طالبان کے پراپیگنڈے کا ہم بہت پر اثر پڑا ہے کیونکہ بچوں کو آسانی سے متاثر کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس وقت خیبر پختونخواہ کی حکومت سوات میں بنیاد پرستی کے خاتمے کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ اور اب بچوں کو صحیح سمت میں ترغیب دینے کی خاطر متعدد تربیتی ادارے کام کررہے ہیں۔ چنانچہ اسلام کے نام پر جس غلط ترغیب نے بچوں کو دہشتگرد بنادیا تھا اب اسی طرح صحیح ترغیب انہیں معمول کی زندگی کی جانب لوٹنے میں بھی مدد دے رہی ہے۔ گزشتہ سال کے اختتام پر شروع ہونے والے منصوبے کا مقصد ان سینکڑوں بچوں اور نوعمر افراد کی مدد کرنا ہے جنہیں طالبان سے خطرہ ہے۔ طالبان نے 2007 میں سوات پر قبضے کا آغاز کیا تھا تاہم 2009 میں شروع ہونے والی فوجی کارروائی کے بعد شورش پسندوں کو وہاں سے بے دخل کر دیا گیا۔

مشال سنٹر سے فارغ ایک سابق شدت پسند کے تاثراتفارغ التحصیل ہونے کی تقریب کے بعد 17 سالہ حبیب الرحمٰن نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب مجھے یقین ہے کہ وہ طالبان نہیں بلکہ دہشت گرد تھے۔ اب مجھے پتہ چلا ہے کہ "صراط مستقیم" کیا ہے۔ اب میں دوسروں کو بتاؤں گا کہ طالبان کس طرح اپنے ذاتی ایجنڈے کو ” بنیاد پرستی کے خاتمے کے عمل میں دینی تعلیم کے اساتذہ، ماہرین عمرانیات اور نفسیاتی ماہرین شامل ہوتے ہیں۔ انہیں سب سے پہلے بچوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے انہیں دوست بنانا پڑتا ہے۔ پھر وہ اسلام اور جہاد کے بارے میں ان کے خیالات کو درست کرنے کا آغاز کرتے ہیں۔ “ فروغ دینے کے لئے دہشت گردی کا سہارا لے رہے ہیں۔ طالبان قبائلی علاقوں اور ملک کے دیگر حصوں میں سیکورٹی فورسز، سرکاری ملازموں اور نظریاتی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لئے نوعمر لڑکوں کو "چلتے پھرتے بم" کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان نے نوعمر لڑکوں کی آسانی سے متاثر ہونے جیسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں معاشرے میں دہشت گردی پھیلانے کے لئے کامیابی سے استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچے جانتے ہیں کہ معمول کی زندگی کی جانب لوٹنا انکے خاندانوں کے لئے خطرناک ثابت ہوگا کیونکہ طالبان انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تاہم ایک بمبار کی گرفتاری سے بہت سے دیگر بمباروں کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔ 3 ماہ دورانیے کی جنونی تربیتطالبان کسی لڑکے کو تربیت دیتے وقت جہاد اور جنگ کی مدح سرائی کرنے والے مذہبی ترانے سناتے ہیں۔ ان ترانوں سے بچوں کو ترغیب ملتی ہے اور وہ ترانے کے بول پر یقین کرنے لگتے ہیں۔ انکو ترانے میں موجود جذباتی الفاظ ہی سارا اسلام نظرآتا ہے۔ ترانے میں جو مواد انکو ملتا ہے اور وہ سنتے ہیں انہیں یہی حقیقت لگتی ہے۔ متعدد زیر حراست طالبان کمانڈروں اور متوقع خودکش بمباروں سے تفتیش کرنے والے ایک سیکورٹی عہدیدار نے بتایا کہ خودکش بمبار کی تربیت تین ماہ کے عرصے پر محیط ہے۔ طالبان کسی لڑکے کو تربیت دیتے وقت جہاد اور جنگ کی مدح سرائی کرنے والے مذہبی ترانے سناتے ہیں۔ ان ترانوں سے بچوں کو ترغیب ملتی ہے اور وہ ترانے کے بول پر یقین کرنے لگتے ہیں۔ نیز انہیں ایسی ویڈیوز دکھائی جاتی ہیں جن سے بچوں کے جذبات ابھرنے میں مدد مل سکے۔ دنیا کے کسی بھی گوشے میں ظلم کسی نے بھی کی ہو یہ انہیں مطلوبہ ٹارگٹ کا حوالہ دیکر انکے خلاف بھڑکا دیتے ہیں۔ضلع سوات کی تحصیل کبل کے 17 سالہ رہائشی اکرام اللہ نے یہ ترانے اور ویڈیوز سننے کے چند لمحوں بعد طالبان سے وفاداری کا حلف اٹھا لیا تھا۔ فارغ التحصیل ہونے کی تقریب کے بعد اخباری نمائندوں کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے اس نے کہا کہ ان جہادی ترانوں کا انسان پر گہرا اثر ہوتا ہے اور وہ آپ کو باور کراتے ” طالبان ایک طرف بچوں کو مذھب کے نام پر غلط ترغیب دے کر انہیں جنونی بناتے ہیں تو دوسری طرف انہیں یہ دھمکی بھی دیتے ہیں کہ تم نے خیانت کی تو تیرے خانوادے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا “ ہیں کہ جہاد کے علاوہ ہمارا کوئی فریضہ نہیں اور طالبان کے علاوہ کوئی نجات دہندہ نہیں۔ بچوں کو طالبان کے اثر سے بچانے کی خاطر والدین کے اقدامات فوج نے مئی 2009 میں آپریشن راہ راست کے دوران سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے دیگر اضلاع کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سینکڑوں بچوں کو بچایا جو نظریاتی پراپیگنڈے کا شکار تھے۔ بہت سے والدین نے طالبان کے ساتھ روابط رکھنے والے اپنے بچوں کو معاشرے میں دوبارہ ضم کرنے کے لئے فوج کے حوالے کر دیا۔ جبکہ وزیرستان میں واقع محسود علاقے کے بہت سے خاندانوں نے ایسے ہی خدشات اور اپنے بچوں کو طالبان کی بھرتی سے بچانے کے لئے، حفظ ماتقدم کے طور پر جنوبی وزیرستان سے باہر بھجوا دیا۔ 2009 سے ٹانک شہر میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں مقیم 17 سالہ ہارون محسود نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ میرے خاندان والے اس خطرے کے پیش نظر مجھے ٹانک لے آئے کہ طالبان مجھے خودکش بمبار کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔اکتوبر 2009 میں کالعدم دہشت گرد تنظیم "تحریک طالبان پاکستان" کے خلاف آپریشن راہ نجات نامی فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد ٹانک میں بے گھر افراد کی حیثیت سے مقیم قبائلی رہنما ملک سلطان نے بتایا کہ جن خاندانوں کو خطرے کا احساس نہیں ہوا ان کے بچے غلط ہاتھوں میں چلے گئے۔ بچوں کو معاشرے میں دوبارہ لوٹنے میں مدد دینے والے ماہر عمرانیات کامران فرید نے بتایا کہ طالبان کے ہتھے چڑھنے والے نوجوانوں کو بتایا گیا کہ فوج عوام کے خلاف ہے اور طالبان ملک بھر میں نفاذ شریعت کے لئے کام کر رہے ہیں۔ طالبان نے بچوں کو بتایا کہ وہ جلد ہی اسلام آباد پر قبضہ کر لیں گے اور ملک میں اسلامی نظام قائم کیا جائے گا۔ طالبان کی دھمکیوں سے خوفزدہ بچے فرید نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے اپنے خاندان کے اراکین کو قتل کرنے کی دھمکیوں کے بعد تین چوتھائی بچے طالبان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ کیونکہ طالبان ایک ” سکولوں میں کمپیوٹر، کشیدہ کاری، برقی آلات کی مرمت اور کپڑوں کی سلائی کے ہنر سکھائے جاتے ہیں۔ سکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد حکام ان پر نگاہ رکھتے ہیں اور ان کے رویے کے بارے میں معلومات جمع کرتے ہیں۔ “ طرف بچوں کو مذھب کے نام پر غلط ترغیب دے کر انہیں جنونی بناتے ہیں تو دوسری طرف انہیں یہ دھمکی بھی دیتے ہیں کہ تم نے خیانت کی تو تیرے خانوادے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ طالبان نے ان بچوں کے ذہنوں پر قبضہ جمانے کے لئے قرآنی آیات کی غلط تشریح کی اور فوج کے خلاف پراپیگنڈے اور شریعت نافذ کرنے کے نعروں نے ان بچوں کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کیے۔ وہ بچوں کو ایسی ویڈیوز دکھاکر فوج کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرتے ہیں جس میں فوج کے منفی پہلو آشکار ہوں۔بنیاد پرستانہ جذبات کے خاتمہ کا دشوار مرحلہحکام کی جانب سے ان بچوں کو طالبان کے چنگل سے چھڑانے کے بعد ان کی دوبارہ تربیت کا کام شروع ہوتا ہے۔ جن بچوں کے ذہنی خیالات تبدیل کئے گئے ہوتے ہیں وہ ابتدا میں گفتگو یا تعاون نہیں کرنا چاہتے۔ فرید نے کہا کہ ابتدا میں وہ طالبان کے ساتھ اپنے تجربے کے بارے میں گفتگو نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اپنے خوف کے باعث انہوں نے فوج سے بات نہیں کی۔ حتٰی کہ انہیں مجھ پر بھی اعتبار نہیں تھا مگر رفتہ رفتہ انہوں نے بتانا شروع کر دیا۔ بنیاد پرستی کے خاتمے کے عمل میں دینی تعلیم کے اساتذہ، ماہرین عمرانیات اور نفسیاتی ماہرین شامل ہوتے ہیں۔ انہیں سب سے پہلے بچوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے انہیں دوست بنانا پڑتا ہے۔ پھر وہ اسلام اور جہاد کے بارے میں ان کے خیالات کو درست کرنے کا آغاز کرتے ہیں۔ وہ لمبے بال اور داڑھی، بے گناہ افراد کو ہلاک کرنے اور دیگر مسائل پر ان کے ذہنوں میں موجود غلط تصورات کو ٹھیک کرتے ہیں۔ اسلام کے مرکزی دھارے کی تشریح کو قبول کرنے کے بعد یہ نوعمر بچے معمول کے رویے کا اظہار شروع کر دیتے ہیں اور پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کرنے لگتے ہیں۔ سکولوں میں کمپیوٹر، کشیدہ کاری، برقی آلات کی مرمت اور کپڑوں کی سلائی کے ہنر سکھائے جاتے ہیں۔ سکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد حکام ان پر نگاہ رکھتے ہیں اور ان کے رویے کے بارے میں معلومات جمع کرتے ہیں۔ طالبان کے شدت پسندانہ تعلیمات سے متاثر ان ” سوات میں فوجی کارروائی کے بعد فوج نے سابق طالبان کی مدد سے ان کے سابق ساتھیوں کی تلاش شروع کی۔ سیکورٹی اہلکاروں کے ہمراہ چوکیوں پر موجود چہرے چھپائے نوعمر لڑکے مسافروں کی نگرانی کرتے ہیں اور اپنے جاننے والے عسکریت پسندوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ “ بچوں کو معمول کی زندگی کی جانب لوٹانا بہت دشوار کام ہے۔ ایک سیکورٹی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان بچوں کو معمول کی زندگی کی جانب لوٹانا بہت دشوار کام ہے جن کے ذہنی خیالات تبدیل کر دیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچے جانتے ہیں کہ معمول کی زندگی کی جانب لوٹنا ان کے خاندانوں کے لئے خطرناک ثابت ہوگا کیونکہ طالبان انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ جو پہلے ہی انہیں ایسی دھونس دھمکیاں دیتے ہیں۔ تاہم ایک بمبار کی گرفتاری سے بہت سے دیگر بمباروں کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔

سابق دہشتگردوں کی موجودہ دہشتگردوں کی گرفتاری میں معاونت  طالبان کسی لڑکے کو تربیت دیتے وقت جہاد اور جنگ کی مدح سرائی کرنے والے مذہبی ترانے سناتے ہیں۔ ان ترانوں سے بچوں کو ترغیب ملتی ہے اور وہ ترانے کے بول پر یقین کرنے لگتے ہیں۔ سوات میں فوجی کارروائی کے بعد فوج نے سابق طالبان کی مدد سے ان کے سابق ساتھیوں کی تلاش شروع کی۔ سیکورٹی اہلکاروں کے ہمراہ چوکیوں پر موجود چہرے چھپائے نوعمر لڑکے مسافروں کی نگرانی کرتے ہیں اور اپنے جاننے والے عسکریت پسندوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرنے والے ایک اور فوجی افسر کا کہنا ہے کہ ہم نے اس طریقے سے کئی متوقع خودکش بمباروں کو پکڑا۔ سوات کے جنرل افسر کمانڈنگ میجر جنرل جاوید اقبال رمدے کے مطابق، سکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد نگرانی، نوعمر بچوں کو معاشرے میں دوبارہ ضم کرنے کے سلسلے میں اچھے نتائج کی حامل ہے۔ ہم اب تک کے نتائج سے مکمل مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو طالبان کے ہاتھوں سے بچانے کے لئے اجتماعی حکمت عملی ناگزیر ہے۔اس ضمن میں رمدے نے تاکید کی کہ تمام والدین اور دیگر سرپرستوں کو اپنے بچوں پر ہر وقت نظر رکھنی چاہیے تاکہ وہ غلط مقامات اور غلط لوگوں کے پاس نہ جائیں۔ اگرچہ کسی زمانے میں سوات اور جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے خودکش بمباروں کے ترب